لاگ ان
منگل 01 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 27 ستمبر 2022
لاگ ان
منگل 01 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 27 ستمبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
منگل 01 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 27 ستمبر 2022
منگل 01 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 27 ستمبر 2022

آپ سے پوچھنا یہ ہے کہ منت کا بذات خود کیا حکم ہے؟ اور کن حالات میں منت مانی جاسکتی ہے اور کن حالات میں نہیں مانی جاسکتی؟ 

الجواب باسم ملهم الصواب

نذر کا شرعی معنیٰ ہے کسی شرط پر کوئی عبادت اپنے ذمہ لے لینا، مثلاً: اگر فلاں کام ہوجائے تو میں اتنے نفل پڑھوں گا، اتنے روزے رکھوں گا، بیت اللہ کا حج کروں گا، یا اتنی رقم فقراء کو دوں گا وغیرہ، اس کو منّت بھی کہا جاتا ہے۔

شرعاً منّت ماننا جائز ہے، مگر منّت ماننے کی چند شرطیں ہیں، اوّل یہ کہ منّت اللہ تعالیٰ کے نام کی مانی جائے، غیراللہ کے نام کی منّت جائز نہیں، بلکہ گناہ ہے۔ دوم یہ کہ منّت صرف عبادت کے کام کی صحیح ہے، جو کام عبادت نہیں اس کی منّت بھی صحیح نہیں، سوم یہ کہ عبادت بھی ایسی ہو کہ اس طرح کی عبادت فرض یا واجب بھی ہو، جیسے نماز، روزہ، حج، قربانی وغیرہ، ایسی عبادت کہ اس کی جنس کبھی فرض یا واجب نہیں، اس کی منّت بھی صحیح نہیں۔ اورناجائز کام کی نذر ماننا جائز نہیں، ایسی نذر ماننے کی صورت میں اسے پورا نہ کیا جائے بلکہ اس کے بدلے میں قسم کا کفارہ ادا کردیا جائے۔ 

البتہ نذر میں چونکہ عموماً اللہ تعالیٰ کی عبادت کو شرط کے ساتھ معلق کیا جاتا ہے، اس لیے رسول اللہ ﷺ نے نذر ماننے کو ناپسند فرمایا ہے۔ چنانچہ فرمایا کہ ’’نذر مت مانو، کیونکہ یہ تقدیر کو ٹال نہیں سکتی، بلکہ یہ تو بخیل شخص سے مال نکلوانے کا ایک ذریعہ ہے۔‘‘

 یعنی نذر ماننے کی وجہ سے وہ چیز نہیں مل سکتی جس کا ملنا تقدیر میں لکھا ہی نہیں، چنانچہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کے لیے ایسی شرط رکھنے کا کیا فائدہ؟ مؤمن کو تو ہر دم طاعت خداوندی کے لیے کمربستہ رہنا چاہیے، البتہ نذر کی وجہ سے چونکہ نیک کام واجب ہوجاتا ہے اس لیے ایسا شخص بھی صدقہ خیرات کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے، جو عام حالات میں اپنے بخل کی وجہ سے صدقہ وغیرہ نہیں دیتا۔

(النُّذور): جمع نذر، قيل: هو وعدٌ بطاعة الله على شرطٍ؛ يعني: إيجاب طاعةٍ على نفسه على شرطٍ، كما لو قال: إن شفى الله مريضي، فله عليَّ إعتاقُ رقبة.. . قال رسولُ الله – صلى الله عليه وسلم -: "لا تَنْذُروا فإنَّ النَّذرَ لا يُغْني من القَدَرِ شيئًا، وإنما يُستَخرَجُ بهِ مِن البخيلِ".

قوله: "لا تنذروا؛ فإن النذرَ لا يُغني من القَدَر شيئًا"، أراد بهذا النهي: تأكيدًا لأمر النذر، وتحذيرًا عن التهاون به بعد لزومه؛ لأنه لو لم يكن كذلك، لَمَا وجبَ على الناذرِ الوفاءُ بنذره؛ لأنه إذا كان مَنهيًّا عنه، يكون الإتيانُ به معصيةً، وتركُ المعصية واجبٌ، وكلُّ ما كان تركُه واجبًا، كيف يلزمُ الوفاءُ به؟! وإذا تقرَّر هذا فوجهُ الحديث: أنَّ النذرَ لا يردُّ القضاءَ السماويَّ، ولا يجلب لصاحبه نفعًا، ولا يدفعُ عنه ضرًا؛ بل معناه: أنه لا تنذروا على ظنِّ أنكم تنتفعون بشيءٍ لم يُقدِّرْه الله سبحانه، أو تدفعون عن أنفسكم به القضاءَ الأزليَّ الذي جرى عليكم، فإذا نذرتُم فأتوا بالمنذور؛ فإنَّ الذي نذرتُمُوه، لزم عليكم الوفاءُ به، هذا ما أورده الخطَّابي – رحمه الله – في "معالمه". قوله: "وإنما يُستخرَجُ به من البخيل"، (يُستخرَج) معناه: يخرج، الضمير في (به) يعود إلى النذر؛ يعني: يُخرَج المالُ من البخيل بواسطة النذر؛ يعني: مَن لم يكن فيه بخلٌ، فهو يعطي باختياره من غير واسطة النذر، ومَن كان فيه بخلٌ، فلا يعطي إلا إذا وجبَ عليه الإعطاءُ بالنذر. وفيه دليلٌ على وجوب الوفاء بالنذر إذا لم يكن معصيةً، فإذا امتنعَ عن الوفاء بالنذر، ألزمَه الحاكمُ بالوفاء.

فعلم أنهم أرادوا باشتراط كونه ليس بمعصية كون المعصية باعتبار نفسه حتى لا ينفك شيء من أفراد الجنس عنها وحينئذ لا يلزم لكنه ينعقد للكفارة حيث تعذر عليه الفعل ولهذا قالوا لو أضاف النذر إلى سائر المعاصي كقوله لله علي أن أقتل فلانا كان يمينا ولزمته الكفارة بالحنث فلو فعل نفس المنذور عصى وانحل النذر كالحلف بالمعصية ينعقد للكفارة (البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري، ٢/ ٣١٧)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر2090 :

لرننگ پورٹل