لاگ ان / رجسٹر
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022

حضرت مولانا مفتی نذیر احمد ہاشمی مدظلہ

رئیس شعبۂ تحقیق و تصنیف، فقہ اکیڈمی

اَلْقَوَاعِدُ الْفِقْهِيَّة: دو الفاظ سے مرکب ہے، (۱)القواعد (۲) الفقهية پہلےدونوں اجزاکی تعریف کی جائے گی اور  بعد   ازاں مرکب کی تعریف پیش کی جائے گی۔

القواعد کی تعریف: لغت کے اعتبار سے اس کا معنی الاساس(بنیاد) ہے، اور اسی سے امرؤ القیس کا یہ قول ہے:

قعدت له و صحبتي بين ضارج                وبين العذيب بعد ما متأمل [1]

یہ القاعدہ کی جمع کثرت ہے اور اس کا ماخذ قعد یقعد(ن) قعوداً ہے ،جس کا معنی جلوس  یعنی بیٹھنا ہے، جو قیام کی ضد ہے۔[2] قعود  میں استقرار، سکون اور ثبوت کا مفہوم پایا جاتا ہے  اور اسی سے  قرآنی ترکیب   ’’مَقَاعِدَ لِلْقِتَالِ‘‘ ماخوذ ہے۔امام راغب اصفہانی نے مفردات القرآن میں لکھا ہے، کسی کام میں سستی کا مظاہرہ کرنے والے کو القاعد کہا جاتا ہے ، اور بطور استشہاد قرآن مجید کی مندرجہ ذیل آیت پیش کی ہے:﴿لَا يَسْتَوِي الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ غَيْرُ اُولِي الضَّرَرِ﴾ (النساء:۹۵)

قواعدا لبیت کا معنی گھر کی بنیادیں ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:﴿وَ اِذْ يَرْفَعُ اِبْرٰهيمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَ اِسْمٰعِيْلُ﴾ (البقرۃ:۱۲۷) اسی طرح ارشادِ خداوندی ہے:﴿قَدْ مَكَرَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَاَتَى اللّٰهُ بُنْيَانَهُمْ مِّنَ الْقَوَاعِدِ فَخَرَّ عَلَيْهِمُ السَّقْفُ مِنْ فَوْقِهِمْ﴾(النحل:۲۶)

القواعد: قاعد کی جمع ہے بغیر ’ہ‘ کے ، گھر بیٹھی ہوئی عمر رسیدہ عورت۔ قرآن کریم میں ہے :﴿وَ الْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَآءِ الّٰتِيْ لَا يَرْجُوْنَ نِكَاحًا﴾ (النور:۶۰)جہاں تک قاعدہ بروزن فاعلۃ کا تعلق ہے تو وہ قعدت قعودا سے مشتق ہے، جو خاتون گھر میں بیٹھی ہوئی ہو  اس کے بارے میں کہا جاتا ہے’’قاعدة في بیتها‘‘[3]اس کی جمع بھی قواعد آتی ہے۔صرفی لحاظ سے قواعد فواعل کے وزن پر ہے اور اس وزن پر سات نوع کی جمعیں آتی ہیں۔ ابن مالک نے الفیہ میں لکھا ہے:

فواعل لفوعل وفاعل              وفاعلاء مع نحو کاهل

وحائض وصاهل وفاعله       وشذ في الفارس مع ما ماثله[4]

’’المُقعد‘‘ قیام کی طاقت نہ رکھنے والے مریض کو کہا جاتا ہے، اور اس نام کے رکھنے کی وجہ  اس کا زمیں  پر قرار پکڑنا  ہے۔’’القُعَاد‘‘ایک بیماری کا نام ہے، جو اونٹ کے کولہوں میں لگتی ہے، جس کی وجہ سے اونٹ اٹھنے سے قاصر ہوکر زمین پر بیٹھا رہتا ہے۔’’قعیدة الرجل‘‘ بیوی کو کہا جاتا ہے، کیوں کہ بیوی بھی اکثر  اوقات گھر میں ٹکی رہتی ہے۔’’القُعْدُد‘‘ کمینہ آدمی جو مکارم اخلاق کی انجام دہی سے باز رہتا ہے۔اسلامی سال کے گیارہویں مہینے کو ’’ذوالقعدة‘‘ اس لیے کہا جاتا ہے کہ اہل عرب اس مہینے میں سفر اور غزوات میں شرکت سے اجتناب کرکے گھروں میں بیٹھے رہتے تھے۔

