لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022

کیا آسمانی کتاب انجیل میں شریعت نہیں تھی تو کیا اس کے آنے کے بعد توریت اور زبور منسوخ نہیں ہوئی تھی؟ اور بائبل سے مراد انجیل ہے یا انجیل اور توریت دونوں Old Testament and New testament سے مراد کونسی کتاب لی جاتی ہے؟

الجواب باسم ملهم الصواب

1۔ انجیل جو حضرت عیسی علیہ السلام پر نازل ہوئی اس میں کوئی احکامات یا حلال حرام سے متعلق کوئی حکم نہیں تھا بلکہ اس میں امثال اور مواعظ تھے اوراس کے علاوہ انجیل میں جو شرعی احکام تھے وہ تورات کے موافق تھے۔

والإنجيل النازل على المسيح عليه السلام لا يتضمن أحكاماً، ولا يستبطن حلالاً ولا حراماً؛ ولكنه: رموز، وأمثال، ومواعظ، ومزاجر؛ وما سواها من الشرائع والأحكام فمحالة على التوراة ۔ (الملل والنحل، 2/ 14)

2۔ انجیل کے نزول کے بعد تورات اور زبور منسوخ نہیں ہوئی تھیں، کیونکہ انجیل میں خود حضرت عیسی علیہ السلام کے حوالے سے اس کا بیان موجود ہے۔

بائبل سے قرآن تک میں ہے: ’’حضرت مسیح علیہ السلام نے متعدد ارشادات میں وضاحت کے ساتھ فرمایا ہے کہ میرا مقصد تورات کی مخالفت کرنا نہیں ہے بلکہ میں اس کی تصدیق کرتا ہوں بلکہ اناجیل میں تو یہاں تک لکھا ہے کہ میں اس کو منسوخ کرنے نہیں آیا، انجیل متی میں ہے: ’’یہ نہ سمجھو کہ میں توریت یا نبیوں کی کتابوں کو منسوخ کرنے آیا ہوں، منسوخ کرنے نہیں، بلکہ پورا کرنے آیا ہوں کیونکہ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک آسمان اور زمین ٹل نہ جائیں ایک نقطہ یا ایک شوشہ توریت سے ہرگز نہ ٹلے گا‘‘ (متی 17:5)

نیز آپ نے ایک مرتبہ ارشاد فرمایا: ’’جو کچھ تم چاہتے ہو کہ لوگ تمہارے ساتھ کریں وہی تم بھی ان کے ساتھ کرو کیونکہ توریت اور نبیوں کی تعلیم یہی ہے۔‘‘ (متی 12:7) 

اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام بنیادی طور پر تورات کو واجب العمل اور قابل احترام مانتے تھے‘‘۔ (بائبل سے قرآن تک، جلد1، صفحہ:133 )

3۔ عیسائی حضرات کے پاس دو قسم کی کتابیں ہیں، ایک وہ کتابیں جن کی نسبت ان کا دعوی ہے کہ یہ ان پیغمبروں کے واسطہ سے ہمارے پاس پہنچی ہیں، جو حضرت عیسی علیہ السلام سے پہلے گزر چکے ہیں۔ دوسری وہ کتابیں جن کی نسبت وہ دعوی کرتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام کے بعد الہام کے ذریعہ لکھی گئی ہیں۔پہلی قسم کی کتابوں کے مجموعہ کو عہد عتیق (old testament) اور دوسری قسم کے مجموعہ کو عہد جدید (new testament) کہتے ہیں، اور ان دونوں کے مجموعہ کا نام بائبل رکھتے ہیں۔ یہ یونانی زبان کا نام ہے جس کے معنی کتاب کے ہیں۔

عہد عتیق میں تقریبا 47 کتابیں ہیں، جن میں سے 38 کو جمہور قدماء مسیحین معتمد مانتے ہیں اور 9 کتابوں کی صحت میں اختلاف کرتے ہیں۔ ان 47 کتابوں میں سے 5 کتابوں، سفر تکوین، سفر خروج، سفر احبار،سفر عدد،سفر استثنا کے مجموعہ کو تورات کہا جاتا ہے یہ عبرانی لفظ ہے جس کے معنی ’’شریعت اور تعلیم‘‘ ہیں۔

