لاگ ان
منگل 01 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 27 ستمبر 2022
لاگ ان
منگل 01 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 27 ستمبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
منگل 01 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 27 ستمبر 2022
منگل 01 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 27 ستمبر 2022

ہم جو آیات یا سورتیں حفظ کر رہے ہوتےہیں، توان کو یاد کرتے وقت بار بار پڑھتےہیں، کیا ہم ان کو پڑھ کرایصال ثواب کر سکتے ہیں؟ رہنمائی فرمائیں۔

الجواب باسم ملهم الصواب

اہل السنۃ والجماعۃ کے عقیدہ کے مطابق جس طرح کسی مردہ کو ایصال ثواب کیا جا سکتا ہے اسی طرح زندہ کو بھی ثواب بخشا جا سکتا ہے، اور اسی طرح راجح قول كے مطابق فرض اور نفل دونوں طرح كے عمل کا ایصالِ ثواب مسلمان کوبخشا جا سکتا ہے اور اس کا ثواب ان کو پہنچتا ہے۔

من صام أو صلی أو تصدق وجعل ثوابه لغيره من الأموات والأحياء جاز، ويصل ثوابها إليهم عند أهل السنة والجماعة كذا في البدائع، ثم قال: وبهذا علم أنه لا فرق بين أن يكون المجعول له ميتا أو حيا. والظاهر أنه لا فرق بين أن ينوي به عند الفعل للغير أو يفعله لنفسه ثم بعد ذلك يجعل ثوابه لغيره، لإطلاق كلامهم، وأنه لا فرق بين الفرض والنفل. اهـ(حاشية ابن عابدين،۲/ ۲۴۳)

نیزمسلمانوں کے لئے ایصال ثواب کے مختلف طریقے ہیں: ایک طریقہ یہ ہے کہ ان کے لئے دعا کی جائے، اس کا ذکر خود قران مجید میں ہے اور باقاعدہ اس کی ترغیب دی گئی ہے: قال اللہ تعالیٰ: فَاعلَم أَنَّہُ لَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ وَاستَغفِر لِذَنبِکَ وَلِلمُؤمِنِینَ وَالمُؤمِنَاتِ وَاللَّہُ یَعلَمُ مُتَقَلَّبَکُم وَمَثوَاکُم (محمد:۱۹)

دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اپنی مالی عبادات (صدقہ، خیرات وغیرہ) کا ثواب کسی کو بخشا جائے، جیساكہ صحیح بخاری میں ہے: أنبأنا ابن عباس رضي الله عنهما: أن سعد بن عبادة رضي الله عنه توفيت أمه وهو غائب عنها، فقال: يا رسول الله إن أمي توفيت وأنا غائب عنها، أينفعها شيء إن تصدقت به عنها؟ قال: «، قال: فإني أشهدك أن حائطي المخراف صدقة عليها (صحيح البخاري ،۴/ ۷) 

ترجمہ: ’’حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ جو بنی ساعدہ میں سے تھے، ان کی والدہ فوت ہو گئیں، اس موقع پر وہ ان کے پاس نہیں تھے، (جب واپس پہنچے) تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور پوچھا: یا رسول اللہ! میری والدہ فوت ہو گئی ہیں اور میں ان کے پاس نہیں تھا، کیا کوئی چیز اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں، تو انھیں فائدہ دے گی؟ آپ نے فرمایا: ہاں، اس پر انھوں نے کہا: آپ گواہ رہیے، یہ میرا مخراف (نامی باغ) ان (کے نام) پر صدقہ ہے“۔

 تیسرا طریقہ یہ ہے کہ اپنی بدنی عبادات (نماز، روزہ وغیرہ) کا ثواب کسی کو بخشا جائے، اور اس کا ثواب زندوں اور مردوں کو پہنچایاجا سکتا ہے۔

لہذا مذكورہ صورت میں آپ جو آیات یا سورتیں حفظ كرنے كے لیے بار بار پڑھتے ہیں، ان كو پڑھ كر ایصال ِ ثواب  كرسكتے ہیں، چاہیں زندوں كو كریں یا مرودوں كو۔

وقول النبی صلی اللہ علیہ وسلم لا یصوم أحد عن أحد ولا یصلی أحد عن أحد أی فی حق الخروج عن العھدۃ لا فی حق الثواب، فإن من صام أو صلی أو تصدق وجعل ثوابہ لغیرہ من الأموات أو الأحیاء جاز ویصل ثوابھا إلیھم عند أھل السنۃ والجماعۃ…وعلیہ عمل المسلمین من لدن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إلی یومنا ھذا من زیارۃ القبور وقرائۃ القرآن علیھا والتکفین والصدقات والصوم والصلاۃ وجعل ثوابھا للأموات (بدایٔع الصنایٔع، ۲۲۱۲) 

مطلب فی القرائۃ للمیت وإھداء ثوابھا لہ تنبیہ صرح علماؤنا فی باب الحج عن الغیر بأن للإنسان أن یجعل ثواب عملہ لغیرہ صلاۃ أو صوما أو صدقۃ أو غیرھا کذا فی الھدایۃ بل فی زکاۃ التاترخانیۃ عن المحیط الأفضل لمن یتصدق نفلا أن ینوی لجمیع المؤمنین والمؤمنات لأنھا تصل إلیہم ولا ینقص من أجرہ شیئا ھو مذہب أھل السنۃ والجماعۃ لکن استثنی مالک والشافعی العبادات البدنیۃ المحضۃ کالصلاۃ والتلاوۃ فلا یصل ثوابھا إلی المیت عندھما بخلاف غیرھا کالصدقۃ والحج وخالف المعتزلۃ فی الکل وتمامہ فی فتح القدیر أقول ما مر عن الشافعی ھو المشھور عنہ… وأما عندنا فالواصل إلیہ نفس الثواب وفی البحر من صام أو صلی أو تصدق وجعل ثوابہ لغیرہ من الأموات والأحیاء جاز ویصل ثوابھا إلیھم عند أھل السنۃ والجماعۃ کذا فی البدایٔع ثم قال وبھذا علم أنہ لا فرق بین أن یکون المجعول لہ میتا أو حیا والظاھر أنہ لا فرق بین أن ینوی بہ عند الفعل للغیر أو یفعلہ لنفسہ بعد ذلک یجعل ثوابہ لغیرہ لإطلاق کلامھم وأنہ لا فرق بین الفرض والنفل اہ وفی جامع الفتاوی وقیل لا یجوز فی الفرایٔض اہ وفی کتاب الروح للحافظ أبی عبد اللہ الدمشقی الحنبلی الشھیر بابن قیم الجوزیۃ ما حاصلہ أنہ اختلف فی إھداء الثواب إلی الحی فقیل یصحح لإطلاق قول أحمد یفصل الخیر ویجعل نصفہ لأبیہ أو أمہ وقیل لا لکونہ غیر محتاج لأنہ یمکنہ العمل بنفسہ …وقد نقل عن جماعۃ أنھم جعلوا ثواب أعمالھم للمسلمین وقالوا نلقی اللہ تعالی بالفقر والإفلاس والشریعۃ لا تمنع من ذلک. (حاشية ابن عابدين، ۲/۲۴۳)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4628 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔


لرننگ پورٹل