لاگ ان
جمعہ 11 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 07 اکتوبر 2022
لاگ ان
جمعہ 11 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 07 اکتوبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 11 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 07 اکتوبر 2022
جمعہ 11 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 07 اکتوبر 2022

محرم الحرام کے روزے کی احادیث کے حوالے سے بتائیے کیا وہ صحیح ہیں یا ضعیف؟ کسی شیعہ ذاکر نے کہا کہ ان احادیث کے سارے راوی بچے تھے۔

الجواب باسم ملهم الصواب

محرم الحرام میں روزے رکھنے کی احادیث صحیح سند سے ثابت ہیں، چنانچہ صحیح مسلم میں ہے: عن أبي هریرۃ رضی اللہ عنہ ، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: أفضل الصیام، بعد رمضان، شهر اللہ المحرم، وأفضل الصلاۃ، بعد الفریضۃ، صلاۃ اللیل. (مسلم، باب فضل صوم المحرم، 3/169) 

ترجمہ: ’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ رمضان کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینہ محرم کے روزے ہیں، اور فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز تہجد کی نماز ہے‘‘۔

نیز محرم الحرام میں روزے رکھنے کے بارے میں سنن الترمذی، سنن ابی داؤد میں یہ روایت حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی منقول ہے۔ البتہ سنن ابن ماجہ اور مصنف ابن ابی شیبہ میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ روایت ان الفاظ کے ساتھ منقول ہے: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِيِّ – صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – فَقَالَ: أَيُّ الصِّيَامِ أَفْضَلُ بَعْدَ شَهْرِ رَمَضَانَ؟ قَالَ: "شَهْرُ اللَّهِ الَّذِي تَدْعُونَهُ الْمُحَرَّمَ" (سنن ابن ماجه، باب صیام أشهر الحرم، ١/٥٥٤)۔

اوردیگر کئی مصنفین نے بھی اس حدیث کو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل فرمایا ہے، چنانچہ امام احمد نے مسند احمد، امام نسائی نے سنن النسائی، امام بیہقی نے سنن الکبری، امام حاکم رحمہم اللہ نے مستدرک میں نقل فرمائی ہے، اس حدیث کے راوی حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنہ ہیں اور حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنہ کا شمار بڑے صحابہ میں ہوتا ہے۔ اس لیے کسی کا یہ کہنا کہ ان احادیث کے سارے راوی بچے تھے درست نہیں۔اسی طرح  محدثین کے نزدیک اگر پانچ سال کا بچہ سمجھ بوجھ رکھتا ہوتو اس کا حدیث کو یاد کرنا معتبر مانا جاتا ہے، البتہ حدیث کو بیان کرنے میں اس کا اعتبار تب مانا جائے گا جبکہ وہ اس کا اہل ہوجائے۔ اور اس حدیث کےرواۃ میں یہ شرط پائی جاتی ہے۔ اس لیے اس کو راوی کی کم عمری کے باعث ضعیف کہنا غلط ہے۔

وَمِن المهمِّ معرِفةُ سِنِّ التَّحَمُّلِ والأداءِ، والأصحُّ اعتبارُ سنِّ التَّحمُّلِ بالتَّمييزِ، هذا في السَّماعِ… وأَمَّا الأداءُ؛ فقد تقدَّمَ أَنَّه لا اختصاصَ له بزَمنٍ مُعيَّنٍ، بل يُقيَّدُ بالاحتياجِ والتأَهُّلِ لذلك. وهُو مُخْتَلِفٌ باخْتِلافِ الأشخاصِ. (نزهة النظر في توضيح نخبة الفكر في مصطلح أهل الأثر، ص،١٤٦، الناشر: مطبعة الصباح، دمشق)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4549 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔


لرننگ پورٹل