لاگ ان

بدھ 18 محرم 1446 بہ مطابق 24 جولائی 2024

لاگ ان

بدھ 18 محرم 1446 بہ مطابق 24 جولائی 2024

لاگ ان / رجسٹر
بدھ 18 محرم 1446 بہ مطابق 24 جولائی 2024

بدھ 18 محرم 1446 بہ مطابق 24 جولائی 2024

ڈاکٹر محمد رشید ارشد

الفاظ کی جادوگری کا فتنہ
قسط نمبر ۱

غالباً ضیاءالحق صاحب کا دور تھا۔ اس دورمیں ایک سیاسی اتحادہوتاتھا جو قومی اتحاد کہلاتاتھا، اس اتحاد میں شامل جماعتیں حکومت میں بھی شامل تھیں۔ ان جماعتوں میں سے ایک، جماعتِ اسلامی بھی تھی جو کچھ عرصے حکومت میں رہی۔ جماعتِ اسلامی کی طرف سے محمود اعظم فاروقی صاحب وزیرِ اطلاعات تھے۔ سلیم احمد صاحب ان کے مشیر رہے۔ سلیم احمد صاحب کا ایک مضمون کچھ عرصے پہلے پڑھا، جس کا عنوان تھا: ’’قوم اور دانشور‘‘۔ اس کا آغاز انھوں نے ایک بہت اچھے جملے سے کیا تھا کہ: ’’موجودہ زمانہ فتنۂ الفاظ کا زمانہ ہے‘‘۔ اور یہ اسّی کی دہائی کی ابتدا کی بات ہو رہی ہے۔ اب تقریباً اس بات کو چالیس سال ہونے کو آ رہے ہیں۔ اور جب انھوں نے یہ بات کہی تھی اس وقت تو شاید یہ فتنہ اتنا زیادہ ظاہر نہیں ہوا تھا، لیکن اب جس دور میں ہم رہتے ہیں اس میں تو یہ بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔ پہلے عام لوگوں کی گفتگو، ان کا کلام، ان کا مکالمہ نج میں ہوتا تھا، یعنی اپنے دوستوں اور رشتے داروں میں یا اپنے حلقے میں شامل چند لوگوں تک ان کی بات پہنچتی تھی۔ جبکہ عام لوگوں کے بر عکس ایک ایسا طبقہ جس کی آواز عوام میں سنی جاتی تھی، وہ دانش ور لوگ ہوتے تھے، ان میں اساتذہ بھی شامل تھے۔ یہ ایک خاص طبقہ تھا جو گفتگو اور کلام کرتا تھا اور لوگوں سے مخاطب ہوتا تھا۔ ظاہر ہے کہ الفاظ کا فتنہ ان دانش وروں اور اساتذہ کے کلام تک محدود تھا، کیونکہ ان کے پاس اپنی بات پہنچانے کے لیے نسبتًا ایک وسیع پیمانے پر سامعین ہوتے تھے۔ اور اسی طرح سیاست دانوں کے پاس بھی یہ موقع ہوتا تھا۔ اس زمانےمیں بھی ان کی باتیں میڈیا، اخبارات اور میگزین کے ذریعے پہنچتی تھیں۔ اسی طرح شاعر اور ادیب تھے، وہ بھی بہر حال قوم سے گفتگو کرتے تھے۔ جیسے اقبال نے بھی کہا ہے کہ شاعر قوم کا دیدۂ بینا ہوتا ہے۔ عام لوگوں میں چونکہ شعور کی سطح اتنی بلند نہیں ہوتی، وہ اپنے روزمرہ کے معمولات سے اٹھ کر سوچنے پر کم ہی آمادہ ہوتے ہیں۔ جبکہ دانش ور، سیاست دان، ادیب اور استاذ یہ وہ لوگ ہیں جن کا شعور بلند ہوتا ہے، لفظ سے ان کا تعلق گہرا ہوتا ہے۔ اس وجہ سے وہ نفسیات، زبان اور تہذیب کا نسبتًا گہرا علم رکھتے ہیں اور وہ لوگوں سے کلام بھی کرتے ہیں۔ اسی طرح صحافی لوگ ہوتے تھے، ان کے پاس بھی کالم لکھنے اور خبریں بنانے کا موقع ہوتا تھا۔ لیکن آج جس دور میں ہم ہیں اس میں تو یہ فتنہ بہت زیادہ بڑھ گیا ہے، یعنی پہلے دانش وروں کا ایک محدود سا طبقہ ہوتا تھا، لیکن اب جیسےبڑے پیمانے پردانش وری کی ایک وبا پھیلی ہوئی ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ہر آدمی کے پاس اپنی آواز پہنچانے، اپنی بات کہنے کا ایک میڈیم موجود ہے اور اس پر کوئی زیادہ خرچ بھی نہیں اٹھتا۔ سوشل میڈیا، فیس بک، انسٹا گرام، ٹیوٹر، واٹس ایپ کے اندر مختلف فورمز ہیں اور وہاں لوگ اپنی بات کرتےہیں اور مختلف رائے دیتے رہتے ہیں۔ لہذا اب یہ معاملہ بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔ محمود اعظم فاروقی صاحب نے اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ ہم ایک ایسے بازار میں کھڑے ہیں جس میں بے شمار سودے والے چیخ چیخ کر اپنا سودا بیچ رہے ہیں۔ ہر بیچنے والے کا اپنا ایک مخصوص نعرہ ہے، اور ہر نعرہ لگانے والا بس یہ چاہتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس کے مال پر ٹوٹ پڑیں۔ اس وقت بھی آپ دیکھ لیں کہ اگر کوئی ٹویٹ کرتا ہے، فیس بک وغیرہ پر کوئی شعر لکھتا ہے تو پھر بار بار اس کو دیکھتا ہے کہ میرا ٹویٹ کتنا ری ٹویٹ ہوا۔ فیس بک پوسٹ کو کتنے لوگوں نے شیئر کیا یا کوئی وڈیو اپلوڈ کی ہے تو کتنے لوگوں نے اس کو دیکھا ہے۔ اسی طرح پچھلے لوگوں کو یہ معلوم نہیں ہوتا تھا جو رسالوں میں اور میگزین میں لکھتے تھے کہ کتنے لوگ رسالہ پڑھتے ہیں۔ دوسری بات یہ کہ اگر رسالہ پڑھے بھی تو میرا مضمون کتنے لوگوں نے پڑھا؟ لیکن اب بہت سے ویب میگزینز ہیں جن میں لوگوں کو پتا لگ جاتا ہےکہ کتنے لوگوں نے اس کو پڑھا ہے یا اس کو دیکھا ہے اور کتنے لوگوں نے اسےشیئر کیا ہے۔ سلیم احمد صاحب کہا کرتے تھے کہ لوگ ادھر ادھر بھاگتے رہتے ہیں، کبھی اِس سودے کے پیچھے کبھی اُس سودے کے پیچھے اور آخر میں ان کی جیب بھی خالی ہوتی ہے اور ان کے ذہن بھی خالی ہوتے ہیں، یعنی ان کے پلّے کچھ ہوتا ہی نہیں۔ 

