لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 26 شوال 1443 بہ مطابق 27 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 26 شوال 1443 بہ مطابق 27 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 26 شوال 1443 بہ مطابق 27 مئی 2022
جمعہ 26 شوال 1443 بہ مطابق 27 مئی 2022

کیا آپ سنت و سیرت کی پیروی کرتےہیں ؟ اس سےزیادہ اہم سوال یہ ہے کہ آپ کے یہاں پیروی کے اصول کیا ہیں؟ عالمِ اسلام میں سنت و سیرت کی پیروی کا جذبہ،از سرِ نو،جوں جوں پروان چڑھتا گیا مختلف اطرافِ حیات میں سنت و سیرت کی تحقیق و تدقیق کےدر کھلتے گئے اور یوں پیرویِ سنت کاکہہ لیں؛ ایک نیا میدان ’’منہجِ انقلاب‘‘ بھی سامنے آیا۔اس ضمن میں بعض معاصر تحریکوں کے لٹریچر میں امام مالک رحمہ اللہ سے منسوب یہ قول بہت بیان کیا گیا:لا يُصْلِحُ آخِرَ هَذِهِ الأُمَّةِ إِلا مَا أَصْلَحَ أَوَّلَهَا ’’اس امت کے آخری حصے کی اصلاح نہیں ہو سکے گی مگر اس طریقے پر کہ جس پر اس کے پہلے حصے کی اصلاح ہوئی تھی‘‘۔ علامہ جوہری رحمہ اللہ کی روایت کے مطابق یہ امام کے ایک شیخ وھب بن کَیسان المودب رحمہ اللہ کا قول ہے: امام مالک رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: شیخ کی مراد کیاتھی؟ فرمایا: يُرِيدُ التُّقَى ان کی مراد تقوی سےتھی۔ (مسند الموطأ للجوهري المالكی )

امت کی ’’اصلاح’‘ کےاس منطقی اصول پر مشتمل اس دلیلِ مالکی کو ’’طریقِ انقلاب‘‘ کے لیے بنیاد بناتے ہوئے کہا گیا کہ انقلابِ اسلامی یا قیام  ریاستِ اسلامی کا طریقہ سیرتِ رسول ﷺسے ماخوذ ہونا چاہیے۔ اولا سیرت سے انقلاب کے اصول وفلسفہ کے اخذ کی بات کی گئی جو رفتہ رفتہ انقلاب کے ہر مرحلے میں؛مِن و عن پیروی تک پہنچی۔ سوائے اس مرحلے کے کہ جس میں ’’اجتہاد‘‘ ناگزیر ہو جائے۔چنانچہ اس استشہاد و اجتہاد کے بعد ایک منہجِ انقلاب ترتیب دیا گیا اور اسے منہجِ انقلابِ نبوی کا نام دیا گیا ۔ اب اسے امتِ مسلمہ کی سب سے بڑی ضرورت قرار دیا گیا اور امت کی اس طریقِ انقلاب سے ناواقفی پر تاسف کا عام اظہار کیا جانے لگا بلکہ اس سے آگے بڑھ کر اس مخصوص طریقِ انقلاب کو چھوڑ کر دعوت و تبلیغ، علمی و تعلیمی کام یا انتخابات سے کامیابی کو مشکوک قرار دیا گیا ۔

سیرتِ نبویﷺسے منہجِ انقلاب کی تشکیل کا اصول یہ بیان کیا گیا کہ سیرت کا مطالعہ معروضی طور پر (objectively) کیا جائے اور پھر سیرتِ  مطہرہ کے حالات و واقعات کو خاص سے عام ( generalize ) کر کے اصول و مبادی مستنبط کیے جائیں اور ان کی روشنی میں انقلابی عمل کے مراحل و مدارج ا ور لوازم طے کیے جائیں۔اس تعبیر اور طرز تعبیر پر کچھ گذارشات عرض کرنا پیشِ نظر ہے۔ ہماری گزارشات تین اطراف سے ہوں گی: ایک تصورِ سیرت و سنت کے بارے میں، دوسرے معروضیت (objectivity)کے بارے میں اور تیسرے عموم (generalization) کے بارے میں ۔

