لاگ ان / رجسٹر
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022

 میرا سوال ہے کہ ایک شخص جو سودی بینک میں ملازمت کرتا ہے اور ان ہی پیسوں سے عمرہ کر کے آئے، تو کیا ایسے شخص کا عمرہ ہوجاتا ہے؟ اور اگر یہی شخص عمرہ سے واپسی پر ایک جائےنماز تحفہ میں دے تو کیا اس پر نماز پڑھ سکتے ہیں؟ اگر نماز پڑھ لی تو کیا گناہ ہوگا؟ اگر ہاں تو اس کا کفارہ بتا دیں۔

الجواب باسم ملهم الصواب

سودی بینک میں کوئی بھی ایسی ملازمت کرنا جو بالواسطہ یا بلا واسطہ سودی معاملات میں معاونت پر مشتمل ہو جائز نہیں اور اس کی تنخواہ وصول کرنا بھی حرام ہے، اس لیے کوئی جائز ذریعۂ معاش تلاش کر کے حرام ملازمت کو چھوڑ دیا جائے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس حرام مال سےعمرہ کرنے جانا مکروہ تحریمی ہے، اگر کوئی شخص عمرہ کے لیے چلا گیا اور عمرہ کر لیا تو عمرہ تو ادا ہوگیا لیکن ثواب سے محروم ہوگا۔ اس لیے حلال مال حاصل کر کے عمرہ کے لیے جانا چاہیے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: إِنَّ اللهَ طَيِّبٌ لَا يَقْبَلُ إِلَّا طَيِّبًا. (صحيح مسلم، 2/ 703) ترجمہ: ’’بے شک اللہ تعالیٰ پاک ہے اور پاک (مال) ہی کو قبول فرماتا ہے‘‘۔

قال ابن نجيم في كتاب الحج: ويجتهد في تحصيل نفقة حلال؛ فإنه لايقبل بالنفقة الحرام كما ورد في الحديث مع أنه يسقط الفرض عنه معها وإن كانت مغصوبةً ولاتنافي بين سقوطه وعدم قبوله فلايثاب لعدم القبول ولايعاقب في الآخرة عقاب تارك الحج. (البحر الرائق: 6/338)

تحفہ میں ملنے والے جائے نماز کا حکم یہ ہے کہ اگر آپ کو یقین ہے کہ یہ بھی حرام مال سے خریدا ہے تو اس تحفہ کو قبول کرنا آپ کے لیے جائز نہیں تھا، اب اس میں نمازیں پڑھنا جائز نہیں۔ اور جو نمازیں پڑھی گئی ہیں وہ کراہت کے ساتھ درست ہو گئیں ان کو دوبارہ پڑھنے کی ضرورت نہیں۔

وكذا دعوة من كان غالب ماله من حرام ما لم يخبر أنه حلال وبالعكس يجيب ما لم يتبين عنده أنه حرام، كذا في التمرتاشي. وفي الروضة يجيب دعوة الفاسق والورع أن لا يجيبه ودعوة الذي أخذ الأرض مزارعة أو يدفعها علی هذا، كذا في الوجيز للكردري. (الفتاوی الهندية، كتاب الكراهية)

قال الحصكفي في الحج: وقد يتصف بالحرمة كالحج بمال حرام. وقال الشامي: فإن الحج في نفسه مأمور به، وإنما يحرم من حيث الإنفاق، وكأنه أطلق عليه الحرمة لأن للمال دخلا فيه، فإن الحج عبادة مركبة من عمل البدن والمال كما قدمناه، ولذا قال في البحر ويجتهد في تحصيل نفقة حلال، فإنه لا يقبل بالنفقة الحرام كما ورد في الحديث، مع أنه يسقط الفرض عنه معها ولا تنافي بين سقوطه، وعدم قبوله فلا يثاب لعدم القبول، ولا يعاقب عقاب تارك الحج. اهـ. (الدر المختار وحاشية ابن عابدين، رد المحتار/ 2، 456)

في مراقي الفلاح: والثوب الحرير والمغصوب وأرض الغير تصح فيها الصلاة مع الكراهة. وقال الطحطاوي: قوله: "مع الكراهة" أي التحريمية ذكره السيد وفي السراج والقهستاني تكره الصلاة في الثوب الحرير والثوب المغصوب وإن صحت. (حاشية الطحطاوي علی مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح،ص:211)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر3140 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

لرننگ پورٹل