لاگ ان
اتوار 17 ذوالحجہ 1445 بہ مطابق 23 جون 2024
لاگ ان
اتوار 17 ذوالحجہ 1445 بہ مطابق 23 جون 2024
لاگ ان / رجسٹر
اتوار 17 ذوالحجہ 1445 بہ مطابق 23 جون 2024
اتوار 17 ذوالحجہ 1445 بہ مطابق 23 جون 2024

مولانا محمد اقبال
رکنِ شعبۂ تحقیق و تصنیف

قرآن اور فلسفۂ قربانی

سورۃ الحج، آیت: ۳۶ تا ۳۷

قربانی کا مفہوم

لفظ قُربا نی      قَرُبَ يَقْرُبُ سے مصدر ہے جبکہ بعد میں اسے مفعول کے معنیٰ میں استعمال کیا گیا  جیسے رہن۔ عرف میں قربانی ہر اس فعل کو کہا جاتا ہے جس کے ذریعے بندہ اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرتا ہےخواہ وہ ذبیحے کی صورت میں ہو،  صدقے کی صورت میں ہو یا کسی عملِ صالح کی صورت میں ہو۔ (اللباب في علوم الكتاب، ج: ۶، ص: ۹۴) جبکہ اصطلاحِ شریعت میں قربانی اس ذبیحے کو کہا جاتا ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کیا جاتا ہے۔ قرآن کریم میں قربانی کے لیے کہیں قربان اور کہیں منسک کا نام استعمال ہوا ہے۔

