لاگ ان
ہفتہ 02 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 26 نومبر 2022
لاگ ان
ہفتہ 02 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 26 نومبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
ہفتہ 02 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 26 نومبر 2022
ہفتہ 02 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 26 نومبر 2022

اگر میں اپنی زندگی میں اپنے بیٹوں اور بیٹیوں كے نام اپنی جائداد كرنا چاہوں، تو اس كی كیا صورت ہوگی، اگر میں ان كو یہ كہہ دیتا ہوں كہ یہ چیز آپ كی ہوگی، توكیا اس سے ان كی ملكیت ثابت ہوجائے گی، یا ان كے نام كی جانے والی جائداد كوسركاری طور پر رجسٹریشن كروانا ضروری ہے؟ كیا بغیر رجسٹریشن كے ان كا قبضہ شمار ہوگا، یا كسی سادہ كاغذ پرلكھ كر دینے سے بھی  ہوجائے گا؟ اس میں اسلامی قانون كیا كہتا ہے،ان  كی ملكیت كا اعتبار كب كیا جائےگا؟ جزاك اللہ خیراً۔

الجواب باسم ملهم الصواب

واضح رہے كہ آپ اپنی زندگی میں اپنے مال وجائداد کے تن تنہا مالک ہیں اور مرض الوفات میں مبتلا ہونے سے پہلے اس میں ہر جائز تصرف کرنے کا آپ کوحق ہے، چنانچہ کسی کو کوئی چیز تحفہ کے طور پر دینا بھی جائز ہے، لہذا اگر آپ  اپنی زندگی میں اولاد كے درمیان جائدادکو تقسیم کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں، لیكن یہ آپ کی طرف سے ہبہ (تحفہ) كہلائےگا، اور بطور ہبہ جائداد تقسیم  كرنے سے پہلے مستحب یہ ہے كہ آپ اپنا قرض ادا كردیں، اپنی اور بیوی کی ضرورت کے بقدر كچھ مال رکھ کر کے بقیہ مال لڑکوں اور لڑکیوں میں برابر برابر تقسیم کردیں، تاہم اگر میراث کے اصول کے مطابق بیٹی کو بیٹے سے نصف دے دیں، تو اس کی بھی گنجائش ہے، اسی طرح اگراولاد میں سے کسی کو اس کی ضرورت، خدمت،یا نیکی کی بناء پر زیادہ دے دیں، تو یہ بھی درست ہے، لیکن کسی کو نقصان پہنچانے كے لیے دوسرےکو سارا یا زیادہ مال دینا گناہ ہے۔

واضح رہے کہ یہ چونکہ ہبہ ہے اس لیےجس کو جو حصہ دینا چاہیں اس كو اپنی ملكیت سے علیحدہ كركے متعین طور پر تقسیم كركے دے دیں۔ جو حصہ آپ دیں اس كی كوئی رجسٹریشن كرواناشرعاً ضروری نہیں، البتہ قبضہ ضروری ہے، اورمنقولی اشیاء جیسے گاڑی وغیرہ كو اس كے حوالے كرنا اور غیر منقولی اشیاء جیسے زمین وغیرہ كو اس كے مالكانہ اختیار اور تصرف میں دے دینا قبضہ كہلاتا ہے ،اس كے بغیر ہبہ درست نہیں ہوتا۔ 

وينبغي للرجل أن يعدل بين أولاده في النحل لقوله سبحانه وتعالی { إن الله يأمر بالعدل والإحسان } وأما كيفية العدل بينهم فقد قال أبو يوسف العدل في ذلك أن يسوي بينهم في العطية ولا يفضل الذكر علی الأنثی وقال محمد العدل بينهم أن يعطيهم علی سبيل الترتيب في المواريث للذكر مثل حظ الأنثيين(بدائع الصنائع،١٣/٢٨٥)

يكره تفضيل بعض الأولاد علی البعض في الهبة حالة الصحة إلا لزيادة فضل له في الدين وإن وهب ماله كله لواحد جاز قضاء وهو آثم كذا في المحيط.(البحر الرائق شرح كنز الدقائق،۷/ ۲۸۸)

(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل.(الدر المختار وحاشية ابن عابدين،۵/ ۶۹۰)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4621 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔


لرننگ پورٹل