لاگ ان / رجسٹر
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022

بچپن میں اکثر جب نیا سال شروع ہونے لگتا تو ہم کہتے تھے آئندہ یہ کام کروں گا اور یہ کام نہیں کروں گا۔ لیکن پھر ان میں سے کچھ باتیں بھول جاتے اور کچھ کرتے نہیں تھے۔ اب جبکہ دین کی کچھ سمجھ آئی ہے، ان قسموں کا کفارہ کیسے دیا جاسکتا ہے اور کیا اس طرح قسمیں کھانا انگریزوں سے مشابہت تو نہیں ہے؟

الجواب باسم ملهم الصواب

صورت مسئولہ میں اگر سائل نے بچپن میں مذکورہ الفاظ کہے تو اس سے کسی قسم کا کوئی کفارہ لازم نہیں، لیکن اگر بلوغت کے بعد لفظ قسم یا عہد کے ساتھ یہ کہا کہ یہ کام کروں گا یا یہ کام نہیں کروں گا تو اس کے خلاف کرنے کی صورت میں قسم کا کفارہ لازم ہوگا اور اگر لفظ قسم یا عہد کا ذکر نہیں کیا تو ایسے کام کرنے یا نہ کرنے سے کوئی کفارہ لازم نہیں آئے گا۔

(قوله وعهد الله) – {وأوفوا بعهد الله إذا عاهدتم ولا تنقضوا الأيمان} – فقد جعل أهل التفسير المراد بالأيمان العهود السابقة فوجب الحكم باعتبار الشرع إياها أيمانا وإن لم تكن حلفا بصفة الله، كما حكم بأن "أشهد" يمين كذلك. وأيضا غلب الاستعمال فلا يصرف عن اليمين إلا بنية عدمه، وتمامه في الفتح. وفي الجوهرة: إذا قال وعهد الله ولم يقل علی عهد الله، فقال أبو يوسف هو يمين، وعندهما لا. اهـ. قلت: لكن جزم في الخانية بأنه يمين بلا حكاية خلاف. (الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 716)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4518 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

لرننگ پورٹل