لاگ ان / رجسٹر
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022

سوال نمبر۱: میں نے ایک کال سینٹر میں نوکری شروع کی ہے، سوال یہ ہے کہ کیا ایسے کال سینٹر میں کام کرنا جائز ہے جہاں ہمیں کسی ہیلتھ انشورنس کی کمپنی کے بارے میں سروسز مہیا کرنی ہوں، لیکن مجھے یہ نہیں معلوم کہ وہ کال سینٹر اس ہیلتھ انشورنس کمپنی کا ہے یا پھر اس کال سینٹر کے ذریعے ہمیں صرف لوگوں سے اس کی پروڈکٹس اور سروسز بیچنی ہوتی ہیں۔ 

سوال نمبر۲: دوسرا سوال یہ ہے کہ ہم لوگوں کو باہر دوسرے ممالک میں کال کرنی ہوتی ہے اور اپنا تعارف کرواتے ہوئے اپنا نہیں بلکہ کسی دوسرے شخص کا تعارف کرانا ہوتا ہے اور ساتھ یہ بتانا پڑتا ہے کہ میں یہاں سے نہیں بلکہ اس ملک سے بات کررہا ہوں جہاں وہ کال کرنے والا رہتا ہے۔ کیا یہ جھوٹ کے دائرے میں شامل نہیں ہوگا؟

الجواب باسم ملهم الصواب

1۔ اگر کال سینٹر انشورنس کمپنی کا ہو یا اس کا کام صرف انشورنس کی پیشکش اور ترغیب چلانا ہو تو  دونوں صورتوں میں یہ نوکری کرنا جائز نہیں، اس کام کی تنخواہ بھی حرام ہے۔ کیونکہ انشورنس میں سود اور قمار دونوں شامل ہیں۔ اورسود و  قمار حرام ہیں، چنانچہ لوگوں کو اس کی جانب راغب کرنا بھی گناہ کے کام میں تعاون ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے: يٰٓاَيّهَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ (المائدہ:90) ترجمہ: ’’اے ایمان والو! شراب، جوا، بتوں کے تھان اور جوے کے تیرے یہ سب ناپاک شیطانی کام ہیں، لہذا ان سے بچو، تاکہ تمہیں فلاح حاصل ہو‘‘۔ 

ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَ تَعَاوَنُوْا عَلَی الْبِرِّ وَ التَّقْوٰی وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَی الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ (المائدة:2) ترجمہ: ’’اور نیکی اور تقوی میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرو، اور گناہ اور ظلم میں تعاون نہ کرو‘‘۔

2۔ خود کے تعارف میں کسی اور شخصیت کا نام اور پتا ظاہر کرنا جھوٹ اور دھوکہ دہی ہے۔اس سے بچنا واجب ہے۔

قال تعالی في ذم المنافقين: فَأَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِي قُلُوبِهِمْ إِلَی يَوْمِ يَلْقَوْنَهُ بِمَا أَخْلَفُوا اللَّهَ مَا وَعَدُوهُ وَبِمَا كَانُوا يَكْذِبُونَ (التوبة: 77) ترجمہ: ’’نتیجہ یہ کہ اللہ نے سزا کے طور پر نفاق ان کے دلوں میں اس دن تک کے لیے جما دیا ہے جس دن وہ اللہ سے جاکر ملیں گے، کیونکہ انہوں نے اللہ سے جو وعدہ کیا تھا، اس کی خلاف ورزی کی، اور کیونکہ وہ جھوٹ بولا کرتے تھے‘‘۔ 

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4393 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

لرننگ پورٹل