لاگ ان / رجسٹر
پیر 15 شوال 1443 بہ مطابق 16 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 15 شوال 1443 بہ مطابق 16 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 15 شوال 1443 بہ مطابق 16 مئی 2022
پیر 15 شوال 1443 بہ مطابق 16 مئی 2022

بعض حضرات کہتے ہیں کہ میت کے طرف سے قربانی جائز نہیں۔ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے جو امت کے طرف سے قربانی کی تھی وہ آپ صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ خاص ہے، محدثین کے اقوال سے اس پر دلیل دیتے ہیں۔ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی قربانی کرنے والی روایت کو محدثین کے اقوال کی روشنی میں ضعیف کہتے ہیں۔ اس کی تحقیق بھیج دیں، کیا واقعی اسی طرح ہے؟ ان روایتوں کے خاص اور ضعیف ہونے کا کیا جواب ہوگا؟

الجواب باسم ملهم الصواب

احناف کے نزدیک مُردوں كے ليے تمام بدنی و مالی عبادات کا ایصال ثواب کیا جاسکتا ہے۔ البتہ امام شافعی اور امام مالک رحمہما اللہ کے نزدیک میت کے لیے ان عبادات کا ایصال ثواب نہیں کیا جا سکتا جو محض بدنی ہوں، جیسے نماز اور تلاوت قرآن۔ ان کے علاوہ دیگر عبادات کے ذریعے ایصال ثواب کیا جا سکتا ہے۔ الغرض قربانی چونکہ عبادات مالیہ میں سے ہے اس لیے اس کے ذریعے سے ایصال ثواب پر تمام ائمہ متفق ہیں۔

صرح علماؤنا في باب الحج عن الغير بأن للإنسان أن يجعل ثواب عمله لغيره صلاة أو صوما أو صدقة أو غيرها كذا في الهداية، بل في زكاة التتارخانية عن المحيط : الأفضل لمن يتصدق نفلا أن ينوي لجميع المؤمنين والمؤمنات لأنها تصل إليهم ولا ينقص من أجره شيء ا هـ هو مذهب أهل السنة والجماعة، لكن استثنی مالك والشافعي العبادات البدنية المحضة كالصلاة والتلاوة فلا يصل ثوابها إلی الميت عندهما، بخلاف غيرها كالصدقة والحج۔۔۔ وفي البحر : من صام أو صلی أو تصدق وجعل ثوابه لغيره من الأموات والأحياء جاز، ويصل ثوابها إليهم عند أهل السنة والجماعة كذا في البدائع، ثم قال: وبهذا علم أنه لا فرق بين أن يكون المجعول له ميتا أو حيا. (رد المحتار، کتاب الصلاة، باب صلاة الجنائز، مطلب في زيارة القبور)

اس لیے اگر استطاعت ہو تو اپنی واجب قربانی کے علاوہ مزید نفلی قربانی کر کے اس کا ثواب اپنے مرحوم والدین، رشتہ داروں یا دیگر متعلقین کو پہنچانا جائز بلکہ بہتر ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے بھی اپنی امت کی طرف سے قربانی فرمائی تھی، اور اس قربانی کا رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خاص ہونا کسی شرعی دلیل سے ثابت نہیں۔

وقد صح «أن رسول الله صلی الله عليه وسلم ضحی بكبشين: أحدهما عن نفسه والآخر عمن لم يذبح من أمته»، وإن كان منهم من قد مات قبل أن يذبح(الدر المختار وحاشية ابن عابدين/ رد المحتار، 6/ 326)

الأصل أن كل من أتی بعبادة ما، له جعل ثوابها لغيره وإن نواها عند الفعل لنفسه؛ لظاهر الأدلة. وأما قوله تعالی: ﴿ وَاَنْ لَّيْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰی﴾ أي إلا إذا وهبه له، كما حققه الكمال، أو اللام بمعنی علی كما في : ﴿وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ﴾ ، ولقد أفصح الزاهدي عن اعتزاله هنا والله الموفق. (الدر المختار وحاشية ابن عابدين/ رد المحتار، 2/ 595)

اسی طرح حضرت علی کرم اللہ وجہہ رسول الله ﷺ کی طرف سے قربانی كيا كرتے تھے اور فرماتے کہ مجھے میرے خليل نے اس قربانی کی وصیت فرمائی ہے۔ اس حدیث کے ذیل میں صاحبِ مرعاۃ المفاتیح شارح مشکاۃ المصابیح لکھتے ہیں کہ میت کی طرف سے قربانی کے جواز کا قول دلائل شرعیہ کے مطابق ہے اور اس کے منکرین کے پاس کوئی دلیل موجود نہیں، کیونکہ یہ فعل خود رسول اللہ ﷺ سے بھی ثابت ہے۔

والحديث يدل علی أن التضحية تجوز عمن مات، قال الترمذي: قد رخص بعض أهل العلم أن يضحی عن الميت ولم ير بعضهم أن يضحی عنه، وقال عبد الله بن المبارك: أحب إلي أن يتصدق عنه ولا يضحی، وإن ضحی فلا يأكل منها شيئاً ويتصدق بها كلها انتهی. قال في غنية الألمعي ما محصله: إن قول من رخص في التضحية عن الميت مطابق للأدلة، ولا دليل لمن منعها، وقد رواه أبوداود، وروی الترمذي نحوه. ثبت أنه – صلی الله عليه وسلم – كان يضحي بكبشين؛ أحدهما عن نفسه وأهل بيته والآخر عن أمته ممن شهد له بالتوحيد وشهد له البلاغ، ومعلوم أن كثيراً من أمته قد كانوا ماتوا في عهده – صلی الله عليه وسلم -، فدخل في أضحيته – صلی الله عليه وسلم – الأحياء والأموات كلهم، ولكبش الواحد الذي يضحي به عن أمته كما كان للأحياء من أمته كذلك كان للأموات من أمته بلا تفرقة. (مرعاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، ٥/ ٩٤)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر3093 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

لرننگ پورٹل