اس صورتِ حال میں صحیح رائے کیسے قائم کی جائے، اور یہ جو ہمارے سامنے الفاظ کی ایک بازی گری ہو رہی ہے، اس کو ہم کیسے دیکھیں اور اس کے بارے میں ہمیں کیا رویہ اختیار کرنا چاہیے؟ اس کو ایک خاص پہلو کے تناظر میں دیکھنا چاہیے: زیادہ تر چیزیں پہلے مغرب میں سامنے آتی ہیں اور پھر رفتہ رفتہ ہمارے یہاں بھی سرایت کر جاتی ہیں۔ یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ اس وقت جو کیپٹل ازم ہے، اس کی پیدائش یورپ میں ہوئی تھی، لیکن سو سال کے لگ بھگ ہو گئے کہ اب موجودہ تہذیب کا قائد امریکہ ہے۔ اور ہمارا پڑوسی ملک بھارت کیپٹل ازم کے خیالات کو قبول کرنے میں بہت جلدی کرتا ہے۔ تو ہمارے ہاں ایک اور میڈیم سے گزر کر یہ چیزیں آتی ہیں، یعنی پہلے امریکہ میں آئیں گی پھر وہاں سے بھارت میں آئیں گی اور پھر پاکستان آئیں گی۔ ایک اور چیز جو ہمارے ہاں وبا کی طرح پھیل رہی ہے، اور اس میں بھی کچھ لوگوں نے مذہبی پہلو کو شامل کر دیا ہے، اس کو موٹیویشنل اسپیکنگ کہا جاتا ہے۔ اسی طرحSuccess کے حوالےسے بہت سا لٹریچر چھپتا ہے۔ آج سے کوئی پچیس تیس سال پہلےاس نوعیت کا لٹریچر آتاتھا تو اس وقت ڈیل کارنیگی ان موضوعات پر بہت مشہور آدمی تھا۔ اس کی کتابیں ترجمہ بھی ہوتی تھیں اور عام بھی ہوتی تھیں۔ ایڈورڈ ڈی بونو ایک مشہور آدمی تھا اس کی کتابیں کسی زمانے میں مشہور تھیں۔اس کے بعد ایک طبقے نے خاص طور سے کاروبار اور مارکیٹنگ کے حوالے سے یا خرید وفروخت کے حوالے سے موٹیویشنل اسپیکنگ شروع کی۔ اس کے بعدیہ کام وسیع پیمانے پر شروع ہوگیا اور اس میں عمومی طور پر ہر انسان کو مخاطب کیا گیا۔ ہر انسان کو کچھ گُر بتائے گئے کہ اگر وہ یہ گر اختیار کرلے تو کامیابی اس کے قدم چومے گی۔ اس میں Stephen Richards Covey سے گویاایک نیا آغاز ہوا اورThe Seven Habits of Highly Effective Peopleنے بہت شہرت حاصل کی۔ پھر ہمارے ہاں بھی اس طرح کے لوگ پیدا ہوئے جنھوں نے اس طرح کی کتابیں لکھیں اور یہ کتابیں بہت فروخت ہوئیں۔ اگلا مرحلہ یہ آیا کہ ان موضوعات پر گفتگو شروع ہوگئی اور بڑی بڑی مجالس کا انعقاد ہونے لگا۔ پھر جو کارپوریٹ کلچر ہے اس نے بھی اسےاپنانا شروع کر دیا، بڑی بڑی کمپنیاں موٹیویشنل اسپیکرز کو بلانے لگیں۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ واٹس ایپ پر چھوٹے چھوٹے کلپ آتے رہتے ہیں، ایسے لوگ بھارت میں بہت سے ہیں جو ان باتوں کو بکثرت موضوع بنا کر فوری شہرت حاصل کر رہے ہیں۔ صاف لگتا ہے کہ جیسے ایک بازی گری ہو رہی ہے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں اس میں مذہب اور روحانیت کا تڑکا بھی لوگوں نے بہت لگایا ہے۔ مولاناروم کو اوربلھے شاہ وغیرہ کو اس میں ڈال دیا اور دین ودنیا کا ’’حسین امتزاج‘‘ پیدا کر دیا۔ اور اس سے آگے بڑھ کر بہت سے ایسے لوگ جن کی شناخت دینی ہے، انھوں نے بھی اس اسلوب کو اختیار کر لیا۔ یعنی اب کچھ ایسے جدید ادارے بن گئے ہیں کہ جہاں اگر آپ اس آدمی کو کلام کرتے ہوئے دیکھیں تو آپ کو لگے گا کہ اس میں خاص طرح کی آواز ہوتی ہے، آدمی لاؤڈ ہوتا ہے، بہت ایکٹیو ہوتا ہے، اس کی باڈی لینگویج بہت زیادہ ہوتی ہے اور اس میں بہت کوشش کی جاتی ہے کہ عام فہم انداز اختیار کیا جائے اور جیسے بہت نیچے اتر کر گفتگوکی جائے، گفتگو میں ثقالت نہ ہو، گہرائی نہ ہو، اس کے اندر کوئی ایسی چیز نہ ہو جو مجمع سمجھ نہ سکے۔ ہم کسی کی نیت پر گفتگو نہیں کرتے اور نہ ہمیں اس کا حق ہے اور یہ بھی ہم نہیں کہہ سکتے کہ اس کا بالکل فائدہ نہیں ہوتا، یقینًا کچھ لوگوں کو اس سے کچھ نہ کچھ فائدہ ہوتا ہوگا، لیکن اس کا زیادہ تر جو اثر ہے وہ غیر حقیقی اور ناپائیدار ہے، pseudo effectہے۔ وہا ں جو لوگ بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں ان کو مثالیں دی جا رہی ہوتی ہیں، ان کے سامنے کامیاب لوگوں کی کہانیاں بیان کی جا رہی ہوتی ہیں اور وہ اس کو بہت تعجب خیز محسوس کرتے ہیں کہ گویا ہم بھی یہ کر سکتے ہیں۔ لیکن ہوتا کچھ بھی نہیں ہے، بس یہاں مختلف چیزیں جوڑ کر آپ کے سامنے ایک تقابل کیا جاتا ہے۔ ایک لحاظ سے آپ دیکھیں تو یہ سب کچھ پرانے طرز کے کسی دیہاتی وعظ سے مشابہ نظر آتا ہے۔جو انٹرٹینمنٹ جیسی کوئی چیز ہوتی ہے۔مختلف چیزیں لوگوں کے سامنے آتی ہیں، کبھی لوگ رونے لگتے ہیں کبھی مسکرانے لگتے ہیں۔ لیکن جب وہ مجلس چھوڑ کر جاتے ہیں تو ان کے پلے کچھ ہوتا نہیں ہے، بس وہ وہاں پر ایک اچھا وقت گزار لیتے ہیں۔ یہی حال موٹیویشنل اسپیکرز کا ہے۔

