لاگ ان
جمعہ 04 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 30 ستمبر 2022
لاگ ان
جمعہ 04 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 30 ستمبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 04 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 30 ستمبر 2022
جمعہ 04 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 30 ستمبر 2022

 کیا ivf اور iui کے طریقہ کار سے اولاد لینا جائز ہے؟ جیسے ہم مثال کے طور پر حضرت زکریا علیہ السلام اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ پروسیجر نہیں کیے اور صبر کیا، اگرچہ پھر زکریا علیہ السلام کی اولاد تو ہوگئی۔ لہذا انبیاء کی صورت میں ایسا کرنا صحیح نہیں تھا تو کیا موجودہ وقت میں اگر ہم یہ کریں تو جائز ہوگا یا نہیں؟

الجواب باسم ملهم الصواب

اولاد اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت ہے، شادی اس کا ایک ظاہری اور فطری سبب ہے۔ اگر شادی کے بعد فطری طریقے سے اولاد کی نعمت حاصل ہوجائے، اس پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے اور اگر کسی میاں بیوی کے ہاں فطری طریقے سے اولاد پیدا نہ ہو تو ان کو صبر کرنا چاہیے۔ یہی اعتقاد رکھا جائے کہ اس میں ہمارے حق میں خیر ہوگی کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت بالغہ سے ہی ہمیں اولاد سے محروم رکھا۔ اولاد کے حصول کے لئے جو مصنوعی طریقے اپنائے جاتے ہیں ان میں بہت سی خرابیاں پائی جاتی ہیں مثلا غیر مرد کا نطفہ استعمال کرنا، اس میں نسب کا اختلاط لازم آتا ہے جس سے یہ عمل زنا کاری کے حکم میں داخل ہوجاتا ہے، یا پھراپنا نطفہ بیوی کے علاوہ کسی اجنبی خاتون کے رحم میں رکھنا یا شوہر کا نطفہ بیوی کے رحم میں رکھتے وقت اجنبی ڈاکٹر سے مدد لینا، جس سے بے پردگی اور بے حیائی لازم آتی ہے۔ اس کے علاوہ اور بھی خرابیاں ہیں۔ اس لئے اولاد کے حصول کے لئے مصنوعی طریقے کو اختیار کرنا جائز نہیں۔

هو استدخال المني لرحم المرأة بدون جماع. فإن كان بماء الرجل لزوجته، جاز شرعاً، إذ لا محذور فيه، بل قد يندب إذا كان هناك مانع شرعي من الاتصال الجنسي. وأما إن كان بماء رجل أجنبي عن المرأة، لا زواج بينهما، فهو حرام؛ لأنه بمعنی الزنا الذي هو إلقاء ماء رجل في رحم امرأة، ليس بينهما زوجية. ويعد هذا العمل أيضا منافياً للمستوی الإنساني، ومضارعاً للتلقيح في دائرة النبات والحيوان. (الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي، 4/ 2649)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر3125 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔


لرننگ پورٹل