لاگ ان / رجسٹر
پیر 15 شوال 1443 بہ مطابق 16 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 15 شوال 1443 بہ مطابق 16 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 15 شوال 1443 بہ مطابق 16 مئی 2022
پیر 15 شوال 1443 بہ مطابق 16 مئی 2022

درج ذیل آیت اور روایت کی وضاحت فرما دیں۔ کیونکہ اس سے یہ شبہہ ہورہا ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا سب سے کم درجہ ہے جب کہ دوسرے مقامات پر انفاق فی سبیل اللہ کا بہت اجر بتایا گیا ہے يَسْــَٔـلُوْنَكَ مَاذَا يُنْفِقُوْنَ قُلْ مَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ خَيْرٍ فَلِلْوَالِدَيْنِ وَالْاَقْرَبِيْنَ وَالْيَتٰمٰی وَالْمَسٰكِيْنِ وَابْنِ السَّبِيْلِ  وَمَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَيْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِه عَلِيْمٌ. (البقرة:215)

تفسیر ابن کثیر میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ابوصالح کی روایت میں منقول ہے کہ یہ آیت کریمہ عمرو بن جموح انصاری رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی یہ بہت عمر رسیدہ اور کثیر مال والے تھے۔ انھوں نے عرض کیا : یارسول اللہ! میں کیا چیز صدقہ کروں؟ اور کس چیز پر صدقہ کروں اس پر آیت نازل ہوئی۔ اور حضرت عبداللہ بن عباس ہی سے عطاء کی روایت میں یہ منقول ہے کہ یہ آیت کریمہ اس شخص کے متعلق نازل ہوئی جس نے رسول اللہ کی خدمت میں عرض کیا کہ میرے پاس ایک دینار ہے آپ نے فرمایا کہ اسے اپنی ذات پر خرچ کر اور اس نے کہا کہ میرے پاس دوسرا دینار ہے، آپ نے فرمایا اپنے گھروالوں پر خرچ کر اس نے کہا میرے پاس تیسرا دینار ہے، آپ نے فرمایا اپنے خادم پر خرچ کر ،اس نے کہا میرے پاس چوتھا دینار ہے، آپ نے فرمایا اپنے والدین پر خرچ کر، اس نے کہا میرے پاس پانچواں دینار ہے، آپ نے فرمایا کہ اپنے رشتہ داروں پر خرچ کر، اس نے کہا میرے پاس چھٹا دینار ہے، آپ نے فرمایا کہ اللہ کے راستے میں خرچ کر اور یہ ان میں سے سب سے کم اجر کا باعث ہے۔ (تفسیر ابن کثیر 1 ۔ 251)

الجواب باسم ملهم الصواب

مذکورہ روایت بعینہ ان الفاظ کے ساتھ تفسیر ابن کثیر میں نہیں ملی ہے۔

البتہ تفسیر نیشاپوری میں ان الفاظ کے ساتھ موجود ہے: رجل أتی النبي صلی الله عليه وسلم فقال: إن لي دينارا فقال: أنفقه علی نفسك. فقال: إن لي دينارين. فقال: أنفقهما علی أهلك. فقال: إن لي ثلاثة فقال: أنفقها علی خادمك. فقال: إن لي أربعة قال: أنفقها علی والديك. قال: إن لي خمسة قال: أنفقها علی قرابتك. قال: إن لي ستة. قال: أنفقها في سبيل الله وهو أخسها أي أقلها ثوابا. (تفسير النيسابوري، غرائب القرآن ورغائب الفرقان، 1/ 592)

