لاگ ان / رجسٹر
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022

ايک غير شادی شده آدمی كوانتہائی غلبہ شہوت کی وجہ سے زنا یا مشت زنی وغيره کی گنجائش ہوسكتی ہے یا نہیں؟ 

الجواب باسم ملهم الصواب

زنا کی حرمت اور مذمت قرآن پاک کی بے شمار آیات اور احادیث مبارکہ میں وارد ہوئی ہے، جن کا حاصل یہ ہے کہ شرک کے بعد بڑے گناہوں میں سے سنگین ترین گناہ زنا بھی ہے اور اس کی سخت ترین سزائیں دنیا اور آخرت میں بیان کی گئی ہیں، لہذا شہوت كے غلبہ كی وجہ سےزنا جیسے گھناؤنے فعل کا ارتکاب کرنا حرام وسخت گناہ ہے، زنا كرنے كی كبھی كسی صورت  میں كوئی گنجائش نہیں۔

نیز مشت زنی كے بارے میں احادیث میں سخت وعیدیں آئی ہیں، ایک حدیث شریف میں ہے کہ قیامت کے دن بعض لوگ اس طرح آئیں گے کہ ان کے ہاتھ حاملہ ہوں گے، اوروہ مشت زنی کرنے والے ہوں گے (تمام لوگوں كے سامنے رُسوا ہوں گے) اور ایک دوسری حدیث شریف میں مشت زنی کرنے والے کو ملعون قرار دیا گیا ہے۔

لہذازنااورمشت زنی  سے بچنے کا بہترین حل شادی ہے، اگر کسی کی شادی نہ ہوئی ہو اور خواہشات نفس کا غلبہ ہو، اسی طرح شادی کا بھی بندوبست نہ ہواور خواہشات کا اتنا غلبہ ہو کہ زنا میں پڑ جانے کا خوف ہو تواسے چاہیئے کہ مسلسل روزے رکھے اور روزوں کے ذریعے اپنی شہوت کو توڑے۔ اسی طرح نیك لوگوں كی صحبت اختیار كرے، اللہ والوں كی مجالس میں شركت كرے، اس طرح نفس پر قابوپانے میں مدد ملے گی، ان شاء اللہ۔

عن عبد الرحمن بن يزيد، قال: دخلت مع علقمة والأسود علی عبد الله، فقال عبد الله: كنا مع النبي صلی الله عليه وسلم شبابا لا نجد شيئا، فقال لنا رسول الله صلی الله عليه وسلم:يا معشر الشباب، من استطاع الباءة فليتزوج، فإنه أغض للبصر وأحصن للفرج، ومن لم يستطع فعليه بالصوم فإنه له وجاء (البخاری،۲/۷۵۸)

قوله (الاستمناء حرام)أي: بالكف إذا كان لاستجلاب الشهوة (رد المحتار ،۴/۲۷)

عن أنس بن مالك، عن النبي صلی الله عليه وسلم قال: "سبعة لا ينظر الله عز وجل إليهم يوم القيامة، ولا يزكيهم، ولا يجمعهم مع العالمين، يدخلهم النار أول الداخلين إلا أن يتوبوا، إلا أن يتوبوا، إلا أن يتوبوا، فمن تاب تاب الله عليه الناكح يده، والفاعل والمفعول به، والمدمن بالخمر، والضارب أبويه حتی يستغيثا، والمؤذي جيرانه حتی يلعنوه، والناكح حليلة جاره "تفرد به هكذا مسلمة بن جعفر هذا" قال البخاري في التاريخ قال قتيبة: عن جميل هو الراسبي، عن مسلمة بن جعفر، عن حسان بن جميل، عن أنس بن مالك قال: "يجيء الناكح يده يوم القيامة ويده حبلی" (شعب الإيمان،۷/۳۲۹)

قولہ ولوخاف الزنی الظاھر أنہ غیر قید بل لو تعین الخلاص من الزنی بہ وجب لأنہ أخف وعبارۃ الفتح فإن غلبتہ الشھوۃ ففعل إرادۃ تسکینھا بہ فالرجاء أن لا یعاقب، زاد فی معراج الدرایۃ وعن أحمد والشافعی فی القدیم الترخص فیہ وفی الجدید یحرم ویجوز أن یستمنی زوجتہ وخادمتہ وسیذکر الشارح فی الحدودعن الجوهرۃ أنہ یکرہ ولعل المراد بہ کراهۃ التنزیہ فلا ینافی قول المعراج تأمل وفی السراج إن أراد بذلک تسکین الشھوۃ المفرطۃ الشاغلۃ للقلب وکان عزبا لا زوجۃ لہ ولا أمۃ أو کان إلا أنہ لا یقدر علی الوصول إلیھا لعذر قال أبو اللیث أرجو أن لا وبال علیہ وأما إذا فعلہ لاستحلاب الشہوۃ فھو آثم (رد المحتار،۲۳۹۹)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4626 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

لرننگ پورٹل