لاگ ان
ہفتہ 02 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 26 نومبر 2022
لاگ ان
ہفتہ 02 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 26 نومبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
ہفتہ 02 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 26 نومبر 2022
ہفتہ 02 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 26 نومبر 2022

مرغی کے انڈے کے اوپر بہت گندگی اور ناپاکی لگی ہوتی ہے۔ دکاندار اس کو ہاتھ لگا کر بہت سی چیزوں کو ہاتھ لگاتے ہیں۔ کیا اب وہ باقی چیزیں بھی ناپاک ہو گئیں ، اب جب وہ چیزیں گھر آئیں گی تو کیا ان کو پاک کر کے استعمال کرنا ہو گا؟ دوسرا ضمنی سوال یہ ہے کہ تھوڑا بہت پانی سے دھونے سےانڈوں کی گندگی مکمل صاف نہیں ہوتی۔ جب اس کو توڑتے ہیں تو تھوڑی بہت غلاظت اندر جانے کا بھی اندیشہ ہوتا ہے۔ کیا اس کو مکمل صاف کر کے(یعنی اس گندگی کا ایک نشان بھی باقی نہ رہے) اس کو کھانا چاہیے یا تھوڑا بہت گند جانے سے فرق نہیں پڑتا؟ 

الجواب باسم ملهم الصواب

انڈے کے ظاہری حصے پر اگر بیٹ لگی ہوئی ہو تو اس کا ظاہری حصہ بالاتفاق ناپاک ہے، اس لئے اس کے استعمال سے پہلے انڈے کودھو کر اوپر کے حصے کو پاک کر لینا ضروری ہے تاکہ گیلے ہاتھ لگنے سے اس کی نجاست نہ پھیلے  اور اگر انڈے كے ظاہری حصے پر بیٹ جیسی جسم دار نجاست لگی ہوئی نہ ہو بلکہ بالکل صاف ہو تو ظاہری حصہ کو پاک سمجھا جائے گا انڈے کی ناپاکی کامدار رطوبت فرج داخل (شرم گاہ کے اندرونی حصے کی تری )کی پاکی و ناپاکی  پر ہے اور رطوبت فرج  داخل کی پاکی اور ناپاکی کے بارے میں فقہاء کا اختلاف ہے لہذا اگر انڈا اوپر سے بالکل صاف بھی ہو تب بھی احتیاط کا تقاضا یہی ہے کہ اس کو دھو کر استعمال کیا جائے۔

(قوله: رطوبة الفرج طاهرة) ولذا نقل في التتارخانية أن رطوبة الولد عند الولادة طاهرة، وكذا السخلة إذا خرجت من أمها، وكذا البيضة فلا يتنجس بها الثوب ولا الماء إذا وقعت فيه، لكن يكره التوضؤ به للاختلاف. (الدر المختار وحاشية ابن عابدين، رد المحتار، 1/ 349)

وفي المجتبی: أولج فنزع فأنزل لم يطهر إلا بغسله لتلوثه بالنجس انتهی: أي برطوبة الفرج، فيكون مفرعا علی قولهما بنجاستها، أما عنده فهي طاهرة كسائر رطوبات البدن. (الدر المختار شرح تنوير الأبصار، ص: 46)

(قوله: برطوبة الفرج) أي: الداخل بدليل قوله أولج. وأما رطوبة الفرج الخارج فطاهرة اتفاقا اهـ ح. وفي منهاج الإمام النووي رطوبة الفرج ليست بنجسة في الأصح. قال ابن حجر في شرحه: وهي ماء أبيض متردد بين المذي والعرق يخرج من باطن الفرج الذي لا يجب غسله، بخلاف ما يخرج مما يجب غسله فإنه طاهر قطعا، ومن وراء باطن الفرج فإنه نجس قطعا ككل خارج من الباطن كالماء الخارج مع الولد أو قبيله. اهـ. وسنذكر في آخر باب الاستنجاء أن رطوبة الولد طاهرة وكذا السخلة والبيضة. (قوله: أما عنده) أي: عند الإمام، وظاهر كلامه في آخر الفصل الآتي أنه المعتمد. (الدر المختار وحاشية ابن عابدين/ رد المحتار، 1/ 313)

وفي شرح الطحاوي أن خرء الدجاجة والبط ونحو ذلك من الطيور الكبار التي لخرئه رائحة خبيثة نجس نجاسة غليظة بالاتفاق (مجمع الأنهر في شرح ملتقی الأبحر، 1/ 63)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4457 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔


لرننگ پورٹل