القاعدۃ کا اصطلاحی مفہوم

بہت سارے  علماے کرام نے قاعدہ کی اصطلاحی تعریف  بیان کی ہے ہم ان میں سے چند  پیش کرتے ہیں۔

(۱)  الفیومی نے اپنی کتاب ’’المصباح المنیر‘‘میں لکھا ہے:القاعدة:هي الأمر الكلي المنطبق على جميع جزئياته. [5]  ’’وہ امر کلی جو اپنی تمام تر جزئیات پر حاوی ہو‘‘۔(۲)القاعدة هي قضية كلية منطبقة على جميع جزئياتها[6] ’’وہ قضیہ کلیہ جو اپنی تمام تر جزئیات پر منطبق ہوتا ہو‘‘۔(۳)بعض علماء نے لکھا ہے کہ قاعدہ ،  کلیہ نہیں بلکہ اکثریہ ہوتا ہے، یہ دیکھتے ہوئے کہ بہت ساری جزئیات اس کے حکم سے خارج ہوتی ہیں۔ چناں چہ انھوں  نے درج ذیل تعریف کی ہے: القاعدة: هي حكم أكثري لا كلي ينطبق على أكثر جزئياته لتعرف أحكامها منه. [7] ’’القاعدہ وہ حکم اکثری نہ کہ کلی ہے، جو اپنی اکثر جزئیات پر منطبق ہو اور ان جزئیات کا حکم اس سے معلوم ہوتا ہو ‘‘۔

(۴)علامہ کفوی نے مندرجہ ذیل تعریف کی ہے:القاعدة: هي قضية كلية من حيث اشتمالها بالقوة على أحكام جزئيات موضوعها[8] ’’وہ قضیہ کلیہ جو اپنے موضوع کے جزئیات کے حکم پر بالقوہ مشتمل ہو‘‘۔(۵)تاج الدین سبکی نے الأشباه والنظائر میں درج ذیل تعریف کی ہے:القاعدة: الأمر الكلي(القضية الكلية) ينطبق عليه جزئيات كثيرة تفهم منها[9] ’’وہ امر کلی یا قضیہ کلیہ جس پر بہت ساری وہ جزئیات منطبق ہوں، جو اس سے مفہوم ہوتے ہوں‘‘۔

مندرجہ بالا تعریفات پر ایک نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض علماء نے ’’القواعد‘‘ کی تعریف میں ’’کلیۃ‘‘ جبکہ بعض نے ’’الکلیة‘‘ کی بجائے اکثریہ کی قید لگائی ہے۔ لیکن یہ اختلاف کوئی جوہری اختلاف نہیں ہے۔ کیوں کہ جن علماء نے اکثریہ کی قید لگائی ہے، ان کی نظر اس حقیقت کی طرف ہے کہ بعض جزئیات ایسی ہیں، جن پر متعلقہ قاعدہ منطبق نہیں ہوتا۔ اور جنہوں نے ’’الکلیة‘‘ کی قید لگائی ہے، انھوں  نے درج ذیل اصولوں کو پیشِ نظر رکھا ہے  :

 للأکثر حکم الکل،’’ اکثر پر کل کا حکم لگا ہی دیا  جاتا ہے ‘‘  الاستثناءات مؤکدات للکلیات’’   مستثنیات ، کلیات  کو موکد کرنے کا کام کرتے ہیں ‘‘۔من القواعد عدم إطراد القواعد’’ قواعدکا ایک طرز و نہج پر نہ ہونا یعنی تمام تر جزئیات پر حاوی نہ ہونا بھی قواعد میں سے ہے‘‘۔لہذا بعض جزئیات پر قواعد کا عدم انطباق مضر نہیں۔ لہذا علامہ کفوی کی بیان کردہ تعریف زیادہ مناسب ہے جس  کے   مطابق قاعدہ کی اصطلاحی تعریف یوں ہے: قضية كلية يتعرف منها على أحكام جزئياتها [10]

القواعد کی تعریف میں ماخوذ لفظ قضیہ  کی تعریف

قول يصح أن يقال لقائله أنه صادق فيه أو كاذب فيه. [11] ’’ وہ قول جس کے کہنے والے کو صادق یا کاذب کہا جاسکے‘‘۔اخضری نے  اپنے منظومے میں  لکھا ہے:

ما احتمل الصدق لذاته جرى                 عندهم قضية وخبرا[12]

علامہ سیوطی رحمۃ الله علیہ نے قضیة کی تعریف کرتے ہوئے لکھا ہے:

