لاگ ان
اتوار 22 شعبان 1445 بہ مطابق 03 مارچ 2024
لاگ ان
اتوار 22 شعبان 1445 بہ مطابق 03 مارچ 2024
لاگ ان / رجسٹر
اتوار 22 شعبان 1445 بہ مطابق 03 مارچ 2024
اتوار 22 شعبان 1445 بہ مطابق 03 مارچ 2024

مدیر
ماہنامہ مفاہیم، کراچی

عـدنان سے اردگان تک

۱۹۰۹ء میں آخری با اختیار عثمانی خلیفہ جناب سلطان عبد الحمید خان ثانی کی معزولی سے ہی ترکوں کی تاریخ نے ایک نیا موڑ لیا تھا، مگر ترقی کی راہ پر گامزن جدید ترکی کی تاریخ میں ’’اندھا موڑ‘‘ اس وقت آیا جب مصطفیٰ کمال پاشا (1881۔1938ء) نے عسکری محاذ پر ملک کا دفاع کرنے کے بعد ۱۹۲۴ء میں خلافت کی تنسیخ کر کے جمہوریہ ترکی کی بنیاد رکھی۔ یہ نیا ملک جہاں جغرافیائی اعتبار سے تنگ نائیوں میں گھرا ہوا تھا وہیں یہ نظریاتی طور پر بھی پستیوں میں گرا ہوا تھا۔ امت، اُخوّت اورشریعت سے گریزاں یہ ایک سیکیولر ریاست تھی۔ شرعی قوانین اور ملکی نظم وضبط کی بات تو چھوڑیں، عربی زبان میں اذان دینے تک پر پابندی عائد کر دی گئی اور قرآن وسنت کی تعلیم کو روک دیا گیا ۔ ترک قوم کا ایک بڑا حصہ دین سے دور تو ہوا لیکن اصلاحی سرگرمیاں بھی ساتھ ہی جاری رہیں۔ بدیع الزمان سعید نورسی (1873۔ 1959ء) نے تصوف کے نقشبندی سلسلے اور اس کے ذریعے مساجد اور خانقاہوں کو زندہ رکھنے کی سعی جاری رکھی۔ خطوط ورسائل کے ذریعے انھوں نے عوام الناس میں دین کی شمع کو روشن رکھا۔ اگرچہ انھیں اتاترک کی حکومت میں قید وبند کی صعوبتیں بھی اٹھانا پڑیں، لیکن وہ اپنے مشن سے پیچھے نہیں ہٹے۔ اسی طرح شیخ محمود آفندی (۱۹۲۹۔ ۲۰۲۲ء) کی علمی واصلاحی اور صوفیانہ تحریک نے بھی ترکوں کو اسلام سے جوڑے رکھا، بلکہ رجب طیب اردگان سمیت کئی اصحابِ اقتدار آپ کی اصلاحی تحریک سے مستفید ہوئے۔