قرآن کی نظر میں قربانی کی تاریخ 

اگر ہم قربانی کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو قرآنِ حکیم کے مطابق قربانی کا تصور حضرت آدم علیہ السلام کے زمانے سے کسی نہ کسی شکل میں ہر قوم میں موجود رہا ہے۔ قرآنِ کریم میں اس کے متعلق فرمایا گیا ہے: ﴿وَلِکُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنسَکًا لِّيَذْکُرُ‌وا ٱسْمَ ٱللهِ عَلَىٰ مَا رَ‌زَقَهُم مِّن بَهِيمَةِ ٱلْأنْعَٰمِ﴾ (الحج: ۳۴) ’’اور ہم نے ہر امت کے لیے قربانی اس غرض کے لیے مقرر کی ہے کہ وہ ان مویشیوں پر اللہ کا نام لیں جو اللہ نے انھیں عطا فرمائے ہیں‘‘۔ اس آیت سے واضح ہوا کہ حلال جانور کو اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کی غرض سے ذبح کرنا حضرت آدم علیہ السلام ہی کے زمانے سے شروع ہوا اور پھر ہر امت کے لیے قربانی مقرر کی گئی۔ قرآنِ کریم میں حضرت آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں کی قربانی کا واقعہ مذکور ہے: ﴿وَاتلُ عَلَیهِم نَبَأ ابنَی اٰدَمَ بِالحَقِّ إِذ قَرَّبَا قُربَانًا فَتُقُبِّلَ مِن أَحَدِهِمَا وَلَم یُتَقَبَّل مِنَ الاٰخَرِ﴾ (مائدہ: ۲۷) ’’اور (اے پیغمبر) ان کے سامنے آدم کے دو بیٹوں کا واقعہ ٹھیک ٹھیک پڑھ کر سناؤ، جب دونوں نے ایک ایک قربانی پیش کی تھی، اور ان میں سے ایک کی قربانی قبول ہوگئی، اور دوسرے کی قبول نہ ہوئی‘‘۔ حضرت آدم علیہ السلام کے ان دونوں بیٹوں کا نام کیا تھا اور انھوں نے کیا قربانی پیش کی، اس کے متعلق امام مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’حضرت آدم علیہ السلام کے دو بیٹے تھے ہابیل اور قابیل، ان میں سے ایک نے بکری کی قربانی پیش کی، جبکہ دوسرے نے کھیت کی پیداوار میں سے کچھ ترکاری صدقہ کر کے قربانی پیش کی، چنانچہ بکری کی قربانی دینے والے کی قربانی قبول ہو گئی اور دوسرے بھائی نے اسے قتل کر دیا‘‘۔  (جامع البيان في تأويل القرآن، ج:۱۰، ص:۲۰۴) اس واقعے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حلال جانور کی قربانی کا طریقہ حضرت آدم علیہ السلام کے زمانے سے ہے اور اس کا تصور پہلے ہی سے تھا۔ آیت کے عموم سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کے بعد ہر امت میں قربانی کا یہ سلسلہ چلتا رہا، یہاں تک کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اپنے اولو العزم  فرزندحضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی اللہ کی راہ میں پیش کردی۔ قرآنِ کریم نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کا ذکر خصوصی طور پر کیا ہے کہ انھوں نے اپنے بیٹےحضرت اسماعیل علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کے حکم سےذبح کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت ابراہیم علیہ السلام ملک شام سے وادیٔ بطحا میں تشریف لائے تو اپنے ساتھ اپنی اہلیہ محترمہ حضرت ہاجرہ علیہا السلام کو بھی ساتھ لائے۔ چونکہ اُس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام کی کوئی اولاد نہیں تھی، آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی: ﴿رَبِّ هَب لِي مِنَ الصّٰلِحِینَ﴾’’میرے پروردگار! مجھے ایک ایسا بیٹا دے دے جو نیک لوگوں میں سے ہو‘‘۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی: ﴿فَبَشَّرنٰهُ بِغُلٰمٍ حَلِیمٍ﴾ ’’چنانچہ ہم نے انھیں ایک بردبار لڑکے (حضرت اسماعیل علیہ السلام) کی خوش خبری دی‘‘۔ اس خوش خبری کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حضرت اسماعیل علیہ السلام کی صورت میں ایک عظیم بیٹا عطا فرمایا۔ پھر جب حضرت اسماعیل علیہ السلام بڑے ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے انھیں راہِ خدا میں قربان کرنے کا حکم دیا۔ قرآنِ کریم اس کا نقشہ یوں کھینچتا ہے: ﴿فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعي قَالَ یٰبُنَي إِنِّي أَرٰی فِي المَنَامِ أَنِّي أَذبَحُکَ فَانظُر مَاذَا تَرٰی قَالَ یٰأَبَتِ افعَل مَا تُؤمَرُ، سَتَجِدُنِي إن شاءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰبِرِینَ﴾ ’’پھر جب وہ لڑکا ابراہیم کے ساتھ چلنے پھرنے کے قابل ہوگیا تو انھوں نے کہا: بیٹے! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ تمھیں ذبح کر رہا ہوں، اب سوچ کر بتاؤ، تمہاری کیا رائے ہے؟ بیٹے نے کہا: ابا جان! آپ وہی کیجیے جس کا آپ کو حکم دیا جارہا ہے۔ ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے‘‘۔ یہ حکم اگرچہ خواب میں دیا جا رہا تھا، لیکن انبیاے کرام کا خواب بھی وحی ہوتا ہے، چنانچہ باپ بیٹے دونوں نے اسے اللہ تعالیٰ کا حکم مانتے ہوئے یہ طے کیا کہ باپ بیٹے کو ذبح کرے گا، اس لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے کا فیصلہ کیا۔ باپ بیٹے دونوں نے اللہ تعالیٰ کا حکم بجالانے میں کوئی کمزوری نہیں دکھائی اورحضرت ابراہیم علیہ السلام نے حکمِ خداوندی کی تعمیل میں جب اپنے بیتے کو ذبح کرنے کے لیے پیشانی کے بل لٹایا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے بطورِ معجزہ انھیں یہ کرشمہ دکھایا کہ اپنی طرف سے ایک مینڈھا بھیجا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بجائے چھری اس پر چلی اور حضرت اسماعیل علیہ السلام زندہ سلامت رہے۔ چنانچہ ارشادِ ربانی ہے کہ: ﴿وَنَادَینٰهُ أَن یّٰإِبرٰهِیمُ*  قَد صَدَّقتَ الرُّءیَا إِنَّا کَذٰلِکَ نَجزِي المُحسِنِینَ*  إِنَّ هٰذَا لَهُوَ البَلٰٓـؤُا المُبِینُ * وَفَدَینٰهُ بِذِبحٍ عَظِیمٍ﴾ ’’اور ہم نے انھیں آواز دی کہ: اے ابراہیم! تم نے خواب کو سچ کر دکھایا۔ یقیناً ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح صلہ دیتے ہیں۔ یقیناً یہ ایک کھلا ہوا امتحان تھا۔ اور ہم نے ایک عظیم ذبیحے کا فدیہ دے کر اس بچے کو بچا لیا‘‘۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے محض اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر اپنے لختِ جگر کو قربان گاہ پر ذبح کر نے کے لیے لٹایا، یہ اتنے بڑے عزم اور صبر والا کا م تھا کہ قرآنِ کریم نے اسے ’’کھلا ہوا امتحان‘‘ قرار دیا ہے۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کے بعد دیگر انبیاے کرام کے زمانے میں بھی یہ سلسلہ رائج رہا، جب حضورﷺ نے بنی اسرائیل کو اسلام کی دعوت دی تو انھوں نے حضورﷺ سے جس معجزے کا مطالبہ کیا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل میں بھی قربانی کا تصور تھا۔ قرآنِ کریم نے اس کی طرف اشارہ کیا ہے: ﴿الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ عَهِدَ إِلَيْنا أَلَّا نُؤْمِنَ لِرَسُولٍ حَتَّى يَأْتِيَنا بِقُرْبانٍ تَأْكُلُهُ النَّارُ﴾ (آلِ عمران: ۱۸۳) ’’یہ وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ : اللہ نے ہم سے یہ وعدہ لیا ہے کہ کسی پیغمبر پر اس وقت تک ایمان نہ لائیں جب تک وہ ہمارے پاس ایسی قربانی لے کر نہ آئے جسے آگ کھا جائے‘‘۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ پچھلے انبیاے کرام کے زمانے میں طریقہ یہ تھا کہ جب کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی خوش نودی کے لیے کوئی جانور قربان کرتا تو اس کا گوشت کھانا حلال نہیں ہوتا تھا بلکہ وہ جانور ذبح کر کے کسی میدان میں یا ٹیلے پر رکھ دیا جاتا تھا پھر اگر اللہ تعالیٰ قربانی قبول فرماتے تو آسمان سے ایک آگ آکر اس قربانی کو کھا لیتی تھی۔ (جامع البيان في تأويل القرآن ، ج:۶، ص:۲۸۴) جبکہ حضورِ اکرمﷺ کی شریعت میں قربانی کا گوشت انسانوں کے لیے حلال کر دیا گیا۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جانوروں کی قربانی کا تصور بنی اسرائیل کی شریعت میں بھی رہا ہے۔ جہاں تک بنی اسرائیل کا نبی کریمﷺ سے اس معجزے کا مطالبہ کرنے کی بات ہے تو اس سلسلے میں قرآنِ کریم نے ان کے اس مطالبے کو محض بہانہ قرار دیا اور ان کی اس فرمائش کی تکمیل سے انکار کر دیا۔ اس لیے کہ ایمان لانا ان کے پیشِ نظر تھا ہی نہیں، بلکہ یہ محض ان کی طرف سے بہانہ بازی تھی۔ قرآن نےانھیں یاد دلایا کہ سابقہ انبیاے کرام نے جب تمھاری یہ فرمائش پوری کی تب بھی تم ایمان نہیں لائے، بلکہ تم تو انبیاے کرام کو قتل کرتے رہے ہو: ﴿قُلْ قَدْ جَاءَكُمْ رُسُلٌ مِنْ قَبْلِي بِالْبَيِّنَاتِ وَبِالَّذِي قُلْتُمْ فَلِمَ قَتَلْتُمُوهُمْ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ﴾ (آلِ عمران: ۱۸۳) ’’ تم کہو کہ : مجھ سے پہلے تمہارے پاس بہت سے پیغمبر کھلی نشانیاں بھی لے کر آئے اور وہ چیز بھی جس کے بارے میں تم نے (مجھ سے) کہا ہے۔ پھر تم نے انھیں کیوں قتل کیا اگر تم واقعی سچے ہو؟‘‘۔ اسی طرح ان کا یہ دعویٰ بھی حقیقت پر مبنی نہیں تھا کہ اللہ نے ہم سے یہ عہد لیا ہے کہ کسی پیغمبر پر اس وقت تک ایمان نہ لائیں جب تک وہ ہمارے پاس ایسی قربانی لے کر نہ آئے جسے آگ کھا جائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ مطلق نہیں ہے بلکہ اس شرط پر موقوف ہے کہ: ﴿لَا يَنالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ﴾ ’’میرا یہ عہد ظالموں کو شامل نہیں ہے‘‘۔ یعنی اولادِ ابراہیم میں سے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نقش پر نہیں چلے گا اسے دینی اعتبار سے کسی منصب کا حق دار نہیں ٹھہرایا جائے گا، اور فرمائشی معجزے بھی ایک طرح سے عزت و شرف کی بات ہے جو ظاہر ہے بنی اسرائیل کی سرکشی کے بعد انھیں حاصل نہیں ہے۔ بہر حال، اس پوری تفصیل سے معلوم ہوا کہ قربانی کا تصور امت مسلمہ سے پہلے دیگر امتوں میں بھی رہا ہے، حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر جنابِ رسول اللہﷺ تک ساری امتوں میں اس کا حکم باقی رہا ہے۔ البتہ اس کی ایک خاص پہچان تب بنی جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے صاحب زادے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کے حکم سےذبح کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس واقعے کی یادگار کے طور پرامت محمدیہ پر قربانی کو واجب قرار دیا گیا۔ 