القضية: هي قول فيه حكم يُسْنَدُ إلى شيء يصح نفيه أو إثباته. [13] قضیہ وہ قول ہے، جس میں کسی شے کی طرف کوئی ایسا حکم منسوب کیا جائے، جس کی طرف نفی یا اثبات کی نسبت صحیح ہوسکے۔مناطقہ جس کو قضیہ  کہتے ہیں، اصولیین  اس کو خبر کہتے ہیں۔

الكلية کی تعریف:

القضية التي حكم فيها على جميع الأفراد ’’کلیہ وہ قضیہ ہے جس میں تمام افراد پر حکم لگایا جائے‘‘ ۔

الاخضری نے منظومہ میں الکلیہ کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے:

وحيثما لكل فردٍ حكماً                          فإنه كلية قد علماً[14]

’’ جو حکم   تمام  افراد پر لاگو ہو جائے جان لو وہ     کلیہ   ہے ‘‘۔

علامہ کفوی نے یہ تعریف کی ہے:

الکلية: هي الحكم على كل فرد. نحو كل بني تميم يأكلون الرغيف.[15]

’’کلیہ ہر فرد پہ لگ سکنے والا حکم   ہوتا ہے جیسے  یہ جملہ کہ بنو تمیم  سارے کے سارے  رغیف کھاتے ہیں ‘‘۔

جزدوم’’الفقہ‘‘ کی تعریف

لغت میں الفقہ  کا معنی  ’ الفهم، یعنی  سمجھ بوجھ ہے   لیکن اس سے مراد گہری سمجھ  ہوتا ہے۔ قرآن کریم  میں قوم شعیب  کے قول کو ذکر کرتے ہوئے  فرمایا گیا :﴿يٰشُعَيْبُ مَا نَفْقَهُ كَثِيْرًا مِّمَّا تَقُوْلُ﴾(ھود:۹۱) ’’اے شعیب آپ کی بہت سی باتیں تو ہماری سمجھ  ہی میں نہیں ‘‘۔منافقین کے بارے میں اللہ تعالی کا  ارشاد ہے :﴿فَمَالِ هٰؤُلَاءِ الْقَوْمِ لَا يَكَادُوْنَ يَفْقَهُوْنَ حَدِيْثًا﴾ (النساء:۷۸) ’’ ان لوگوں کو کیا ہوا ہے  یہ کوئی بات سمجھنے کے نزدیک تک نہیں آتے‘‘مندرجہ بالا دونوں آیات کریمہ میں فقہ کا لفظ مطلق علم کے لیے نہیں بلکہ دقیق فہم، لطیف ادراک اور متکلم کی غرض ومقصود کو جاننے کے لیے استعمال ہوا ہے۔ اسی لیے بعض اصولیین نے فقہ کے لغوی مفہوم میں دو امور کا اضافہ کیا ہے:

(۱) إدراك الأشياء الخفية وفهم الامور الدقيقة. [16] ’’خفی اور دقیق امور کا فہم اور ادراک‘‘۔

(۲)فهم غرض المتكم من كلامه. [17]  ’’متکلم کے کلام کی غرض کو سمجھنا ‘‘۔

ليكن جمہور اصولیین نے فقہ کی تعریف میں ان دونوں قیود کو ملحوظ نہیں رکھا ہے۔ بلکہ وہ اہل لغت کی بیان کردہ تعریف کے ساتھ ہی اتفاق کرتے ہیں۔[18]

الفقہ کی اصطلاحی تعریف

اہلِ علم نے فقہ کی متعدد اصطلاحی تعریفات بیان  کی ہیں، ان میں سے چند ایک ہم پیش کرتے ہیں (۱)علامہ کاسانی رحمۃ الله علیہ نے ’’الفقہ’’ کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے: علم الحلال والحرام وعلم الشرائع والأحكام ’’حلال وحرام اور شرائع واحکام کا علم فقہ کہلاتا ہے‘‘۔

(۲) العلم بالأحكام الشرعية العملية المكتسب من أدلتها التفصيلية. أو هو هذه الأحكام نفسها.[19] ’’شریعت کے عملی احکام کا علم جو شریعت کے تفصیلی دلائل سے حاصل ہو، یا    احکام ِ شریعت  ہی کو   فقہ کہا جاتا ہے‘‘۔

(۳) امام اعظم رحمۃ الله علیہ نے   فقہ کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے: معرفة النفس مالها وما عليها.[20] ’’یعنی ان احکام کی معرفت، جس پر عمل کرنا انسان کے لیے مفید ہے یا مضر ہے‘‘۔

