لاگ ان
ہفتہ 16 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 10 دسمبر 2022
لاگ ان
ہفتہ 16 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 10 دسمبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
ہفتہ 16 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 10 دسمبر 2022
ہفتہ 16 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 10 دسمبر 2022

محترم مفتی صاحب میرا ایک رشتہ آیا ہے۔ ان کے گھر میں والد سلیمانی اور والدہ سنی ہیں۔ بچے بچپن سے والدہ ہی کے مذہب پر ہیں۔ ان لوگوں کے بقول سلیمانی بھی سنی ہی کی طرح ہیں، بس فرق یہ ہے کہ وہ عید وغیرہ سنیوں سے ایک دن قبل کرتے ہیں۔ اب کچھ عرصہ قبل اس مسئلے کی وجہ سے اور دیگر مسائل کی وجہ سے والدین میں علیحدگی بھی ہوچکی ہے اور بچے سنی مذہب کی پیروی کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ رشتہ قبول کیا جاسکتا ہے؟ کیا یہاں شادی کرنا جائز ہوگا یا نہیں؟ رہنمائی فرمائیں۔

الجواب باسم ملهم الصواب

سلیمانی فرقہ بوہریوں کا ایک فرقہ ہے اور بوہری فرقہ جو ہندوستان وپاکستان میں آباد ہے، وہ اپنے لباس اور پوشاک کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں اور ان میں موجود کفریہ عقائد کی بنیاد پر ان کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھا جاتا ہے، جبکہ سلیمانی فرقہ لباس و پوشاک میں کوئی امتیاز نہیں رکھتے، اس لئے ان کی پہچان مشکل ہے۔ لیکن اگر واقعتا سلیمانی فرقہ کے اندر کفریہ عقائد موجود ہوں تو یہ فرقہ بھی دائرہ اسلام سے خارج شمار ہوگا۔ لیکن باپ اگر سلیمانی فرقے سے تعلق رکھتا ہو اور بیٹے کا اس فرقے سے کوئی تعلق نہ ہو بلکہ وہ کامل طور پر مسلمان ہو تو اس سے نکاح کیا جا سکتا ہے۔

ومنها إسلام الرجل إذا كانت المرأة مسلمة فلا يجوز إنكاح المؤمنة الكافر؛ لقوله تعالى: {ولا تنكحوا المشركين حتى يؤمنوا} ولأن في إنكاح المؤمنة الكافر خوف وقوع المؤمنة في الكفر؛ لأن الزوج يدعوها إلى دينه، والنساء في العادات يتبعن الرجال فيما يؤثرون من الأفعال ويقلدونهم في الدين إليه وقعت الإشارة في آخر الآية بقوله عز وجل: {أولئك يدعون إلى النار} لأنهم يدعون المؤمنات إلى الكفر، والدعاء إلى الكفر دعاء إلى النار؛ لأن الكفر يوجب النار، فكان نكاح الكافر المسلمة سببا داعيا إلى الحرام فكان حراما (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، 2/ 271)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4633 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔


لرننگ پورٹل