موٹیویشنل اسپیکنگ کا پہلا مسئلہ یہ ہے کہ اس میں جس چیز کی رٹ لگائی جاتی ہے اور بار بار اسے نمایاں کیا جاتا ہے وہ ہے success۔ یعنی ایسے لگتا ہے کہ گویا کامیابی پوجے جانے والی کوئی چیز ہے، اور اصل میں یہ تصور کیپٹل ازم سے آیا ہے۔ امریکا میں اس کا بہت غلغلہ ہے۔ لینڈ آف ڈریمز اور کامیاب انسان کے اس تصور پراہلِ مغرب بھی امریکہ کو حقارت سے دیکھتے ہیں۔انھوں نے کامیابی کو جیسےایک بُت بنا دیاہے۔ تو پہلا مسئلہ اس پورے لٹریچر کا یہی ہے کہ اس میں کامیابی اوراس کے تصور کو بیچا جاتا ہے۔ اگر کبھی آپ ان لوگوں کی گفتگو سنیں تو سب سے بڑھ کر وہ حضرت اپنی ہی مثالیں دے رہے ہوتے ہیں۔ میں کیسے ایک موٹرسائیکل سے ایک بی ایم ڈبلیو تک آگیا اور میرا جیسا آدمی بھی یہ مقام حاصل کر سکتا ہے۔ پھر ایک کہانی سنائی جائے گی، اس میں فکشن بہت زیادہ ہوگا، یعنی اس میں حقیقت نہیں ہوگی، مگر آپ کی آنکھوں میں آنسو آ جائیں گے۔ اصل مسئلہ کیا ہے کہ کامیابی بہت سی چیزوں میں ہوسکتی ہے لیکن انھوں نے کامیابی کے تصور کو سکیڑدیا اور اس کو دولت اور شہرت تک محدود کر دیا۔ اور بنیادی طوریہ دو Variables بتائے ہیں کہ کامیابی کا مطلب یہ ہے کہ آدمی دولت اور شہرت حاصل کرے۔ اور یہ بات بھی ٹھیک ہے کہ یہ انسان کا ہمیشہ سے مسئلہ رہا ہے۔ آپ روایتی صوفیانہ لٹریچر کا مطالعہ کریں، جب تفصیل بیان کی جاتی ہے کہ حبِ دنیا سے کیا مراد ہے تو یہی کہا جاتا ہے کہ حبِ دنیا سے مراد ہے حبِ مال اور حبِ جاہ۔ اس میں کوئی شبہہ نہیں ہے کیونکہ یہ انسان کے اندر دو چیزیں ایسی رکھی گئی ہیں کہ انسان اس کا حریص ہوتا ہے۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ: ’’دو بھوکے بھیڑیے اگر بکریوں کے کسی ریوڑ میں چھوڑ دیے جائیں تو وہ بھی اتنا فساد برپا نہ کریں جتنا مال اور جاہ کی حرص آدمی کے دین کو خراب کرتی ہے‘‘۔ (ترمذی: ۲۳۷۶) 