ایک اہم اصولی بات

ہم ایک اہم اصول سے اپنی بات شروع کرتے ہیں۔دیکھیے! لوگوں پر دینی ذمے داریاں واضح کرتے ہوئے انھیں یہ بتانا کہ یہ کام تم پر فرض یا واجب ہے گویا ان کو یہ بتانا ہے کہ تم سے تمہارے رب کا تقاضا یہ ہے اور تمہارا خدا تم سے یہ چاہتا ہے۔یہ گویا اللہ کی نمائندگی یا اللہ سے روایت کرنا ہے۔ انبیا علیہم السلام تو وحی کی روشنی میں یقین سے یہ کہا کرتے تھے لیکن آج عالم یا خادمِ دین کس بنیاد پر لوگوں سے یہ کہہ سکتا ہے کہ تمہارا رب تم سے کیا کام کرانا چاہتا ہے۔اس کا ایک آسان جواب یہ ہے کہ ہم قرآن کی بنیاد پر یہ سب کچھ کہیں گے اور حدیث میں آیا ہے کہ ﴿مَنْ قَالَ بِهِ صَدَقَ ’’جس نے قرآن سے کوئی بات کہی تو اس نے سچ کہا‘‘۔ لیکن اس قولِ نبی ﷺکا معنی کیا ہے؟ علماء اس کی شرح کیسے کرتے ہیں : مَنْ قَالَ قَوْلًا مُلْتَبِسًا بِهِ بِأَنْ يَكُونَ عَلَى قَوَاعِدِهِ وَوَفْقَ قَوَانِينِهِ وَضَوَابِطِهِ صَدَقَ (مرقاۃ المفاتیح) ’’جس نے قرآن کےذریعے کوئی بات،اس کے قواعد و ضوابط اور قوانین(فہم و تفسیر) کے مطابق کہی تو اس نےسچ کہا‘‘۔تو کسی کے پاس قرآن و سنت کی کوئی دلیل ہونا کافی نہیں ہے بلکہ فیصلہ کن امر یہ ہے علمی و اصولی طور پر اس دلیل سے استدلال کس کا درست ہے ورنہ بلا تشبیہ سوچیں کہ خوارج کے پاس بھی دلیل تو قرآن ہی کی تھی ۔ اسی طرح ماضی قریب کے دونوں غلامی فتنے،یعنی غلام احمد قادیانی اور غلام احمد پرویز قرآن ہی کے تو داعی تھے!!

علمِ دین کی روایت

تو کیا ’’ڈگری ڈگری ہوتی ہے ‘‘ کی طرح ہم یہ مان لیں کہ تعبیر تعبیر ہوتی چاہے اصلی ہو یا نقلی ؟ اگر نہیں تو سوال یہ ہے کہ صحیح اور غلط تعبیر میں فرق کا معیار کیا ہے؟ تو اس کے معیار کے طور پر علمِ دین کی وہ پوری روایت اپنے اصول وضوابط کے ساتھ کھڑی ہے جس کی خبر حدیثِ مرفوع میں بیان ہوئی ہے:﴿لاَ يَزَالُ مِنْ أُمَّتِى أُمَّةٌ قَائِمَةٌ بِأَمْرِ اللَّهِ لاَ يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ وَلاَ مَنْ خَالَفَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَهُمْ أَمْرُ اللَّهِ وَهُمْ عَلَى ذَلِكَ(صحیح بخاری)’’میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ اللہ کے امر پر قائم رہے گا ان کو چھوڑنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے ان کا نقصان نہ کرسکیں گے یہاں تک کہ اللہ کا حکم ( فیصلۂ قیامت ) آ جائےاور وہ اسی حال پر ہوں گے‘‘۔امام بخاری رحمہ اللہ نے الاعتصام بالکتاب میں لکھا ہے : وَهُمْ أَهْلُ الْعِلْمِ ’’وہ اہلِ علم کی جماعت ہے‘‘۔

اسی علمی روایت کے ذریعے قیامت تک آنے والے انسانوں کو پورے یقین کے ساتھ یہ بتایا جاسکتا ہے کہ اُن کا معبود اُن سے کیا چاہتا ہے۔ بدلتے حالات میں بدلتے احکامات اور ان احکام میں ہر انسان کے لیے مخصوص کردار کا تعین اسی علمی روایت کے ذریعے درست طور پر ممکن ہے۔

روایتِ علمی کے شعبے اور سنت کی تعریف

دین کی علمی روایت کے مختلف شعبے ہیں ۔ مشہور محدث امام اعمش رحمہ اللہ نے کسی فقیہ سے خطاب میں علمی روایت کے دوشعبوں کی طرف اشارہ کیاہے:يَا مَعْشَرَ الْفُقَهَاءِ أَنْتُمُ الْأَطِبَّاءُ وَنَحْنُ الصَّيَادِلَةُ’’اے جماعتِ فقہاء! طبیب تم ہو، ہم تو پنساری ہیں‘‘۔ تو محدث کا بنیادی کام، احادیث و آثار کی جمع و ترتیب ہے اور فقہاء کا بنیادی کام ان نصوص کے معانی کی تشریح اور ان سے استنباط کر کے احکام اخذ کر کے ان کی درجہ بندی قائم کرنا ہے۔یہ ٹھیک ہے کہ بعض محدثین کو اللہ نے فقاہت سے بھی نوازا ہوتا ہے لیکن انھوں نے خود کو فقہاء کی فقاہت سے بے نیاز نہیں سمجھا بلکہ انہی کے ایک سرخیل امام ترمذی رحمہ اللہ نے فقہاء کا نام لے کر فرمایا: هُمْ أَعْلَمُ بِمَعَانِى الْحَدِيثِ(سنن ترمذی) ’’وہ حدیث کے معانی کے زیادہ جاننے والے تھے‘‘۔تو محدثین نے نصوصِ  سنت و سیرت کو جمع کیا لیکن اس سے احکامات کی ترتیب دینا فقہاءکا کام ہے۔پھر فقہاء میں سے ماہرینِ اصولِ دین، اصولیین ہیں جنھوں نے استنباط و اجتہاد کے اصول ترتیب دیے ہیں۔ اس لیے دین کی تفہیم و تشریح میں اصولیین کے کام کو پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے۔