اتاترک کی ملحدانہ اور لبرل سیاست کے بعد ترک سیاست وحکومت میں مثبت تبدیلی یا اصلاح کی بات کریں تو اس کی ابتدا کا سہرا جناب عدنان میندرس (۱۸۹۹۔ ۱۹۶۱ء) کے سر ہے۔ برس ہا برس خلق پارٹی سے وابستہ رہنے کے بعد انھوں نے ۱۹۴۶ء میں ڈیموکریٹک پارٹی قائم کی جو واقعی اور حقیقی جمہوری پارٹی تھی۔ 1950ء میں ڈیموکریٹک پارٹی نے خلق پارٹی کی 69 نشستوں کے مقابلے میں 408 نشستیں حاصل کر کے شاندار کامیابی حاصل کی تو جلال بایار صدر اور عدنان میندریس وزیر اعظم منتخب ہوئے۔۱۹۵۰ء میں انھوں نے عربی اذان اور اقامت پر عائد پابندی ختم کی۔ مذہبی امور کے محکمے پر اورحج پر عائد پابندی ختم کی تو ۲۵ سال بعد چند سو ترک حج پر گئے۔ عدنان میندرس کے دور میں ایک اہم کام امام خطیب اسکول کا اِحیا تھا۔ یہ سلسلہ اگرچہ کافی پہلے جاری کیا گیا تھا لیکن ناقص نظامِ تعلیم کی وجہ سے وہ عوام میں اپنی قدر ومنزلت کھو چکا تھا۔ ان کے دور میں اس اسکول کا احیا ہوا اور اسلامی تعلیمات کو اعلیٰ معیار کے مطابق یہاں پڑھایا جانے لگا۔ عدنان؛ آئین میں سے خلافِ اسلام دفعات کا خاتمہ کرنا چاہ رہے تھے کہ فوج ان کے خلاف میدان میں آ گئی۔ حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا اور آئین شکنی کا کیس بنا کر ایک فوجی عدالت سے آپ کو پھانسی دلوا دی گئی، ان کے وزیر خارجہ کو بھی پھانسی دی گئی۔ ان کی جماعت ڈیموکریٹک پارٹی پر پابندی لگا دی گئی اور اس کے ممتاز ارکان کو نا اہل قرار دیا گیا۔ 

اگلے چند سال ملک میں حکومت کے نام پر سیکیولر فوجی ناچ جاری رہا۔ یہاں تک کہ جدید ترکی سیاست کے ایک درخشندہ ستارے جناب ڈاکٹر پروفیسر نجم الدین اربکان عملی سیاست کی طرف متوجہ ہوئے۔ پیشے کے اعتبار سے ایک ماہر مکینیکل ا نجینیر تھے جو جرمنی میں پی ایچ ڈی کرنے اور اپنے شعبے میں شاندار کار کردگی دکھانے کے بعد وطن لوٹے تھے۔ آپ نے استبول ٹیکنیکل یونی ورسٹی میں تدریس کے علاوہ موٹر سازی کے شعبے میں اہم خدمات سر انجام دیں۔ آپ ملک میں صنعتوں کے قیام کے لیے بہت محنت کرتے یہاں تک کہ ترکی میں صنعت وتجارت کے اعلیٰ ادارے یونین آف چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ڈائریکٹر بنائے گئے۔ دینی اعتبار سے آپ کا تعلق نقشبندی سلسلے سے تھا اور اسلامی نظریات وعبادات میں گہرا شغف رکھتے تھے۔ جب سلیمان ڈیمرل(سابق صدر و وزیر اعظم، معروف ترک رہنما) نے نا جائز طور پر انھیں چیمبر آف کامرس سے نکالا تو انھوں نے سیاست میں عملی طور پر حصے لینے کا ارادہ کیا۔ 

 ۱۹۶۹ء میں نیشنل سالویشن پارٹی قائم کی اور ۱۹۷۳ء کے الیکشن میں ۴۸ سیٹیں حاصل کر لیں۔ آپ نائب وزیر اعظم بھی رہے۔ ترک سیکیولر فوج نے متعدد بار آپ کی جماعتوں کو کالعدم قرار دیا اور آپ کو کچھ عرصہ قید وبند کی صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑیں۔ ہر پابندی کے بعد وہ ایک نئے نام سے جماعت بنا کر میدان میں آجاتے۔ آپ نے نیشنل سالویشن پارٹی، سلامت پارٹی، سعادت پارٹی، فضیلت پارٹی اور رفاہ پارٹی قائم کیں۔ ۱۹۸۷ء میں آپ نے رفاہ پارٹی کی بنیاد رکھی۔ ۱۹۹۰ء کے الیکشن میں آپ کی جماعت نے چالیس سیٹیں حاصل کیں۔ اب اسلام پسند جماعت، ترک سیاست میں ایک اہم عنصر کے طور پر متعارف ہوئی۔ ۱۹۹۵ء کے الیکشن میں رفاہ پارٹی نے ۲۱ فیصد ووٹ حاصل کیے اور اور نجم الدین اربکان ترکی کے وزیر اعظم بنے لیکن سیکیولر فوج نے ایک بار پھر مداخلت کی اور ۱۹۹۷ء میں اربکان حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا اور رفاہ پارٹی پر پابندی عائد کر دی گئی۔

