لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022

میری بیوی کے پاس اتنی مالیت کا سونا ہے کہ وہ گورنمنٹ حج سکیم کے تحت اپنا اور محرم کا خرچہ برداشت کر سکے، بلکہ اس سے ایک لاکھ زائد اس سونے کی وہ باقاعدہ زکوۃ نکالتی ہے ماشاءاللہ۔ لیکن وہ پھر بھی جانے کےلیے راضی نہیں۔ زور دینے پر کہتی ہے کہ سونا کسی اور کو دے دیا ہے (جبکہ زکوۃ وہ خود دیتی ہے)، یا پھر کہتی ہیں اگر بچے کے دل کے سوراخ کا آپریشن کرانا پڑا (آپریشن کی تاریخ حج کے دنوں میں آنے کا امکان ہے) تو اس لیے نہیں جا رہی۔علاوہ ازیں حج پروازوں کے وقت تک بچے کی ماں کے دودھ پینے کی مدت بھی ختم ہو جائے گی۔میرے پاس اتنی رقم نہیں کہ اپنا خرچہ بھی اٹھا سکوں۔میرےلیے اس ۔معاملے میں کیا حکم ہے؟ اور یہ بات کہ ’’حج کا خرچ اپنا اور محرم کا لڑکی کے پاس ہو تو اس پر حج فرض ہے۔‘‘ میرے سسر نے مفتی صاحب سے بھی پوچھ لیا ہے۔

الجواب باسم ملهم الصواب

اگر آپ کی بیوی کی ملکیت میں اس قدر سونا یا دیگر مال موجود ہے جو جو مکہ مکرمہ آنے جانے اور خرچ کے لیے کافی ہے تو ان پر حج فرض ہو چکا ہے۔ ان پر لازم ہے کہ اپنے کسی بھی محرم کے ساتھ جو حج پر جارہا ہو، حج کرنے جائیں۔ اپنے خرچ پر اگر حج پر جانے والا کوئی محرم شخص دستیاب نہ ہو تو پھر دیکھا جائے کہ ان کے پاس کسی محرم کے حج کا خرچہ اٹھانے کے بقدر مال موجود ہے یا نہیں، اگر اتنا مال ہے تو پھر لازم ہے کہ محرم شخص کا خرچہ برداشت کرے اور ان کے ساتھ حج کرے۔ اگر محرم کا خرچہ برداشت کرنے کی طاقت نہ ہو تو پھر محرم ملنے کا انتظار کرے، اگر موت تک محرم دستیاب نہ ہو تو حج بدل کی وصیت کرنا لازم ہے۔ بچے کی تیمارداری کا بہانہ بناکر فرض حج ادا نہ کرنا بڑی محرومی کی بات اور بڑا گناہ ہے۔

(الف) (قوله مع أمن الطريق) أي وقت خروج أهل بلده. (رد المحتار)…قال الحصكفي: (و) مع (زوج أو محرم)…(بالغ)…(مع) وجوب النفقة لمحرمها (عليها)…وقال في تاخير الحجّ: ولذا أجمعوا أنه لو تراخی كان أداء وإن أثم بموته قبله وقالوا لو لم يحج حتی أتلف ماله وسعه أن يستقرض ويحج ولو غير قادر علی وفائه ويرجی أن لا يؤاخذه الله بذلك. (الدر المختار مع رد المحتار، كتاب الحج)

اذا أراد الابن أن یخرج إلی الحج وأبوه کاره لذلك، إذا کان الأب مستغنیا عن خدمته فلا بأس به، وإن کان محتاجا یکره کذا الأمّ، وفی السیر الکبیر إذا لم یخف عليه الضعف فلا بأس به. (حاشية الطحطاوي علی الدر المختار، كتاب الحج)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4319 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

لرننگ پورٹل