ہماری بحث چونکہ سنت و سیرت کے گرد گھومتی ہے اس لیے ان کی تعریفات کو ذہن میں تازہ کر لیتے ہیں۔ محدثین کے ہاں حدیث و سنت کی تعریف یوں کی جاتی ہے:مَا أُضِيفَ إِلَى النَّبِيِّﷺقَوْلًا لَهُ أَوْ فِعْلًا أَوْ تَقْرِيرًا أَوْ صِفَةً ’’ہر وہ چیز جس کی نسبت نبی اکرمﷺکی طرف کی جائے چاہے قول میں سے ہو یا فعل و تقریر میں سے یا کسی صفت کا بیان ہو‘‘۔اس کی تفصیل میں جائیں تو شمائل اور نبیﷺکے حالاتِ زندگی کا بیان بھی، محدثین کے ہاں سنت میں شامل سمجھا جاتا ہے۔اب سیرت کی طرف آتے ہیں تو سیرت کی عام طور پر کی گئی تعریف حدیث کی تعریف سے ملتی جلتی ہے البتہ یہ کہ اس میں زمانی ترتیب کی قید لگائی جاتی ہے یعنی نبی ﷺکے حالات و وقائع اورحوادثِ زندگی کا بیان، پیدائش سے لے کر انتقال تک، زمانی ترتیب کے مطابق، اس میں تدبیری اور بشری امور بھی شامل ہیں۔

علماے اصول کے ہاں سنت کی تعریف یوں کی جاتی ہے: مَا صَدَرَ عَنِ الرَّسُولِ مِنَ الْأَدِلَّةِ الشَّرْعِيَّةِ مِمَّا لَيْسَ بِمَتْلُوٍّ، وَلَا هُوَ مُعْجِزٌ وَلَا دَاخِلٌ فِي الْمُعْجِزِ، وَهَذَا النَّوْعُ هُوَ الْمَقْصُودُ بِالْبَيَانِ هَاهُنَا، وَيَدْخُلُ فِي ذَلِكَ أَقْوَالُ النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَأَفْعَالُهُ وَتَقَارِيرُهُ (الأحکام في أصول)’’جو کچھ رسول اللہ ﷺسے صادر ہوا، دلائلِ شرعیہ میں سے، جو متلو نہیں ہے اور وہ نہ تو معجزہ ہے اور نہ معجزے میں داخل ہے۔ہمارے ہاں اسی قسم کا بیان مقصود ہے اور اس میں اقوال نبی ﷺاور آپ کے افعال و تقاریر شامل ہیں‘‘۔ تو دیکھیے کہ اصولیین نے سنت کی تعریف میں سیرت کو داخل نہیں کیا بلکہ ان افعال و اقوال و تقاریر کو سنت کی تعریف میں داخل کیا جو شرعی دلائل بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔اس بات کو دوسرے انداز میں یوں سمجھ سکتے ہیں کہ سیرت عام ہے اور سنت خاص ہے یعنی جو کچھ آپ ﷺسے صادر ہوا، وہ سیرت ہے لیکن سیرت کا ہر واقعہ سنت نہیں ہے بلکہ وہ واقعات و اقدامات جو دلیلِ شرعی بننے کی صلاحیت رکھتے ہوں؛ وہی سنت کی تعریف پر پورے اترتے ہیں۔

اب آپ ﷺکے افعال میں سے کون سے دلیلِ شرعی بن سکتے ہیں ۔ علامہ آمدی رحمہ اللہ نے اس پر مفصل کلام کیا ہے۔ مثلا :نبی کریم ﷺنے خود اپنے کسی فعل یا امر کے لزوم کا حکم دیا ہو۔جیسے نماز میں ہوبہو آپ ﷺکی پیروی کرنے کی دلیل ﴿صَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي﴾ہے اور حج کے بارےفرمانِ اقدس ﴿خُذُوا عَنِّي مَنَاسِكَكُمْ﴾ آپﷺکی پیروی کو لازم کرتا ہے۔بعض اوقات آپ ﷺکا فعل کسی مجمل حکم کی تفصیل یا کسی مطلق کی تقیید پر مبنی ہوتا ہے، تو یہ افعال بھی دلیلِ شرعی میں شامل ہیں ۔بعض کام ایسے ہوتے ہیں جن کے متعلق کوئی حکم موجود نہیں ہوتا لیکن اگر یہ ثابت ہو جائے کہ آپﷺکا اس کام کو کسی خاص انداز سے کرنا قربِ الٰہی کے ارادے سے تھا۔ تو بعض کے نزدیک یہ کام مباح ہے اور بعض کے نزدیک یہ مستحب ہے۔ رہے وہ کام جو مندرجہ بالا کسی صورت پر پورے نہ اترتے ہوں ان کے بارے میں درست بات یہی ہے کہ یہ کام مستحب و واجب نہیں بلکہ زیادہ سے زیادہ مباح ہیں۔