قربانی کی فضیلت و مشروعیت

 اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’قربانی کے دن اللہ کے نزدیک آدمی کا سب سے محبوب عمل خون بہانا یعنی قربانی کرنا ہے۔ قیامت کے دن قربانی کے جانور اپنے سینگوں، بالوں اور کھروں کے ساتھ آئیں گے اور یہ کہ قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے قبولیت کا درجہ حاصل کرلیتا ہے، اس لیے خوش دلی کے ساتھ قربانی کرو‘‘۔(ترمذی: ۱۴۹۳)  سابقہ امتوں کی طرح امت مسلمہ پر بھی قربانی واجب قرار دی گئی ہے۔ چونکہ حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام کی راہِ خدا میں قربانی کا عظیم جذبہ اللہ تعالیٰ کو اتنا پسند آیا کہ اس واقعے کی یادگار کے طور پر حضور اکرمﷺ کی امت کے لیے بھی ہر سال اسی تاریخ کو قربانی کی مشروعیت کا حکم آیا۔ اب اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے جانوروں کی قربانی کرنا ایک خاص عبادت بن گیا اور اس عمل کو مّلتِ ابراہیمی کے خصائص اور شعائر اللہ میں سے قرار دیا گیا۔ لہذا اب ہر بالغ صاحبِ نصاب پر عیدالاضحیٰ کے دن قربانی کرنا واجب ہے۔ ارشادِ ربانی ہے: ﴿فَصَلِّ ِرَ‌بِّکَ وَانْحَرْ﴾‌ (سورۃ الکوثر) ’’تم اپنے پروردگار (کی خوش نودی) کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو‘‘۔ حضرت ابنِ عباس، حضرت حسنِ بصری، حضرت مجاہد، حضرت قتادہ اور حضرت عِکرمہ رضی اللہ عنہم اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس میں نحر سے مراد عید الاضحیٰ کی قربانی ہے۔ (جامع البيان في تأويل القرآن، ج: ۲۶، ص: ۶۵۴ ) اسی طرح نبی کریمﷺ نے فرمایا: «يَأَ يُّهَا النَّاسُ عَلٰى کُلِّ أَهْلِ بَيْتٍ فِي کُلِّ عَامٍ أُضْحِيَّةٌ» (ترمذی: ۱۵۱۸) ’’اے لوگو! ہر گھر والے (صاحبِ نصاب) پر ہر سال ایک قربانی کرنا لازم ہے‘‘۔ دوسری جگہ ارشاد فرمایا: «مَنْ وَجَدَ سَعَةً وَلَمْ يُضَحِّ فَلَا يَقْرَبْنَا فِي مَسَاجِدِنَا» (سنن الدار قطني: ۴۷۴۳) ’’جو مالی وسعت واستطاعت کے باوجود قربانی نہ کرے وہ ہماری مساجد میں نہ آئے‘‘۔

