لاگ ان / رجسٹر
ہفتہ 20 شوال 1443 بہ مطابق 21 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
ہفتہ 20 شوال 1443 بہ مطابق 21 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
ہفتہ 20 شوال 1443 بہ مطابق 21 مئی 2022
ہفتہ 20 شوال 1443 بہ مطابق 21 مئی 2022

کیا ایک سنی مسلمان لڑکی کا نکاح بوہری شیعہ لڑکے سے کیا جا سکتا ہے یا کرنا جائز ہے یا حرام ہے؟ اگر انجانے میں ایسا ہو چکا ہو تو اس سے ہونے والی اولاد کے بارے میں شریعت کیا رہنمائی کرتی ہے؟ مہربانی ہوگی تفصیلی جواب عنایت فرمائیں۔

الجواب باسم ملهم الصواب

بوہری مذہب کے چند عقائد ذیل میں ذکر کیے جا رہے ہیں جو گجراتی زبان میں شائع کردہ ایک کتا بچہ سے لیے گئے ہیں، اس میں ان کے داعی جس کا لقب ’’برہان الدین‘‘ ہے، کہتے ہیں:

سورہ النجم میں ’’والنجم اذاھوی‘‘ کہہ کر اللہ تعالیٰ نے داعی سیدنا نجم الدین کی بزرگی اور عظمت کی قسم کھائی ہے اور انہیں نجم کا لقب دیا ہے واضح رہے کہ نجم الدین موجودہ پیشوا برھان الدین کا دادا تھا۔ (معاذاللہ )

مزید لکھا ہے کہ یہ آیت  قدجاء کم برھان من ربکم وانزلنا الیکم نورا مبینا. پیر بُرھا ن الدین کے لئے ہے۔ (معاذاللہ )

مجھے حضرت محمد ﷺکے اختیارات حاصل ہیں اور میں بھی شارع ہونے کے وہ جملہ اختیارات رکھتا ہوں جو رسول اللہ ﷺکو حاصل تھے۔ (معاذاللہ )

برھان الدین لکھتا ہے کہ میں اختیار کلّی رکھتا ہوں کہ قرآنِ مجید کے احکام و تعلیمات اور شریعت کے اصول و قوانین میں جب اور جس وقت چاہوں ترمیم کرتا رہوں۔ (معاذاللہ )

میرے تمام ماننے والے میرے ادنیٰ غلام ہیں اور اُن کے جان و مال، ان کی پسند نا پسند اور ان کی جملہ مرضیات کا مالک میں اور صرف میں ہوں۔

میں خیرات و صدقات کے نام سے وصول ہو نے والی جملہ رقوم کو خود اپنی ذات اور اپنے خاندان پر خرچ کرنے کا بلا شر کت غیر مجازہوں اورکسی کو یہ حق نہیں کہ وہ اس سلسلے میں مجھ سے کچھ پوچھے کوئی سوال کرے۔

میں کسی بھی ملک میں حکومت کے اندر حکومت ہوں اور میرا حکم ہر ملک میں میرے ماننے والوں کے لئے اس ملک کے مرو جہ قانون سے افضل ہے جسکی پابندی ضروری ہے خواہ وہ میرا حکم اس ملک کے آئین و قانون کے منافی ہی کیوں نہ ہو۔

میں تمام مساجد، قبرستان خیرات و زکوٰۃ اور بیت المال کا مطلق مالک ہوں بلکہ نیکی بھی میری ملکیت ہے میری طاقت و قدرت عظیم اور مطلق ہے میری اجازت اور میرے آگے سر تسلیم کئے بغیر کسی کا بھی کوئی نیک عمل بارگاہِ خداوندی میں قابل قبول نہیں۔

جس کسی کو میں مجاز نہیں ہوا اس کی نمازیں بھی فضول ہیں۔ میری اجازت کے بغیر حج درست نہیں ۔

واضح رہے کہ گجراتی زبان میں یہ کتاب: ’’کیا یہ لوگ مسلمان ہیں؟‘‘ جماعت کے ارکان نے مرتب کی ہے، مذکورہ عقائد میں داعی کے لیے نبوت اور خدائی اختیارات کا اثبات بالکل واضح ہے۔ اس لیے بوہری فرقہ زنادقہ کے حکم میں داخل ہیں۔ ان سے نکاح کرنا جائز نہیں، اور نہ ہی ان سے کیا گیا نکاح منعقد ہوتا ہے۔

صورت مسئولہ میں سنی لڑکی کا نکاح بوہری لڑکے سے منعقد نہیں ہوا۔ اس لیے دونوں کے درمیان فورًا علیحدگی کر نا ضروری ہے۔ ان میں باہمی تعلق سے جو بچے پیدا ہوئے ان کا نسب بوہری لڑکے سے ثابت نہیں ہوگا۔ لیکن وہ بچے ماں کے تابع ہو کر مسلمان شمار ہوں گے۔ البتہ اگر بوہری لڑکا اسلام لے آئے اور پھر اس لڑکی سے نکاح کر لے تو اس صورت میں آئندہ ہونے والی اولاد کا نسب اس سے ثابت ہو جائے گا۔ 

يعلم مما هنا حكم الدروز والتيامنة فإنهم في البلاد الشامية يظهرون الإسلام والصوم والصلاة مع أنهم يعتقدون تناسخ الأرواح وحل الخمر والزنا وأن الألوهية تظهر في شخص بعد شخص ويجحدون الحشر والصوم والصلاة والحج، ويقولون المسمی به غير المعنی المراد ويتكلمون في جناب نبينا – صلی الله عليه وسلم – كلمات فظيعة. وللعلامة المحقق عبد الرحمن العمادي فيهم فتوی مطولة، وذكر فيها أنهم ينتحلون عقائد النصيرية والإسماعيلية الذين يلقبون بالقرامطة والباطنية الذين ذكرهم صاحب المواقف. ونقل عن علماء المذاهب الأربعة أنه لا يحل إقرارهم في ديار الإسلام بجزية ولا غيرها، ولا تحل مناكحتهم ولا ذبائحهم، وفيهم فتوی في الخيرية أيضا فراجعها . . . الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 244)

وفي مجمع الفتاوی: نكح كافر مسلمة فولدت منه لا يثبت النسب منه ولا تجب العدة لأنه نكاح باطل. وقال الشامي: أي فالوطء فيه زنا لا يثبت به النسب، بخلاف الفاسد فإنه وطء بشبهة فيثبت به النسب ولذا تكون بالفاسد فراشا لا بالباطل. (الدر المختار وحاشية ابن عابدين، كتاب النكاح، فصل في ثبوت النسب، 3/ 555)

(الدر المختار وحاشية ابن عابدين، باب الحضانة، 2/ 230)

(قوله: فأسلم هو) أي أحد أبويه ح أي فإن الصبي يصير مسلما لأن الولد يتبع خير الأبوين دينا. ولا فرق بين كون الولد مميزا أو لا كما مر. 

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4373 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

لرننگ پورٹل