اس تفصیل سے یہ بات سامنے آئی کہ نہ تو نبی کریمﷺکا ہر فعل سنت میں داخل ہے اور نہ ہی ہر فعل تشریع کا عنوان ہے۔اس لیے بغیر تجزیے کے سیرت کے ہر واقعے اور مرحلے کو دلیلِ شرعی کے طور پر قبول کر لینا اصولِ شریعت کے خلاف ہونے کے سبب نامناسب ہے۔سیرت کے جو واقعات سنت میں داخل ہو جائیں ان پر عمل کرنے کے بھی کچھ آداب و اصول متعین ہیں ۔ مسند الہندحضرت شاہ ولی اللہ دہلوی رحمہ اللہ کی سنت کے بارے میں بحث حجة الله البالغة کے المبحث السابع: أقسام علوم النبيﷺکے ذیل میں پڑھنی چاہیے، لکھتے ہیں: ’’سنت کی دو قسمیں ہیں ۔ پہلی قسم وہ ہے جس میں آپ ﷺنے اللہ کے احکام کو بندوں کے لیے قولی یا عملی طور پر واضح کیا ۔ اسی کے بارے میں فرمایا گیا کہ﴿وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا﴾ ’’اور تمھیں جو کچھ رسول دیں لے لو، اور جس سے روکیں رک جاؤ‘‘۔ سنت کی اس قسم میں معاد، ملکوت اور غیب کی خبریں، عبادات و اِرتفاقات (آدابِ زندگی) سے متعلق وضاحتیں، عام مصلحتیں اور مطلق اخلاقیات اور فضائلِ اعمال کے بیان شامل ہیں۔ ان تمام کا دار و مدار وحی پر ہے اور بعض میں آپ ﷺکا اجتہاد بھی داخل ہے مگر وہ بھی اللہ کے سکھائے ہوئے خاص اصولوں پر مبنی ہے اور اللہ کی حفاظت میں ہے۔ دوسری قسم وہ ہے کہ جو تبلیغ الرسالة سے تعلق نہیں رکھتی، جس کے بارے میں حضورﷺنے فرمایا: ﴿إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ إِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَىْءٍ مِنْ دِينِكُمْ فَخُذُوا بِهِ وَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَىْءٍ مِنْ رَأْىٍ فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ﴾آپﷺنے فر ما یا : ’’میں ایک بشر ہی تو ہوں،جب میں تمھیں دین کی کسی بات کا حکم دوں تو اسے مضبوطی سے پکڑلواور جب میں تمھیں محض اپنی رائے سے کچھ کرنے کو کہوں تو میں بشر ہی تو ہوں‘‘اور ﴿فَإِنِّي إِنَّمَا ظَنَنْتُ ظَنًّا، فَلَا تُؤَاخِذُونِي بِالظَّنِّ، وَلَكِنْ إِذَا حَدَّثْتُكُمْ عَنِ اللَّهِ شَيْئًا، فَخُذُوا بِهِ، فَإِنِّي لَنْ أَكْذِبَ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلّ﴾’’ آپﷺنے فرمایا: میں نے تو ایک بات کا گمان کیا تھا، تو گمان کے حوالے سے مجھے ذمے دار نہ ٹھہراؤ، لیکن جب میں اللہ کی طرف سے تمہا رے ساتھ بات کروں تو اسے اپنا لو،کیونکہ میں اللہ عزوجل پر کبھی جھوٹ نہیں بولوں گا‘‘۔ سنت کی اس قسم میں طب، تجربہ، عادات، مروجہ باتیں جو سب لوگ ہی کیا کرتے تھے( جیسے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے مطابق جب ہم لوگ دنیا یا کھانے پینے کے بارے میں گفتگو کرتے تو حضورﷺبھی ہمارے ساتھ انہی موضوعات پر گفتگو فرماتے)۔بعض اوقات آپﷺنے کسی جزئی مصلحت اور ہنگامی ضرورت کے حصول کےلیے کچھ کام کیے، وہ بھی تمام امت کے لیے لازمی نہیں ہیں ۔ان کی مثال یوں ہے جیسے کوئی بادشاہ فوجوں کو احکام دیتا ہےاور شعار مقرر کرتا ہے۔ اسی طرح وقتی تدابیر اورخاص مقدمات کے فیصلے وغیرہ بھی اسی قسم میں شامل ہیں۔

سنت کی یہ دوسری قسم چونکہ وحی نہیں ہے اور نہ ہی یہ وحی کے اصولوں پر مبنی نبی کریمﷺکا اجتہاد ہے، اس لیے یہ مِن و عن اور بعینہ واجب الاطاعت نہیں بلکہ مختلف زمان و مکان میں درپیش مختلف حالات میں مختلف عمل درکار ہوگا۔ تجربہ بھی وقت کے ساتھ بدل جاتا ہے، اسی طرح عادات و اطوار اور ثقافتی رکھ رکھاؤ بھی ہر جگہ مختلف ہوتی ہیں۔ اس کی رعایت فقہِ اسلامی میں عرف کے عنوان سے کی جاتی ہے۔ یہی صورت تدابیر اور فیصلوں کی بھی ہے کہ حالات کی نزاکت کے مطابق حکمتِ عملی اسی مناسبت سے تیار کی جاتی ہے، یہ وہ قسم ہے کہ اس پر عمل نہ کرنے سے مواخذہ نہیں ہوگا۔چونکہ اقامتِ دین یا انقلاب کا تعلق تشریع سے نہیں بلکہ تدبیر سے ہے اس لیے یہاں بھی آپﷺکے طرزِ عمل کی پیروی کرنا لازمی یا واجب نہیں ہے۔