اس تعریف میں معرفت  کا مطلب ہے  ’إدراك الجزئيات عن دليل‘       ’ ’دلیل سے جزئیات کا ادراک کرنا  ‘‘

امام صاحب کی مذکورہ بالا فقہ کی تعریف اعتقادیات کے احکام(وجوب ایمان وغیرہ) وجدانیات کے احکام(اخلاق وتصوف) عبادات و معاملات کے احکام(نماز ، روزہ، خرید وفروخت، وغیرہ،) سب کو شامل ہے۔ لیکن فقہ کی یہ تعریف امام موصوف کے زمانے تک ہی محدود رہی، بعد میں جب علوم اسلامی کے مختلف شعبوں کی الگ الگ  تدوین و ترتیب   کا مرحلہ آیا  جیسے اعتقادیات  اور اس کے دلائل  کے لیے   ،  علم الکلام یا علم التوحید مرتب کیا گیا ، اسی طرح ’وجدانیات ‘ کے مطالعے   کے لیے علم الاخلاق والتصوف ،  ایک الگ  شعبے کے طور پر  وجود   میں آیا  ، جس میں زہد، صبر ورضا اور حضور قلب فی الصلاۃ وغیرہ جیسے موضوعات زیر بحث لائے گئے، تو پھر فقہ کی اصطلاحی تعریف ’’معرفة النفس مالها وما عليها من الاحكام العملية‘‘ تک محدود ہوگئی۔اور علماے حنفیہ کو اعتقادیات اور وجدانیات کو فقہ کی تعریف سے نکالنے کے لیے ’’عملاً‘‘کے لفظ کا اضافہ کرنا پڑا۔ امام اعظم رحمۃ الله علیہ کے نزدیک فقہ چوں کہ امور سابقہ پر مشتمل تھی، اس لیے انھوں  نے ’’عملاً‘‘ کے لفظ کا اضافہ نہیں کیا۔

علمائے اصول کے نزدیک فقہ کی  سب سے زیادہ مشہور تعریف وہ ہے جو امام شافعی رحمۃ الله علیہ نے کی ہے: العلم بالأحكام الشرعية العملية المكتسب من أدلتها التفصيلية أو هو مجموعة الأحكام الشرعية العملية المكتسبة من أدلتها التفصيلية. [21]فقہ:شریعت کے ان عملی احکام کا علم ہے، جو شریعت کے تفصیلی دلائل سے حاصل ہو، یا فقہ شریعت کے ان عملی احکام کے مجموعے کا نام ہے، جو شریعت کے تفصیلی دلائل سے حاصل ہوا ہو۔

فقہ کی تعریف میں مذکور’العلم‘ سے مراد’’الإدراك الجازم على سبيل اليقين والجزم‘‘ نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد وہ ادراک ہے، جو یقین اور ظن دونوں کو شامل ہو۔ کیوں کہ شریعت کے عملی احکام جس طرح دلائل قطعیہ سے ثابت ہوتے ہیں، اسی طرح دلائل ظنیہ سے بھی ثابت ہوتے ہیں، کیوں کہ عملی احکام میں  ادلہ ظنیہ کا اعتبار کیا جاتا ہے۔ جیساکہ اصولیین کا مشہور قول ہے’’الفقه من باب الظنون‘‘۔شیخ مصطفیٰ الزرقاء نے اپنی کتاب’’المدخل الفقهي العام‘‘ میں فقہ کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے: مجموعة الأحكام العملية المشروعة في الإسلام.[22] ’’ ان عملی احکام کا مجموعہ جو اسلام میں مشروع ہوا ہے‘‘۔

القواعد الفقهية کی تعریف باعتبار علم اور لقب(برائے مخصوص فن)

متقدمین اصولیین کی کتابوں میں نظر دوڑانے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے کسی نے بھی قواعدِ فقہیہ کی کوئی مخصوص تعریف نہیں کی ہے، بلکہ اکثر نے اپنی کتابوں میں اصول فقہ کی تعریف کی ہے۔ لہذا ’’القواعد الفقهية‘‘ کی باعتبار علم کے تعریف سے قبل اصول فقہ اور قواعد فقہ کے درمیان فرق کا جاننا لازمی ہے۔

اس بارے میں علماے اصول کے دو نقطۂ نظر سامنے آتے ہیں:

