لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022

 ہم ایک مکان میں ایک والدہ، دو بھائی اور ایک بہن رہتے ہیں، بڑے بھائی نے والد صاحب کے انتقال کے بعد میراث کا مطالبہ کیا اور میں نے علمائے کرام کے مشورے سے بڑے بھائی کو اس پلاٹ کا آدھا حصہ دے دیا اور اس کے بعد میں نے چاہا کہ اب جس آدھے حصے میں ہم رہتے ہیں اس میں  بہن کا بھی حصہ ہے اور وہ شادی شدہ بھی ہیں وہ کہیں اور رہتی ہیں، میں نے چاہا کہ ان کو بھی میراث ادا کردوں تاکہ میں اس معاملہ سے بری الذمہ ہوجاؤں تو میں نے بہن سے کہا کہ آپ اپنا میراث لے لیں بہن نے کہا کہ بھائی جان مجھے اس کی کوئی حاجت نہیں، وہ آپ رکھ لیں میری حالت بہتر ہے۔ والدہ  اور میں  اس مکان میں رہنے لگے اب 10 سال کے بعد بہن اس میراث کی مطالبہ کررہی ہیں۔ آیا میں ان کو میراث اس وقت کی قیمت میں ادا کروں یا اس دور کےمطابق؟ اس وقت گھر کی قیمت دولاکھ تھی اور اب اس کی قیمت پچاس لاکھ ہے۔ برائے کرم شریعت کی روشنی میں اس کا حل بتائیں۔ جزاکم اللہ خیراً

الجواب باسم ملهم الصواب

مرنے والے کی جائداد اور مترکہ تمام اموال میں تمام ورثاء کا حصہ ہوتا ہے جس کو شرعی ضابطے کے مطابق تقسیم کرنا ضروری ہے سوال میں بیان کردہ صورت میں آپ کے والد کے انتقال کے بعد بھائی کے اپنے حصہ میراث کے مطالبہ پر مکان کا آدھا حصہ ان کو دینا درست نہیں بلکہ اس مکان کی از سر نو تقسیم لازم ہے جس سے ہر وارث کو اس کا شرعی حصہ مل سکے۔

بہن کا اپنے حصے کے بارے میں یہ کہنا کہ مجھے اس کی کوئی حاجت نہیں، آپ رکھ لیں، یہ بہن کی طرف سے بھائی کے حق میں ہبہ ہے۔ لیکن مال چوں کہ اس وقت تک مشترک تھا، ان کا حصہ الگ نہیں کیا گیا تھا، اس لیے یہ ہبہ تام نہیں ہوا۔ لہذا بہن کو اپنا حصہ مانگنے کا حق ہے۔

"ولا معتبر بإجازتهم في حال حياته" لأنها قبل ثبوت الحق إذ الحق يثبت عند الموت فكان لهم أن يردوه بعد وفاته. (الهداية في شرح بداية المبتدي، 4/ 514)

(ولو وهب أحد الشريكين نصيبه من شريكه مشاعا فيما يحتمل القسمة: لا يجوز – عندنا أيضا -)۔۔۔وحجتنا في ذلك ما بينا أن اشتراط القسمة في الهبة فيما يحتمل القسمة كاشتراط القبض، وفي ذلك يستوي الهبة من الشريك ومن الأجنبي، فكذلك في القسمة؛ وهذا لأن القبض في الهبة لا يتم في الجزء الشائع فقبض الشريك لا يتم باعتبار ما لاقاه في الهبة۔ (المبسوط للسرخسي، 12/ 66)

وفي الجوهرة، وحيلة هبة المشغول أن يودع الشاغل أولا عند الموهوب له ثم يسلمه الدار مثلا فتصح لشغلها بمتاع في يده (في) متعلق بتتم (محوز) مفرغ (مقسوم ومشاع لا) يبقی منتفعا به بعد أن (يقسم) كبيت وحمام صغيرين لأنها (لا) تتم بالقبض (فيما يقسم ولو) وهبه (لشريكه) أو لأجنبي لعدم تصور القبض الكامل كما في عامة الكتب فكان هو المذهب وفي الصيرفية عن العتابي وقيل: يجوز لشريكه، وهو المختار (فإن قسمه وسلمه صح) لزوال المانع. (الدر المختار وحاشية ابن عابدين/ رد المحتار، 5/ 692)

(والقاف القرابة، فلو وهب لذي رحم محرم منه) نسبا (ولو ذميا أو مستأمنا لا يرجع) شمني (ولو وهب لمحرم بلا رحم كأخيه رضاعا) ولو ابن عمه (ولمحرم بالمصاهرة كأمهات النساء والربائب وأخاه وهو عبد لأجنبي أو لعبد أخيه رجع ولو كانا) أي العبد ومولاه (ذا رحم محرم من الواهب فلا رجوع فيها اتفاقا علی الأصح) لأن الهبة لأيهما وقعت تمنع الرجوع بحر. (الدر المختار وحاشية ابن عابدين/ رد المحتار، 5/ 704)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4533 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

لرننگ پورٹل