اگلے باب میں حضرت شاہ صاحب رحمہ اللہ سنت کی ایک اور طرح کی تقسیم بیان فرماتے ہیں: بعض سُنن، مصالح کے متعلق ہیں اور بعض شرائع کےمطابق۔ مصالح وہ علوم ہیں جن میں لوگوں کے زیست سے متعلق نفع و مضرت کی ہدایات دی گئی ہیں۔ یعنی دین میں امور مفید ہ یا بعض مصالح کی تعریف و ترغیب اس طور وارد ہوئی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس مصلحت کو پورا کرنا چاہیے جیسے شجاعت اور نرم دلی کا بیان ۔ اسی طرح بعض نقصان دہ امور یعنی مضرتوں کی مذمت اس طور وارد ہوئی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان سے بچنا چاہیے جیسے بزدلی اور سخت دلی وغیرہ کا بیان ۔ دین نے ان مصلحتوں کو پورا کرنے کے لیے مخصوص و محسوس صورتیں اور ہیئتیں نہیں سکھائیں کہ جن کو بجا لانےکا انسانوں سے تقاضا ہوتا ہو اور ان ظاہری صورتوں کے پورا کرنے پر ان مصلحتوں کے حصول کو یقینی اور ان حکمتوں کو مکمل سمجھا جاتا اس طرح یہ ظاہری محسوس صورتیں مدارِ حکم کہلاتیں بلکہ اس کے برعکس ہوا کہ اللہ نے ان مصلحتوں کا انسانوں سے تقاضا کیا اور ان حکمتوں کو اصل مطلوب قرار دے کر انھیں حاصل کرنے کی تاکید کی اور ان مصلحتوں کو مدارِ حکم قرار دیا لیکن ان کو بجا لانے کی عملی صورت انسان کی صوابدید پر چھوڑ دی۔ اس قسم کے احکام کو مصالح کی اصطلاح سے متعارف کرایا گیا ہے مصالح سےمتعلق علوم  سنت، زندگی کے تین شعبوں سے متعلق ہیں : تہذیبِ نفس، اعلاے کلمۃ اللہ یا نفاذِ دین کی کوشش اور لوگوں کے معاملات و رسوم کا انتظام۔ یعنی شارع نے ہم سے تہذیبِ نفس کا تقاضا تو کیا ہے لیکن اس کی کسی خاص شکل کا ہم سے مطالبہ نہیں کیا گیا۔ اسی طرح نفاذِ دین، اعلاے کلمۃ اللہ یا لوگوں کی بہتری کا ہم سے تقاضا تو کیا گیا ہے لیکن اس کے لیے کوئی مخصوص طریقہ اور پیکر و صورتِ عمل کا ہم سے مطالبہ نہیں کیا گیا۔ بلکہ ہماری صوابدید پر چھوڑا گیا کہ وقت کی مناسبت سے کوئی سا طریقہ اختیار کر لیا جائے بشرطیکہ وہ شریعت کے دائرے سے باہر نہ ہو۔مصالح کے بارے میں حضرت شاہ صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ باتیں عقلی ہیں اور انسان انھیں بعثتِ انبیا سے پہلے­­­­­­­ بھی جانتے تھے، اللہ نے محض اپنا فضل فرمایا کہ انبیا کے ذریعے عمدہ طریقے سے یاد دہانی فرمادی۔

 احکام کی دوسری قسم کو حضرت شاہ صاحب رحمہ اللہ نے شرائع کا نام دیا ہے ۔ جس میں حدود اور عبادات وغیرہ شامل ہیں۔ احکام کی اس قسم میں حکمت ہوتی تو ہے لیکن وہ عقلی نہیں ہوتی یعنی غورو فکر سے ان احکام کی حکمتیں معلوم نہیں ہوتیں۔لہذا حدود و فرائض ا ور عبادات کی حکمتیں معلوم بھی نہیں ہو پاتیں، بعض دفعہ اگر حکمت معلوم بھی ہوجائے تو وہ علت یعنی مدارِ حکم نہیں بن پاتی ۔ اس لیے کہ حکمت کوئی امر منضبط نہیں ہے جو کسی ناپ تول میں آسکے ۔ شارع نے شرائع کے ضمن میں بعض محسوس و مخصوص پیکر اعمال مقرر فرما دیے اور ان اعمال کی بجا آوری کا انسان سے تقاضا کیا گیا۔ ان احکام کی حکمتیں بتائی نہیں گئیں بلکہ ان احکام کو حکمتوں کا مظنہ قرار دیا گیا یعنی جو آدمی ان مخصوص اعمال کو ان کے آداب کے ساتھ ادا کرے گا تو اسے وہ حکمت حاصل ہوتی جائے گی جو اس عمل سے جڑی ہوئی تھی ۔ تو شرائع میں شارع نے ہم سے کسی حکمت کو پورا کرنے کا تقاضا نہیں کیا بلکہ اس فعل کو بجا لانے کا تقاضا کیا گیا ہے جو کسی نہ کسی حکمت کا مظنہ ہے ۔ تو مصالح میں اصل مطلوب حکمت ہے اور شرائع میں اصل مطلوب فعل ہے جس کو بجا لانا ہے۔