دوسری بات یہ ہے کہ اس میں انسانوں کا جو تنوع ہے اس کو بھی سامنے نہیں رکھا جاتا،یعنی جن معنوں میں وہ کامیابی کہہ رہے ہیں وہ کامیابی ہمیشہ انسانوں کی اقلیت کو حاصل ہوتی ہے اکثریت کو حاصل نہیں ہوتی۔ اگر وہ سارا مجمع آپ کے کہنے پر کوشش بھی کر لے تو پچاس لوگوں میں مشکل سے پانچ لوگ وہ حاصل کر پائیں گے۔ یعنی یہ The divine scheme of thingsکے خلاف ہے، یہ ہوتا بھی نہیں ہے۔ اگر اللہ کو آپ مانتے ہیں تب تو آپ کو یہ بات سمجھنی چاہیے اور اگر نہیں مانتے تو آپ ایک Demographic surveyکر لیں تو آپ کو اندازہ ہوجائے گا کہ انسانوں کے اندر بہت زیادہ تنوع ہے۔ اور یہ نسخہ جو آپ نے استعمال کیا اور آپ کے لیے اس میں کامیابی کی راہ کھل گئی وہ لازمی نہیں ہے کہ دوسرا اختیار کرے اور اس کے لیے بھی وہ راہ کھل جائے۔ یعنی ایک تو اس لحاظ سے کہ انسانی فطرت اور انسانی شخصیت کے اندر جو تنّوع اللہ نے رکھا ہے یا آپ اللہ کو نہیں بھی مانتے تب بھی دکھتا ہے، نظر آتا ہے۔ آپ اس کی نفی کردیتے ہیں گویا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ایک فیکٹری سے جیسے صابن کی ٹکیاں بن بن کے نکلتی ہیں، انسانوں کو بھی ایسے بنایا جا سکتا ہے، جبکہ ایسا ممکن نہیں ہے۔

