لاگ ان
ہفتہ 16 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 10 دسمبر 2022
لاگ ان
ہفتہ 16 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 10 دسمبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
ہفتہ 16 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 10 دسمبر 2022
ہفتہ 16 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 10 دسمبر 2022

 ہماری کلاس میں تین غیر مسلم پڑھتے ہیں، انہیں دین کی دعوت دینا فرض کفایہ ہے یا فرض عین؟ کیا قیامت کے دن ان کے بارے میں سوال ہوگا؟ اور دعوت دینے کا طریقہ بھی بتادیں۔ 

الجواب باسم ملهم الصواب

 جو تبلیغ فرض ہے اس کی دو قسمیں ہیں فرض عین، فرض کفایہ۔ 

جو تبلیغ ہر مسلمان مرد وعورت پر اس طرح فرض ہے جس طرح نماز ، روزہ فرض ہے، اس کا حکم حضور اکرم ﷺ نے صاف صاف ہر ایک کے لئے ارشاد فرمایاہے جس کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کہا جاتا ہے۔

من رأی منكم منكرا فليغيره بيده، فإن لم يستطع فبلسانه، فإن لم يستطع فبقلبه، وذلك أضعف الإيمان. (صحيح مسلم (1/ 69)

ترجمہ: تم میں سے جوکوئی کسی برائی کو دیکھے اس پر لازم ہے کہ اس برائی کو اپنے ہاتھ سے مٹائے۔ اگر اس کی استطاعت نہ ہو تو اپنی زبان سے روکے، اگر اس کی استطاعت نہ ہو تو اپنے دل سے اس برائی کو مٹائے یعنی بوقت استطاعت مٹانے کا عزم رکھے، اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے ۔

اگر کوئی یہ فرض ادا کرنے میں کوتاہی کرے گا تو گویا اس کے اندر ایمان ہی نہیں ہے۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا طریقہ یہ ہے کہ جو لوگ آپ کے ماتحت اور زیر تسلط ہیں جیسے بیوی، اولاد، اور ملازم وغیرہ انہیں برائیوں سے روکنے کے لئے حدود اللہ کی پابندی کرتے ہوئے ہر ممکن کوشش کرنا فرض ہے، لیکن جو لوگ آپ کے ما تحت نہیں انہیں گناہوں سے روکنا ہر ایک پر فرض نہیں بلکہ فرض کفایہ ہے اور ایسے لوگوں کو گناہوں سے روکنے کے دو طریقے  ہیں ایک خطاب خاص  یعنی جس شخص سے بے تکلفی ہو اور اس کے بارے میں یہ علم ہو کہ اس کو کوئی بات سمجھائی جائے تو یہ برا نہیں مانے گا تو ایسے شخص کو کسی گناہ میں مبتلا دیکھ کر خصوصی  خطاب کرنا فرض ہے  اور دوسرا طریقہ یہ کہ عام مجمع میں معاشرے میں پھیلی ہوئی برائیوں اور فسادات اور خرابیاں خوب کھل کر بیان کی جائیں ۔

تبلیغ کی دوسری قسم فرض کفایہ ہے ایسی کوئی جگہ جہاں اسلام سے کوئی واقف نہیں تھا اور کسی ایک شخص نے بھی وہاں اسلام کا پیغام پہنچا دیا تو یہ فرض تمام مسلمانوں کی طرف سے ادا ہو گیا۔ اس وقت پوری دنیا میں کوئی ملک بھی ایسا نہیں ہے بلکہ کسی ملک میں کوئی جگہ ایسی نہیں جہاں اسلام کی دعوت  پہنچانا فرض کفایہ ہو، اس لئے کہ اس زمانے میں اسلام کی شہرت خود ہی دعوت بن کر پورے عالم میں پھیل چکی ہے اس لئے اب یہ ذمہ داری خود ان لوگوں پر عائد ہوتی ہے کہ مختلف مذاہب کی تحقیق کر کے حق و باطل مذہب کو پہچانیں اور جو مذہب حق ہے اس کا اتباع کریں ۔

لہذا صورت مسئولہ میں ساتھ پڑھنے والے غیر مسلم طلباء کو اسلام کی دعوت دینا نہ فرض عین ہے نہ فرض کفایہ ، بلکہ اسلام کی حقانیت کے واضح ہو جانے کے بعد خود ان پر لازم ہے کہ وہ اسلام کی تعلیمات میں غور و فکر کر کے اس کو قبول کریں ۔لہذا غیر مسلم طلباء کو اسلام کی دعوت نہ دینے پر آخرت میں سوال نہیں ہوگا۔ لیکن اگر ان سے بے تکلفی ہے یا اس بات کی امید ہے کہ اگر ان کو اسلام کی دعوت دی گئی تو و ہ اس کو قبول کر لیں گے توان کو اسلام کی دعوت دی جا سکتی ہے لیکن اس میں   خوش اسلوبی اور حکمت عملی سے کام لینا نہایت ضروری ہے  تاکہ غیر مسلم کے دل میں اسلام کی حقانیت پیدا ہو،  نہ یہ کہ وہ اسلام سے متنفر ہو جائے۔

ثم اعلم أنه إذا كان المنكر حراما وجب الزجر عنه، وإذا كان مكروها ندب، والأمر بالمعروف أيضا تبع لما يؤمر به، فإن وجب فواجب، وإن ندب فمندوب، ولم يتعرض له في الحديث لأن النهي عن المنكر شامل له، إذ النهي عن الشيء أمر بضده، وضد المنهي إما واجب أو مندوب أو مباح والكل معروف، وشرطهما أن لا يؤدي إلی الفتنة، كما علم من الحديث، وأن يظن قبوله، فإن ظن أنه لا يقبل فيستحسن إظهار شعار الإسلام، ولفظ من لعمومه شمل كل أحد رجلا أو امرأة، عبدا أو فاسقا أو صبيا مميزا إذا كان (مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، 8/ 3209)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4451 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔


لرننگ پورٹل