اگر ہم نماز کی مثال لیں جس کا تعلق شرائع سے ہے، اگر یہ کہا جائے کہ نماز کی حکمت اور مطلوب اللہ کا ذکر اور یاد ہے، تو اگر ایک آدمی کہے اللہ کی یاد میرے دل میں راسخ ہو چکی ہے اس لیے مجھے مزید نمازیں پڑھنے کی ضرورت نہیں ہےیا میں ایک اذان سے دوسری اذا ن تک، بیٹھ کر اللہ کی یاد کو قائم کروں گا لیکن میں نماز نہیں پڑھوں گا ۔ تو چاہے اللہ کی یاد وہ قائم کیے رکھے لیکن وہ اس نماز کا عمل سر انجام نہ دے جو تکبیر سے شروع ہو اور قیام و رکوع و سجود کےبعد سلام پر ختم ہو، تو اس کا اللہ کی یاد قائم کر لینا اسے ترکِ نماز کے گناہ سے محفوظ نہ رکھے گا، اس لیے کہ نماز میں اصل مطلوب اللہ کی یاد نہیں بلکہ نماز کا مخصوص فعل ہے اور اس کی پابندی کرنا ہمارے لیے لازمی ہے ۔مثال کے طور پر اگر ہم یہ کہیں کہ سود اس لیے حرام ہے کہ اس سے لوگوں پر ظلم ہوتا ہے اور ظلم کی بیخ کنی، حرمتِ سود کی حکمت ہے لیکن چونکہ ممانعت سود کا تعلق مصالح سے نہیں بلکہ شرائع سے ہے اس لیے اگر سود کی کوئی ایسی قسم پائی جائے جس میں ظلم نہ ہو، سود تب بھی حرام ہی رہے گا۔ مثلاً اگر ایک آدمی سود پر دوسرے سے قرض لے لے اور اس کی جگہ پر سود کوئی تیسرا شخص،صدقے کی نیت سے ادا کر دے تب بھی یہ معاملہ کرنا حرام ہی رہے گا۔

خلاصہ یہ کہ مصالح میں اصل مطلوب، مصلحت و حکمت ہوتی ہے اسے پورا کرنا لازمی ہوتا ہے اور اس کے لیے کسی خاص طرز کے اعمال و افعال کی پابندی کرنا لازمی نہیں ہوتا بلکہ حکمتِ مطلوبہ کو پورا کرنے والے کسی بھی عمل کو اختیار کیا جاسکتا ہے اور اس اختیار میں انسان کو آزادی دی گئی ہے کہ کوئی خاص فعل شارع کی طرف سے لازم نہیں کیا گیا ۔

شرائع کی قسم سے تعلق رکھنے والےاحکام کی ہیئت مخصوص ہے جس کو شارع نے انسانوں کے لیے مقرر فرمایا ہے ۔ ان ظاہری خاص طرح کےاعمال کو انجام دینے ہی کا ہم سے تقاضا ہوتا ہے۔ ہم اس ظاہری عمل کو چھوڑ نہیں سکتے چاہے حکمت پوری ہوتی ہو یا نہ ہوتی ہو اور نہ ہی ہم اپنے تئیں اس ظاہری فعل کےعلاوہ کسی دوسرے فعل کو زیادہ فائدہ مند سمجھ کر اختیار کر سکتے ہیں بلکہ ہر حال میں ہمارے لیے اس فعل ہی کی پابندی ضروری ہے۔

مندرجہ بالا بحث اگر سمجھ لی گئی تو اب اپنی توجہ حضرت شاہ صاحب رحمہ اللہ کے ان الفاظ پر مرکوز کیجیے :کلمۂ حق کو بلند کرنا،شریعت کا استحکام اور اس کی اشاعت میں محنت کرنا یہ بھی مصالح کے باب سےمتعلق ہے۔اب انقلاب یا اعلاے کلمۃ اللہ جو مصالح میں سے ہے تو اس میں کسی خاص طرح کے اعمال بجالانا یا خاص ترتیب و نہج کی پابندی کرنا لازم نہیں ہے۔ بلکہ ہر دور میں حالات کے پیشِ نظر مختلف حکمتِ عملی ترتیب دی جائے گی۔ اور چونکہ اس کا تعلق مصالح سے ہے، اس لیے اس کی کوئی ہیئتِ مخصوصہ مقرر نہیں ہے بلکہ صرف مصلحت مقصود ہے اور امت اس باب میں حالات و واقعات کی مناسبت سے فیصلہ کرے گی۔ اور ایسا کرتے ہوئے وہ کسی غیر مسنون کام کی مرتکب بھی نہیں ہو گی بلکہ مصلحت کے لیے اس وقت کی درست حکمتِ عملی پر عمل کرنا ہی سنت کا اصل تقاضا ہوگا۔ البتہ اس میں قید اتنی ہی ہے کہ آپ کا طے کردہ طریقہ کسی نص کے خلاف نہ ہو، مطلب یہ کہ منہج کا سنت کے مطابق ہونا ضروری نہیں بلکہ اتنا ہی ضروری ہے کہ سنتِ ثابتہ کے خلاف نہ ہو۔