 تیسرا مسئلہ جو اس طرح کے لٹریچر اور گفتگو میں پیدا ہو گیا ہے وہ ہے اس میں روحانیت یا دین کو شامل کر دیا گیا کہ گویا دین کا بھی مقصود یہی ہے یعنی دین بھی یہ چاہتا ہے کہ آپ ’’کامیاب‘‘ ہوں۔ قرآن و حدیث اور صوفیانہ لٹریچر کو اس میں شامل کر دیا جاتا ہے اور یہ بتانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ جیسے اللہ تعالیٰ بھی یہی چاہتا ہے۔ کرسچین سمتھ امریکہ میں ایک سوشیالوجسٹ ہے، اس نے خاص طور پر امریکی Teenagers کی ایک Sociological study کی اور کہا کہ یہ جو لوگ ہیں ان کے اندر operative religion ہے۔ اس کا اس نے ایک نام رکھا اور کہا کہ وہ operative مذہب Moralistic therapeutic deism ہے۔ یہ تصور کیا ہے کہ ایک خدا ہے اس نے انسانوں اور دنیا کو پیدا کیا اور خدا انسانوں سے بہت محبت کرتا ہے اور وہ انسانوں سے یہ چاہتا ہے کہ انسان خوش رہیں، انسان کامیاب ہوں۔ وہ جس کو امریکہ میں expression feel good کہتے ہیں یعنی انسان اپنے بارے میں اچھا سوچیں، اچھا خیال کریں۔ اور خدا کوئی بہت زیادہ انسانوں کی زندگی میں مداخلت نہیں کرتا اور اس خدا کی ضرورت بس ایک مسئلہ حل کرنے والے کی ہوتی ہے۔ جیسے آپ کو کو ئی مسئلہ ہوجائے تو آپ ایک تھراپسٹ کے پاس جاتے ہیں، اس سے علاج معالجہ کرواتے ہیں، بس خدا کا عمل دخل اتنا ہی ہے۔ اور deism اس کو اس لیے کہا کہ اس میں خدا ایک زندہ حقیقت کے طور پر، ایک حیّ وقیوم ذات کے طور پر اس کائنات کو چلانے والا، اس کائنات میں لوگوں کو راہ دکھانے والا نہیں ہوتا۔ بلکہ کچھ اخلاقی باتیں ہیں اور وہ اخلاقی باتیں بھی اس طرح کی ہیں کہ جیسی ہمارے ہاں میڈیا میں عموماً اینکر پرسنز استعمال کرتے ہیں کہ خوش رہیں اپنا خیال رکھیں وغیرہ۔ گویاسب سے بڑی قدر یہی ہے کہ بس آپ کو خوش رہیں،خودکو وقت دیں۔ تو یہ جو تصورات ہیں، اس میں مذہب کو بھی بیچ میں لایا جاتا ہے۔ جس طرح امریکہ میں ایک خاص دور میں جس کو The gospel prosperity کہا جاتا تھا یا اس کو The gospel of health and wealth کہا جاتا تھا کہ اصل میں خدا یہی چاہتا ہے کہ آپ کے پاس پیسہ بے تحاشا ہو، آپ بہت صحت مند ہوں، آپ اپنے جسم پر توجہ دیں، اپنی جیب پرتوجہ دیں۔ تو یہ جو چیز ہے ظاہر بات ہے اس سے یہ ہوتا ہے کہ جب آپ دنیاوی اغراض کے لیے ہی دین کو استعمال کرتے ہیں تو پھر اس سے کبھی ایسا ہوتا ہے کہ دنیا بھی حاصل نہیں ہوپاتی اور دین کا تصور تو ویسے ہی برباد ہو جاتا ہے۔ یعنی وہ باتیں جو اس مقصد کے لیے نہیں کہی گئیں، جب وہ آپ توڑ مروڑ کر وہاں فٹ کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو پھر اس سے مسائل پیدا ہوتے ہیں اور ایک دولختی سی پیدا ہو جاتی ہے۔ اگر آپ دنیا چاہتے ہیں تو دنیا داروں کی بود وباش اور ان کا ڈسکورس اختیار کرکے آپ وہ چیزیں حاصل کر لیں، لیکن اس کے لیے آپ دینی دلائل تراشیں اور وہ ساری بات کریں تو ظاہر بات ہے اس سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

جاری ہے
لرننگ پورٹل