آیاتِ مبارکہ کی تفسیر وتوضیح

قربانی کی تاریخ کا جائزہ لینے اور اس کی فضیلت ومشروعیت کے بیان کے بعد مذکورہ آیات کی مختصر تشریحات وتوضیحات پیشِ خدمت ہیں:

قربانی شعائر اللہ میں سے ہے

شعائر اللہ سے مراد اللہ تعالیٰ کی وہ مخصوص عبادات ہیں جن کو ایک خاص امتیازحاصل ہے اور جن کی اللہ تعالیٰ کی ذات سے خصوصی نسبت ہے۔ شعائر اللہ کی تقدیس اور احترام اہلِ ایمان کے اعتقادات کا حصہ بن گیا ہے، ان شعائر میں سے قربانی بھی ہے۔ اس کے متعلق ارشادِ ربانی ہے: ﴿وَالْبُدْنَ جَعَلنٰهَا لَکُمْ مِّنْ شَعَائِرِ اللّٰهِ لَکُمْ فِیهَا خَیرٌ﴾ ’’اور قربانی کے اونٹ اور گائے کو ہم نے تمہارے لیے اللہ کے شعائر میں شامل کیا ہے، تمہارے لیے ان میں بھلائی ہے‘‘۔ اس آیت میں ’’بدن‘‘ بَدَنةٌ کی جمع ہے، بدنہ کے معنیٰ اونٹ اور گائے کے ہیں، جبکہ ’’شعائر‘‘ شَعیرَةٌ  کی جمع ہے، شعیرہ کے معنی ہیں علامت، یہاں اس کا مطلب ہے کہ قربانی کے جانور موسمِ حج میں دینِ الہٰی کی نشانی اور علامت ہیں۔ (التفسير الوسيط للقرآن الکریم، ج:۶، ص: ۱۲۱۹) جمہور کے نزدیک بدنہ سے مراد اونٹ اور گائے ہے۔ جبکہ ایک قول کے مطابق بدنہ کا اطلاق صرف اونٹ پر ہوتا ہے، حدیث میں آتا ہے:’’جو شخص جمعے کے دن غسلِ جنابت کی طرح غسل کرے، پھر اوّل وقت میں مسجد جائے، گویا اس نے ایک اونٹ کی قربانی دی، اور جو دوسری ساعت میں مسجد پہنچ جائے، گویا اس نے ایک بیل یا گائے کا صدقہ دیا‘‘۔(مؤطا امام مالک: ۳۳۴)  اس حدیث میں حضورﷺ نے بدنہ اور بقرہ میں تفریق کی ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بدنہ سے مراد صرف اونٹ ہے، گائے نہیں ہے۔ اسی طرح ﴿فَإِذَا وَجَبَتْ جُنُوبُهَا﴾ کا وصف اونٹوں کا ہوتا ہے کہ وہ نحر کے لیے قطار میں کھڑے کیے جاتے ہیں، پھر نحر کرنے کے بعد ذبح ہوکر ان کے پہلو زمین پر گرجاتے ہیں، اور اس کے برعکس گائے بکری وغیرہ کو ذبح کے لیے شروع سے لٹایا جاتا ہے۔ (الجامع لأحكام القرآن، ج:۱۲، ص:۶۱) مذکورہ آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں پر احسان کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے یہ جانور پیدا کیے اور پھر ان جانوروں کی قربانی کو دین کے شعائر میں سے قرار دیا۔ اور اس کے ساتھ اس قربانی میں تمھارے لیے بھلائی بھی رکھی، یہ بھلائی دنیا کے اعتبار سے بھی ہے کہ ان جانوروں کے گوشت سے استفادہ کیا جاتا ہے جبکہ آخرت کے اعتبار سے بھی ہے کہ یہ قربانی باعثِ اجر وثواب ہے۔ ﴿فَاذکُرُوا اسمَ اللّٰهِ عَلَیهَا صَوَآفَّ فَإِذَا وَجَبَتْ جُنُوبُهَا فَکُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا القَانِعَ وَالمُعْتَرَّ کَذٰلِکَ سَخَّرْنٰهَا لَکُمْ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُونَ﴾ ’’چنانچہ جب وہ ایک قطار میں کھڑے ہوں، ان پر اللہ کا نام لو، پھر جب (ذبح ہوکر) ان کے پہلو زمین پر گرجائیں تو ان (کے گوشت) میں سے خود بھی کھاؤ، اور ان محتاجوں کو بھی کھلاؤ جو صبر سے بیٹھے ہوں، اور ان کو بھی جو اپنی حاجت ظاہر کریں۔ اور ان جانوروں کو ہم نے اسی طرح تابع بنا دیا ہے تاکہ تم شکر گزار بنو‘‘۔ ’’صواف‘‘ کے معنیٰ ہیں جانوروں کو نحر کے لیے قطار میں کھڑا کرنا، ’’قانع‘‘ اس شخص کو کہتے ہیں جو حاجت مند تو ہے، مگر جو تھوڑا بہت اس کے پاس ہے اس پر قناعت کیے بیٹھا ہے اور اپنی حاجت کسی کے سامنے ظاہر نہیں کرتا، جبکہ ’’معتر‘‘ وہ شخص ہے جو اپنی حاجت کا اظہار کرتا ہے۔ (التفسيرالوسيط للقرآن الكريم، ج:۶، ص: ۱۲۱۹) اس آیتِ مبارکہ میں فرمایا گیا ہے کہ جب تم قربانی کے جانور قطار میں کھڑے کرو تو ان پر اللہ کا نام لو اور ذبح کرو۔ پھر ان جانوروں کے گوشت میں سے خود بھی کھاؤ، اور ان سفید پوش ناداروں کو بھی کھلاؤ جو صبر وقناعت سے کام لے رہے ہیں، اپنی ضروریات وحاجات کا اظہار نہیں کر پا رہے، اور ان محتاجوں کو بھی کھلاؤ جو کسی مجبوری کے سبب اپنی حاجت ظاہر کرتے ہیں۔ اور ان جانوروں پر ہم نے تمھیں قدرت دی ہے اور یہ اس لیے تاکہ تم شکر گزار بندے بنو۔