دوسرا مسئلہ معروضی (objective) مطالعے کا ہے۔ معروضی مطالعے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اپنی مابعدالطبعیات اور عقائد سے بلند ہو کر محض ایک سماجی واقعے/ظاہرے(social phenomenon) کی حیثیت سے انقلابِ نبویﷺکا مطالعہ کر کے طریقہ ٔانقلاب اس طرح بیان کیا جائے کہ یہ طریقہ غیر اقداری بنیادوں پر وضع ہو اور جہاں بھی اسے ڈھالا جائے یہ ایک ہی جیسے نتائج منتج کرے۔ اس کے نتیجے میں اظہارِ دینِ حق محض ایک سیاسی، سماجی و معاشی نظام کی تبدیلی کا نام رہ جاتا ہے۔ اب اسی معروضیت کا شاخسانہ ہے کہ’’ منہجِ انقلابِ نبوی‘‘ کے نام سے جو منہج تراشا گیا وہ خود ہی جدید تحریکوں سے متاثر نکلا۔انتخابات کو یہ کہا جائے کہ وہ تو مغرب نے دیا ہے لیکن احتجاج کو اجتہاد کے نام پر قبول کیا جائے تو ہمارے خیال میں یہ جانے انجانے میں مغرب ہی سے متاثر ہونا ہے۔آخر کیا وجہ ہے کہ ’’منہجِ انقلابِ نبوی‘‘ علومِ نبوی کے کسی ماہر کو، کسی محدث، کسی حافظ الحدیث، کسی شارح و امام ،کسی سیرت نگار کو سمجھ نہیں آتا؟ اگر کوئی یہ کہے کہ ان لوگوں کے دور میں چونکہ انقلاب کی اس درجے ضرورت نہ تھی تو کیا خیال ہے ان فقہاء کے بارے میں۔۔۔ جنھوں نے فقہ تقدیری بنا ڈالی، اگر یہ منہج واقعی کوئی’’ مخصوص درجات‘‘کے ساتھ متعین امر ِشرعی ہوتا، تووہ چند باتیں منہجِ تقدیری پر کرنے سے کیونکر چوکتے۔ چنانچہ ہمارے خیال میں منہجِ انقلابِ نبوی اصل میں تاثر ہے جدید’’انقلاباتی‘‘ تحریکوں کا اور اس تاثر کے تحت سیرت کا جو مطالعہ کیا گیا وہ مطالعہ اسی تاثر کو ثابت کرنے کا ذریعہ بن گیا۔

اب آتے ہیں سیرتِ نبوی سے منہج انقلاب کی تشکیل کے دوسرے اصول ’خاص کو عام ‘(generalize) کرنے کی طرف، تو اس کا کُھرا بھی جدیدیت ہی کی طرف نکلتا ہے ۔عمرانیات کے بانی August Comte کے مطابق اب دور ہے سائنس کا، جس کو وہ Positivism کہتا ہے۔ اب ہر بات سائنس کی ٹھوس بنیادوں پر قائم کی جائے گی اور دنیاوی حوادث کے بیانیے میں کسی مافوق الفطرت نظریے کا کوئی دخل نہیں ہوگا۔

اب جب ہر چیز کا سائنسی و عقلی ہونا ہی درست ٹھہرا تو مذہب ایک صحت مندسماجی عمل ٹھہرا ۔ اب تعمیم کے اصول (generalizabilit) کے تحت سیرت النبیﷺاوراس کے واقعات کو انسانی سطح پر لا کر سمجھنے کی کوشش کی جانے لگی۔ محمد رسول اللہ ﷺکو ’’نوعِ انسانی کا عظیم ترین انقلابی‘‘ قرار دے کر شکوہ کیا گیا کہ آپ جیسے انقلابی کے گرد ہم نے تقدس و احترام کا ہالہ بنا دیا ہے۔ کہا گیا کہ منہج میں معجزوں کا دخل بہت کم نظر آتا ہے، آپ زخمی تک ہوئے لیکن نہ دشمنوں کے ہاتھ شل ہوئے اور نہ وہ زمین میں دھنسائے گئے۔

ٹھیک ہے طائف میں ان کے ہاتھ شل نہ ہوئے لیکن مَلَکُ الجِبال علیہ السلام تو آ ہی چکا تھا اسے واپس کس نے لوٹایا ۔ اہلِ طائف زمین میں نہ دھنسے تو اللہ کی مرضی اور حکمت تھی، لیکن سراقہ بن مالک کے گھوڑے کو کیا ہوا تھا ؟ کہا گیا کہ انقلابی جدوجہد میں معجزات کا حصہ کتنا تھا سوچیں تو سہی ؟ ہم سوچے بغیر بتا دیتے ہیں کہ یوم الفرقان جنگِ بدر کی فتح خرقِ عادت ہی تو تھی کہ جبریلِ امین خود میدان میں موجود، صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم تلوار سیدھی کر رہے ہوتے اور ہمارا دشمن دو ٹکڑے ہو جاتا ۔ ایک بڑی فتح غزوۂ خندق تھی جس کے بارے میں خود اللہ فرماتا ہے کہ ہم نے وہ لشکر بھیجے جو تم نے دیکھے ہی نہیں۔ آپ کافروں کے گھیرے میں سے، ان کی آنکھوں کے سامنے، نظر آئے بغیر نکل گئے۔ اور وہ جو تین ہزار اور پانچ ہزار فرشتوں کی کمک تھی وہ کس انسانی سطح کی مدد تھی ؟ کھجور کی شاخ صحابی کے ہاتھ میں تلوار بن جاتی ہے۔ مٹی کی ایک مٹھی پوری کافر فوج کی آنکھوں میں جا پڑتی ہے !! یہ تو موٹے موٹے اشارے کر دیے ہم نے، ورنہ جہادی اسفار و معرکوں میں ہونے والے خرق عادت واقعات بہت سارے ہیں کوئی ایک نہیں ۔ بلکہ نبی کریم ﷺکی تو پوری سیرت ہی معجزہ تھی ۔

