لاگ ان / رجسٹر
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022

سوال نمبر۱: بعض اوقات شدید تھکاوٹ یا نیند کا معاملہ ہوتا اور عین اس وقت نماز کا وقت ہو جاتا ہے ایسی حالت میں نماز ادا کرنا بڑا مشکل ہو جاتا ہے کیا اس حالت میں ہم نماز قضا کر کے پڑھ سکتے ہیں؟

سوال نمبر۲: دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ بات درست ہے جو رزق انسان کے نصیب میں لکھ دیا گیا ہے اسے اتنا ہی ملے گا چاہے اب انسان آٹھ گھنٹے کام کرے یا چوبیس گھنٹے کام کرے، انسان کا جو رزق لکھ دیا گیا اس سے زیادہ نہیں مل سکتا اسے تفصیل سے بیان کردیجیے۔

الجواب باسم ملهم الصواب

1۔ اگرکسی بالغ مسلمان کو  کوئی شدید مجبوری یا بیماری لاحق نہ ہو تو اس کے لئے صرف نیند کے غلبہ ہا تھکاوٹ کی وجہ سے نماز قضاء کرنا جائز نہیں سخت گناہ ہے بلکہ اس پر لازم ہے کہ  وقت نکلنے سے پہلے فرض نماز ادا کرلے۔

عن ابن عباس، عن النبي ﷺ قال: «من جمع بين صلاتين من غير عذر فقد أتی بابا من أبواب الكبائر». (المعجم الكبير للطبراني، 11/ 216) 

ترجمہ: ’’حضرت ابن عباس رضی الله عنہما رسول الله ﷺ سے روايت كرتے ہیں کہ جس نے بلا كسی عذر كے دو نمازوں كو ايک وقت میں پڑھا وہ کبیرہ گناہوں کے دروازوں میں سے ایک دروازے پر آ گیا‘‘۔

المعجم الأوسط (5/ 271)

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ بَيْنَ الرَّجُلِ وَبَيْنَ الْكُفْرِ وَالشِّرْكِ إِلَّا تَرَكُ الصَّلَاةِ»

ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آدمی اور کفر و شرک کے درمیان فرق کرنے والی چیز صرف نماز کا چھوڑنا ہے ۔

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (2/ 85)

والظاهر أن المراد بالمأثم ترك الصلاة فلا يعاقب عليها إذا قضاها وأما إثم تأخيرها عن الوقت الذي هو كبيرة فباق لا يزول بالقضاء المجرد عن التوبة بل لا بد منها هذا ويجوز تأخير الصلاة عن وقتها لعذر كما قال الولوالجي في فتاويه القائلة إذا اشتغلت بالصلاة تخاف أن يموت الولد لا بأس بأن تؤخر الصلاة وتقبل علی الولد لأن تأخير الصلاة عن الوقت يجوز بعذر ألا تری أن رسول الله – صلی الله عليه وسلم – «أخر الصلاة عن وقتها يوم الخندق» وكذا المسافر إذا خاف من اللصوص وقطاع الطريق جاز لهم أن يؤخروا الوقتية لأنه بعذر اهـ.

2۔ رزق کا اطلاق بندوں کی حوائج پر ہوتا ہے بچہ کی ضرورت دودھ ہے تو یہ اس کا رزق ہے جانوروں کی ضرورت ان کا کھانا ہے یہ ان کا رزق ہے لیکن انسان کے ساتھ کھانے کے علاوہ دیگر ضروریات  مثلا کپڑا اور رہائش وغیرہ بھی لگی ہوئی ہیں تو ان تمام ضروریات کا انتظام ہو جانا اس کا رزق ہےاور انسان کے اس دنیا میں آنے سے پہلے ہی اس کا رزق لکھ دیا جاتا ہے اب اگر انسان زیادہ محنت کرے تو اس زیادہ محنت کے نتیجے میں یہ تو ممکن ہے کہ وہ زیادہ رزق حاصل کر لے لیکن اس میں سے کھائے گا اتنا ہی جتنا اس کے مقدر میں ہے، تو جب اللہ تعالی کے متعین کردہ رزق سے زیادہ کسی کو نہیں ملنا تو اس میں اسی کے حکم کے مطابق اتنی ہی کوشش کرنی چاہیے جو اس کے لئے ضروری ہے۔ رزق کے حصول کے لئے دن رات ایک کرنا یا کوئی ناجائز راستہ اختیار کرنا کسی طرح درست نہیں۔

حدیث شریف میں ہے: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللهِ صلی الله عليه وسلم وَهْوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ إِنَّ أَحَدَكُمْ يُجْمَعُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا ثُمَّ يَكُونُ عَلَقَةً مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ يَكُونُ مُضْغَةً مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ يَبْعَثُ اللَّهُ إِلَيْهِ مَلَكًا بِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ فَيُكْتَبُ عَمَلُهُ وَأَجَلُهُ وَرِزْقُهُ وَشَقِيٌّ ، أَوْ سَعِيدٌ ثُمَّ يُنْفَخُ فِيهِ الرُّوحُ فَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ حَتَّی مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلاَّ ذِرَاعٌ فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيَدْخُلُ الْجَنَّةَ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ حَتَّی مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلاَّ ذِرَاعٌ فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ فَيَدْخُلُ النَّارَ. (بخاري، كتاب أحاديث الأنبياء، باب خلق آدم صلوات الله عليه وذريته) 

ترجمہ: ’’ہمیں رسول اللہ ﷺ (جو سراپا سچ ہیں) نے بیان فرمایا کہ تم میں سے ہر شخص اپنی ماں کے پیٹ میں چالیس روز رہتا ہے، پھر وہ جما ہوا خون بنتا ہے، پھر وہ اسی طرح گوشت کا لوتھڑا بن جاتا ہے، پھر اللہ تعالی اس کی طرف چار چیزیں دے کر ایک فرشتہ بھیجتا ہے، جو اس کے اعمال، مدت، اس کا رزق اور اس کا نیک یا بدبخت ہونا لکھ دیتا ہے، پھر اس میں روح پھونک دی جاتی ہے، چنانچہ وہ آدمی (جس کا بدبخت ہونا لکھا جاتا ہے) جنتیوں والے اعمال کرتا رہتا ہےیہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے لیکن اس پر نوشتۂ تقدیر غالب آجاتا ہے اور وہ جہنمیوں والے اعمال کرنے لگتا ہے اور آخر کار جہنم ہی میں داخل ہوتا ہے‘‘۔

وقد تشير هذه الآية إلی أن الحرام رزقٌ، وهو ما عليه أهل السنة، خلافًا للمعتزلة، ودليلنا من الكتاب: {وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَی اللَّهِ رِزْقُهَا}، ومن السُّنة: "إن نفسًا لن تموت حتی تستكمل رزقها" فدل علی أن جميع ما أكلته كلُّ نفسٍ رزقُها، حلالًا كان أو حرامًا، وإجماعُ الأمة أن اللَّه تعالی يرزق البهائمَ ما تأكله، والطفلَ ما يشربه من اللبن، وليس بمِلْكٍ لهما، فدلَّ علی أن الرزق لا يشترط فيه الملك.(الفتح المبين بشرح الأربعين، ص: 287)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4477 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

لرننگ پورٹل