(۱)اصولِ فقہ عام اور قواعدِ فقہ؛ اصولِ فقہ کا جز ہونے کی وجہ سے خاص ہیں، کیونکہ علمِ اصولِ فقہ کی تعریف کے تین عناصر ہیں: (الف) ادلۂ شرعیہ، (ب)احکامِ شرعیہ، (ج)استنباطِ احکام کے قواعد۔[23]

اصولِ فقہ کی تعریف کا تیسرا جز ’’استنباطِ احکام کے قواعد‘‘ میں قواعد کو اصول فقہ کا جز بنایا گیا ہے۔

(۲)دوسرا نقطہ نظر: قواعدِ فقہیہ اور قواعد اصولیہ دونوں مترادف ہیں، دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔[24] اگر دقیق نظر سے دیکھا جائے تو دوسرا نقطہ نظر صحیح معلوم ہوتا ہے، کیوں کہ اصول فقہ کی تعریف ان الفاظ میں کی گئی ہے: العلم بالقواعد التي يتوصل بها إلى استنباط الأحكام الشرعية العملية من أدلتها التفصيلية. [25]

اور ماسبق میں القاعدہ کی تعریف ان الفاظ میں کی گئی ہے: قضية كلية يتعرف منها على أحكام جزئياتها.

دونوں کی تعریفوں کو مدنظر رکھ کر قواعد اصولیہ کی تعریف ان الفاظ میں کی جاسکتی ہے۔

القضايا الكلية التي يتوصل بها إلى استنباط الأحكام الشرعية الفرعية من أدلتها التفصيلية . وہ قضایا کلیہ جن کے ذریعے شریعت کے تفصیلی دلائل سے شریعت کے فروعی احکام کے استنباط کی طرف پہنچا جاسکے۔[26]

قواعدِ فقہیہ کی تقسیمات

قواعدِ فقہیہ کی مختلف اسباب کی بنا پر تین تقسیمات کی جاتی ہیں:

(۱)وسعت، شمول اور تمام تر ابوابِ فقہیہ کو شامل ہونے کے اعتبار سے،

(۲)ماخذ ومصدر کےلحاظ سے،

(۳)اتفاق واختلافِ علماء کے اعتبار سے۔

باعتبار وسعت وشمول اور استیعاب للأبواب الفقهیه کے اعتبار سے قواعد کی دو قسمیں ہیں۔

(الف) وہ قواعدِ فقہیہ کلیہ جن کے تحت کثیر مسائل فقہ درج ہوتے ہیں اور جو فقہ کے تمام تر ابواب پر حاوی ہوتے ہیں۔ مثلاً درج ذیل پانچ قواعد، جن کے بارے میں فقہاء کا کہنا ہے کہ یہ قواعد فقہ کی بنیاد ہیں:

۱) الأمور بمقاصدها. (امور(کی صحت جائز وناجائز) کا دارومدار اس سے وابستہ ارادے پر ہے)۔

۲)اليقين لا يزول بالشك. (یقین شک سے زائل نہیں ہوتا)۔

۳) المشقة تجلب التيسير. (مشقت آسانی کو کھینچ لاتی ہے)۔

۴)الضرر يزال. (ضرر کا ازالہ کیا جائے)۔

۵)العادة محكمة. (عادت فیصلہ کن چیز ہے)۔

(ب) وہ قواعد کلیہ جن کی وسعت قاعدہ اولیٰ کی نسبت کم ہے اور جو فقہ کے مختلف ابواب کے متعدد مسائل پر حاوی ہوتے ہیں۔ مثلاً الحدود تسقط بالشبهات. [27]

دوسری تقسیم مصدر وماخذ کے اعتبار سے ہے، اس کی بھی دو قسمیں ہیں:

(الف)جن کا مصدر قرآن مجید یا سنت نبویہ ہے۔ مثلاً الأمور بمقاصدها.

(ب) جن کا مصدر علماء کے اقوال ہیں۔ مثلاً امام شافعی رحمۃ الله علیہ کا قول ہے۔ لا ينسب إلى ساكت قول.[28] (خاموش آدمی کی طرف کوئی بات منسوب نہیں کی جائے گی)۔

اسی طرح قاعدہ: إذا سقط الأصل سقط الفرع. [29](اصل کے سقوط کے ساتھ فرع کا سقوط بھی ہوجاتا ہے)۔

تیسری تقسیم اتفاق واختلاف علماء کے اعتبار سے ہے، اس کی بھی دو قسمیں ہیں۔

(الف) وہ قواعدِ فقہیہ جن پر تمام علماء کا اتفاق ہے۔ مثلاً تقسیم اول کی شق نمبر(الف) کے تحت مذکور پانچ قواعدِ فقہیہ۔