قربانی کا مقصد اصلی تقویٰ ہے

اللہ تعالیٰ کے بندوں کا مقصدِ حیات عبادت ہے، کیونکہ عبادت ہی اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کا ذریعہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی خوش نودی کے لیے ضروری ہے کہ عبادات میں اخلاص پیدا کیا جائے۔ چونکہ قربانی بھی ایک اہم عبادت ہے اور اس میں اخلاص پیدا کرنا مطلوب ہے، اسی اخلاص کو تقویٰ کہا جاتا ہے۔ زیرِ مطالعہ آیتِ مبارکہ میں بھی قربانی کے اصل مقصد کی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: ﴿لَنْ یَّنَالَ اللّٰهَ لُحُوْمُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلٰکِنْ یَّنَالُهُ التَّقوٰی مِنکُم کَذٰلِکَ سَخَّرَهَا لَکُم لِتُکَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰی مَا هَدٰکُم وَبَشِّرِ المُحْسِنِینَ﴾ ’’اللہ کو نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے نہ ان کا خون، لیکن اس کے پاس تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے، اس نے یہ جانور اسی طرح تمہارے تابع بنا دیے ہیں تاکہ تم اس بات پر اللہ کی تکبیر کرو کہ اس نے تمھیں ہدایت عطا فرمائی، اور جو لوگ خوش اسلوبی سے نیک عمل کرتے ہیں، انھیں خو ش خبری سنا دو‘‘۔ اس آیتِ کریمہ سے تقویٰ کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ان جانوروں کا خون یا ان کاگوشت نہیں پہنچتا اور نہ ہی اللہ تعالیٰ اس کے محتاج ہے، بلکہ ان جانوروں کا خالق وہی ہے، بس وہ تو اپنے بندوں کا تقویٰ دیکھنا چاہتاہے۔ اور تقویٰ کی اہمیت کے متعلق سورۃ البقرۃ میں ارشاد ہے: ﴿فَاِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوٰی﴾ ’’بہترین زادِ راہ تقویٰ ہے‘‘۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ زمانۂ جاہلیت میں لوگ قربانی کے جانوروں کے خون سے اپنے گھر کی دیواروں کو رنگتے تھے، پھر جب مسلمانوں نے بھی یہی ارادہ کیا تو یہ آیت نازل ہوئی کہ: ﴿لَنْ یَّنَالَ اللّٰهَ لُحُوْمُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلٰکِنْ یَّنَالُهُ التَّقوٰی مِنکُم﴾ ’’اللہ کو نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے نہ ان کا خون، لیکن اس کے پاس تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے‘‘۔ (الجامع لأحكام القرآن، ج: ۱۲، ص: ۶۵) یعنی اللہ تعالیٰ کو قربانی کے جانوروں کے گوشت اور خون کی کوئی ضرورت نہیں ہے بلکہ اللہ کے نزدیک تو تقویٰ کی اہمیت ہے، اور تمھاری قربانیوں اور دیگر اعمال کی اہمیت بھی اس وقت ہے جب ان میں اخلاص ہو۔ اور آگےایسے لوگوں کو جو خوش اسلوبی سے اخلاص کے ساتھ نیک اعمال، جن میں قربانی بھی شامل ہے، بجالاتے ہیں، انھیں خوش خبری سنا دی گئی ہے۔  

آیتِ مبارکہ کا سبق یہ ہے کہ قربانی کی اصل یہ نہیں کہ جانور کتنا موٹا تازہ ہے اور کیسا حسین و جمیل ہے،بلکہ  قربانی کی اصل؛ قربانی کرنے والے کی دلی کیفیت سے عبارت ہے کہ وہ کتنے یقین و ایمان، کتنے ذوق و شوق اور اجر وثواب کی کس قدر پختہ امید پر  قربانی کر رہا ہے۔گویا  قربانی کی روح قربانی کرنے والے کی نیت ہے ۔ قربانی کا مقصد اللہ کی رضا کا حصول ہے، اس لیے یہاں اس بات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ ہماپنی قربانیوں کواللہ کی رضا کے لیےخالص رکھیں اور نمود ونمائش سے گریز کریں، تاکہ قربانی کا اصل مقصد ضائع نہ ہو۔ 

رگوں میں وہ لہو باقی نہیں ہے
وہ دل، وہ آرزو باقی نہیں ہے
نماز و روزہ و قربانی و حج
یہ سب باقی ہیں تُو باقی نہیں ہے
لرننگ پورٹل