علامہ عبد الرحمٰن محمد ابن خلَدون، مقدمۂ تاریخِ ابنِ خلَدون کے تیسرے باب کی اننچاسویں فصل في أن الدولة المستجدة إنما تستولي على الدولة المستقرة بالمطاولة لا بالمناجزة میں سلطنت کے قیام کی تدریج بیان کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ:ولا يعارض ذلك بما وقع في الفتوحات الإسلاميّة وكيف كان استيلاؤهم على فارس والرّوم لثلاث أو أربع من وفاة النّبيّﷺواعلم أنّ ذلك إنّما كان معجزة من معجزات نبيّنا…فكان ذلك كلّه خارقا للعادة المقرّرة في مطاولة الدّول المستجدّة للمستقرّة وإذا كان ذلك خارقا فهو من معجزات نبيّنا صلوات الله عليه المتعارف ظهورها في الملّة الإسلاميّة والمعجزات لا يقاس عليها الأمور العاديّة۔’’(دورِ نبوت و اصحاب کی )فتوحاتِ اسلام ہمارے مذکورہ بالا اصولِ تدریج سے معارض نہیں ہیں ۔ اس میں شک نہیں کہ مسلمانوں نے فارس و روم جیسی عظیم الشان سلطنتوں کو بہت جلد فتح کرلیا۔ ابھی انحضرتﷺ کی وفات کو چار ہی برس گزرے تھے کہ ان دونوں سلطنتوں کا شیرازۂ جمعیت بکھر گیا اور حکومت مسلمانوں کے ہاتھوں میں آگئی۔ مگر یہ سب کچھ ہمارے نبیﷺکا ایک معجزہ تھا اس وقت جو کچھ بھی ہوا وہ بالکل معجزہ اور خرقِ عادت تھا اور واقعاتِ اعجاز و خرقِ عادت، طبعی امور پر قیاس نہیں کیے جاسکتے‘‘۔

اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جنابِ رسول اللہﷺکا انقلاب خرقِ عادت امور سے لیس تھا اور اس انقلاب کو عیناً عام حالات میں عام لوگوں کے لیے منہج بنانا ممکن نہیں۔ معجزات کو عام زندگی کے لیے طبعی اصول بنا کر پیش نہیں کیا جاسکتا۔ اس موقع پر اصولیین کی تعریفِ سنت کو ذہن میں رکھناچاہیے جس میں وہ شرط لگاتے ہیں کہ سنت وہ ہے جو معجزہ نہیں ہے۔

علامہ سید محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’دورِ حاضر کے فتنے اور ان کا علاج‘‘ میں ایک باب’’ فتنۂ مغربیت‘‘ کا باندھا ہے اور اس کا استدلال اس حدیث سے کیا ہے:﴿عَنْ عِصْمَةَ بْنِ قَيْسٍ السُّلَمِيِّ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِﷺ، عَنِ النَّبِيِّﷺ، أَنَّهُ كَانَ يَتَعَوَّذُ بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الْمَشْرِقِ ، قِيلَ لَهُ : فَكَيْفَ فِتْنَةُ الْمَغْرِبِ قَالَ: تِلْكَ أَعْظَمُ وَ أَعْظَمُ﴾ ’’حضورﷺکے صحابی حضرت عصمہ بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرتﷺفتنۂ مشرق سے پناہ مانگا کرتے تھے، آپﷺسے دریافت کیا گیا کہ کیا مغرب میں بھی فتنہ ہوگا؟ آپﷺنے فرمایا: وہ تو بہت ہی بڑا ہے، سب سے بڑا ہے! علامہ بنوری رحمہ اللہ نے اس حدیث سے مغرب کے علمی فتنے پر استدلال کیا ہے جس نے عالمِ اسلام میں الحاد و تحریف کی لہر پیدا کردی۔ انھوں نے مزید یہ بھی فرمایا ہے کہ ہمارے ملک میں آنے والے وقتوں میں جدید تعلیم، مواصلات کی آسانیوں اور دولت کی فراوانی سے فتنۂ مغرب میں اضافہ ہوگا۔ مسنون الفاظ میں اللہ سے دعا ہے کہ أعوذ بالله من فتنة المغرب میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں فتنۂ مغرب سے، آمین! 

لرننگ پورٹل