اس حدیث میں صدقہ کے درجات بیان فرمائے گئے ہیں، یہ درجہ بندی اس وقت ہے جب انسان کے پاس مال انتہائی قلیل ہو، تب  سب سے افضل یہ کہ انسان اس مال کو اپنے اوپر ہی خرچ کرے، لیکن مال اپنی ضرورت سے زائد ہو تو اپنے گھر والوں پر، اس سے بھی زائد ہو تو اپنے خادموں، والدین اور پھر رشتہ داروں پر خرچ کرنا افضل ہے، اور اگر مال اس سے بھی زائد ہو تب اللہ کے راستے (یعنی فقراء و مساکین یا دیگر مصارف دینیہ) میں خرچ کرنے کی فضیلت ہے۔ کیونکہ ہر انسان پر اپنے نفس کے ساتھ ساتھ اپنی کفالت میں موجود لوگوں کا نفقہ بھی واجب ہے، انھیں چھوڑ کر اپنا مال اللہ کی راہ میں صدقہ کر دینا یقینا سب سے کم درجے کا باعث ہوگا، حدیث میں یہی مراد ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’سب سے بہترین صدقہ وہ ہے جو مال داری کے ساتھ کیا جائے، اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے، اور خرچے کی ابتداء ان لوگوں سے کرو جن کا نفقہ تم پر لازم ہے۔‘‘ لہذا اس تشریح کی رو سے اس روایت میں کوئی اشکال نہیں رہا۔

في هذا الحديث فوائد منها الابتداء في النفقة بالمذكور علی هذا الترتيب ومنها أن الحقوق والفضائل إذا تزاحمت قدم الأوكد فالأوكد ومنها أن الأفضل في صدقة التطوع أن ينوعها في جهات الخير ووجوه البر بحسب المصلحة ولا ينحصر في جهة بعينها. (شرح النووي علی مسلم، 7/ 83)

حدثنا علي بن مسلم، حدثنا أبو عاصم، عن ابن عجلان، عن المقبري، عن أبي هريرة قال: قال رجل: يا رسول الله، عندي دينار؟ قال: "أنفقه علی نفسك". قال: عندي آخر؟ قال: "أنفقه علی أهلك". قال: عندي آخر؟ قال: "أنفقه علی ولدك". قال: عندي آخر؟ قال: "فأنت أبصر". وقد رواه مسلم في صحيحه. وأخرج مسلم أيضا عن جابر: أن رسول الله صلی الله عليه وسلم قال لرجل: "ابدأ بنفسك فتصدق عليها، فإن فضل شيء فلأهلك، فإن فضل شيء عن أهلك فلذي قرابتك، فإن فضل عن ذي قرابتك شيء فهكذا وهكذا". وعنده عن أبي هريرة، رضي الله عنه، قال: قال رسول الله صلی الله عليه وسلم: "خير الصدقة ما كان عن ظهر غنی، واليد العليا خير من اليد السفلی، وابدأ بمن تعول". (تفسير ابن كثير ت سلامة، 1/ 580)

قلت: هي أنه صلی الله عليه وسلم إنما رد علی المتصدق المذكور صدقته مع احتياجه إليها لأجل ضعف عقله، لأنه ليس من مقتضی العقل أن يكون الشخص محتاجا فيتصدق علی غيره، فلذلك أمر في الحديث المذكور أن يتصدق علی نفسه أولا، ثم: إن فضل من ذلك شيء فيتصدق به علی أهله، فإن فضل شيء فيتصدق به علی قرابته، فإن فضل شيء يتصدق به علی من شاء من غير هؤلاء. (عمدة القاري شرح صحيح البخاري، 12/ 255)

الأول فيه دليل علی أن الإنفاق علی أهل الرجل أفضل من الإنفاق في سبيل الله ومن الإنفاق في الرقاب ومن التصدق علی المساكين. وحديث جابر فيه دليل علی أنه لا يجب علی الرجل أن يؤثر زوجته وسائر قرابته بما يحتاج إليه في نفقة نفسه ثم إذا فضل عن حاجة نفسه شيء فعليه إنفاقه علی زوجته وقد انعقد الإجماع علی وجوب نفقة الزوجة، ثم إذا فضل عن ذلك شيء فعلی ذوي قرابته، ثم إذا فضل عن ذلك شيء فيستحب له التصدق بالفاضل، والمراد بقوله: " هكذا وهكذا " أي يمينا وشمالا كناية عن التصدق. (نيل الأوطار، 6/ 381)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4514 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

لرننگ پورٹل