عہد جدید میں کل 27 کتابیں ہیں جن میں سے 20 کے مجموعے کو معتمد سمجھا جاتا ہے اور ان میں سے انجیل کا اطلاق صرف چار کتابوں پر ہوتا ہے ۔ انجیل متی، انجیل مرقس، انجیل لوقا، انجیل یوحنا۔یہ لفظ معرب ہے اصل یونانی لفظ ’’انکلیون‘‘ تھا، جس کے معنی بشارت اور تعلیم کے ہیں۔ (ملخص از اظہار الحق اردو، جلد نمبر1،صفحہ:285)

لہذا معلوم ہوا کہ موجودہ بائبل تورات انجیل اور اس کے علاوہ کئی کتابوں کا مجموعہ ہے۔اصل تورات وانجیل آسمانی کتابیں ہیں، ان میں احکام الٰہی انسانی ہدایت کے اسباب وامثال موجود تھے، لیکن ان کتابوں کے ماننے والوں نے مختلف زمانوں میں ان میں ردوبدل کیا کہ اصل آسمانی تعلیمات کو حذف کرکے ان کی جگہ اپنی خواہشات کے مطابق اضافہ وترمیم کرڈالا۔ پھر قرآن کریم کے نزول کے بعد سابقہ تمام ادیان منسوخ ہوگئے اور ہر انسان کے ذمے لازم ہوگیا کہ صرف دین اسلام کو قبول کرے اور شریعت محمدی پر عمل کرے۔ اب نجات اخروی کا مدار دین اسلام کا قبول کرنا ٹھہرا۔ اسلام قبول کیے بغیر اگر دنیا سے چلا گیا تو سیدھا جہنم میں داخل ہوگا۔

عن جابر بن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم، أن عمر أتاه فقال: إنا نسمع أحاديث من اليهود تعجبنا أفترى أن نكتب بعضها؟ فقال: أمتهوكون أنتم كما تهوكت اليهود والنصارى؟ لقد جئتكم بها بيضاء نقية، ولو كان موسى حيا ما وسعه إلا اتباعي (شعب الإيمان، 1/ 347)

ترجمہ: ’’حضرت جابر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ہم یہود سے کچھ ایسی باتیں سنتے ہیں جو ہمیں اچھی لگتی ہیں کیا ہم انہیں لکھ لیا کریں؟ تو بنی کریم ﷺ نے فرمایا: کیا تم شک میں پڑے ہو جیسے یہود و نصاری شک میں پڑ گئے میں تمہارے پاس ایک واضح شریعت لے کر آیا ہوں اگر موسی علیہ السلام بھی زندہ ہوتے تو ان کے لئے بھی میری اتباع کے سوا چارہ کار نہ ہوتا‘‘۔

عن جابر بن عبد الله، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا تسألوا أهل الكتاب عن شيء، فإنهم لن يهدوكم، وقد ضلوا، فإنكم إما أن تصدقوا بباطل، أو تكذبوا بحق، فإنه لو كان موسى حيا بين أظهركم، ما حل له إلا أن يتبعني(مسند أحمد ط الرسالة، 22/ 468)

ترجمہ: ’’حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اہل کتاب سے کسی چیز کے بارے میں سوال نہ کیا کرو کیونکہ وہ ہرگز تمہاری رہنمائی نہیں کریں گے، وہ گمراہ ہو چکے ہیں، اور اس  معاملے میں یا تو تم کو باطل کی تصدیق کرنی پڑے گی یا حق کو جھٹلانا پڑے گا، اگر موسی علیہ السلام بھی تمہارے درمیان زندہ ہوتے تو ان کے لئے بھی حلال نہ ہوتا مگر میری پیروی‘‘۔

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4449 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

لرننگ پورٹل