(ب)وہ قواعدِ فقہیہ جن میں علماء کا اختلاف ہے۔ مثلاً الرخص لا تناط بالمعاصي. (رخصتیں معاصی پر نہیں ملا کرتیں)۔

[1] شرح المعلقات السبع للزوزني، ص:54

[2] المصباح المنیر للفیومي، کتاب القاف، ص:303

[3]. لسان العرب، كتاب الدال، فصل القاف، 3/357

[4]. شرح ابن عقيل على ألفية ابن مالك، 4/131

[5]. المصباح المنير، كتاب القاف، ص:303

[6]. التعريفات للجرجاني، ص:172، تيسير التحرير لأمير بادشاه، 1/14، التوقيف لمهمات التعارف للمناوي، ص:266

[7]. غمز عيون البصائر لشهاب الدين الحموي، 1/51

[8]. الكليات للكفوي، ص:728

[9]. الأشباه والنظائر، 1/46

[10]. البدر الطالع في حل جمع الجوامع للمحلي، 1/74، الثمار اليوانع على جمع الجوامع للأزهري، ص:26

[11]. التعريفات للجرجاني، ص:257

[12]. شرح السلم في المنطق لعبد الرحيم الجندي، ص:56

[13]. معجم مقاليد العلوم في الحدود والرسوم للسيوطي، ص125، موسوعة كشاف اصطلاحات الفنون والعلوم، 2/1325

[14]. شرح السلم في المنطق، ص:35

[15]. الكليات، ص:745

[16]. شرح اللمع، 1/157، شرح تنقيح العضول، ص:116، الإلهاج، 2/72، شرح الكوكب المنير، 1/41

[17]. المعمتد للبصري، 1/4، القواطع للسمعاني، 1/90، المحصول للرازي، 1/78، كشف الأسرار للنسفي، 1/9

[18]. ملاحظہ ہوں: ابن عقیل کی الواضح، ابن برہان کی الأصول، سیف الدین آمدی کی الأحکام، ابن صلاح کی شرح الورقات، ہندی کی نهایة الوصول، زرکشی کی البحر المحیط، ابی زرعہ العراقی کی شرح النجم الوهاج، التقریر والتحبیر والتحبیر شرح التحریر ۔

[19]. البيضاوي في منهاج الأصول، ص:22، الأحكام في أصول الأحكام (للآمدي)، 1/7، إرشاد الفحول(لشوكاني)، ص:7، لطائف الأشمارات، ص:8

[20]. مراة الأصول، 1/44، التوضيح لمتن التنقيح، ص:15

[21]. شرح جمع الجوامع، 1/22 وما بعدها، شرح العضد لمختصر ابن الحاصب، 1/18، شرح الأستوي، 1/24، مراة الأصول، 1/50، المدخل إلى مذهب الإمام أحمد، ص58

[22]. المدخل الفقهي العام، ص:66

(نوٹ) علم کی تعریف کے بارے میں تفصیلی بحث کے لیے ملاحظہ ہو: إرشاد الفحول إلى تحقيق الحق من علم الأصول، 1/18،19،علم ظن، وہم اور شک کے درمیان فرق معلوم کرنے کے لیے درج ذیل کتب کا مطالعہ کیا جائے: المحلي على جمع الجوامع، 1/109 وما بعدها، المعتمد لأبي الحسين البصري، 1/10، التعريفات للجرجاني(113، 125، 135، 228)، المنقذ من الضلال للغزالي، ص:4

[23]. نظرية التقعيد الأصولي(دكتور أيمن البدارين)، ص143-150، نظرية التقعيد الفقهي الروكي، ص:57

[24]. تيسير التحرير، 1/15، القواعد الكلية والضوابط الفقهية، ص:27

[25]. مختصر منتهى السؤل والأمل لابن الحاجب، 1/201، التوضیح شرح التنقيح لصدر الشريعة، 1/34.

[26]. التقرير والتحبير،1/34، القواعد الكلية والضوابط الفقهية، ص:27، القواعد الأصولية عند ابن تيمية، 1/252.

[27]. التقرير والتحبير،1/34، القواعد الكلية والضوابط الفقهية، ص:27، القواعد الأصولية عند ابن تيمية، 1/252.

[28]. الأشباه والنظائر للسيوطي، ص:319

[29]. مجلة الأحكام العدلية، ص:92.

لرننگ پورٹل