اربکان حکومت کے خاتمے کے بعد ۲۰۰۲ء تک سیکیولر جماعتوں کے اتحاد نے بلند ایجوت کی وزارتِ عظمٰی کے سائے میں حکومت کی۔ اس حکومت کی اقتصادی کارگردگی مایوس کن تھی۔ عالمی بنک کے ایک سابق نائب صدر کمال درویش کو وزیرِ اقتصادیات مقرر کیا گیا تھا جس کی ’’بے کمال‘‘ قیادت میں آئی ایم ایف کے قرضوں میں مزید اضافہ ہوا اور ملک معاشی بحران کا شکار رہا۔ لیرا کی قیمت میں کمی، شرحِ سود اور مہنگائی میں اضافہ ہوا۔ یہاں تک کہ مئی ۲۰۰۲ء میں بلند ایجوت کی پارٹی کے کئی اہم وزرا اور ارکانِ اسمبلی نے استعفی دے دیا اور قبل از وقت الیکشن کرانے پڑے۔ چنانچہ نومبر 2002ء کو انتخابات کا انعقاد کیا گیا۔

سیکیولر لوگوں کی ماڑ دھاڑ اور آپا دھاپی کے سالوں میں ترکی کے اصلاح پسند صوفی اور اسلام پسند سیاسی اپنی محنت میں مگن رہے۔ ان میں ایک اہم نام رجب طیب اردگان کا ہے۔ آپ کی پیدائش ۱۹۵۴ء میں ہوئی۔ آپ ایک عام متوسط گھرانے کے فرد تھے جنھیں جوانی میں روزگار کے لیے مختلف قسم کی محنتیں کرنا پڑیں۔ رجب طیب، عدنان میندرس کے بنائے اسکول سسٹم امام خطیب اسکول کے پڑھے ہوئے تھے۔ یونی ورسٹی کی تعلیم کے دوران آپ کی ملاقات نجم الدین اربکان سے ہوئی اور ان سے متاثر ہوئے اور طویل عرصہ اربکان کے ایک سیاسی کارکن کی حیثیت سے کام کیا۔ ۱۹۹۴ء میں ہونے والے بلدیاتی الیکشن میں وہ اربکان کی رفاہ تنظیم کے ٹکٹ پر بلدیاتی الیکشن میں حصہ لے کر استنبول کےمیئر بن گئے، اس وقت یہ شہر گونا گوں مسائل کی آماج گاہ بنا ہوا تھا۔ اردگان نے دن رات اس شہر کی خدمت کی اور اس شہر کے کئی مسائل کو حل کر کے چند ہی سالوں میں اسے ایک خوبصورت شہر کا روپ دے دیا۔ انھوں نے استنبول میں صفائی اور ہریالی لانے کے لیے عمدہ اقدامات کیے۔ کرپشن، پانی کی قلت اور فضائی آلودگی ختم کرنے میں انھوں نے کامیابی کی۔

۱۹۹۷ء میں مذہبی نظم پڑھنے کے جرم میں انھیں نہ صرف استنبول کی سربراہی سے معزول کر دیا گیا بلکہ انھیں جیل بھی جانا پڑا۔ ۲۰۰۱ء میں انھوں نے رفاہ پارٹی میں اپنے ہم کار جناب عبد اللہ گل کے ساتھ مل کر جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی بنائی۔ اسی دوران ۲۰۰۲ء کے الیکشن آ گئے۔ اگرچہ اسلامی نظم پڑھنے کی سزا کی وجہ سے اردگان خود انتخاب نہ لڑ سکے لیکن ان کی جماعت اس الیکشن میں ایک بڑی اور اکثریتی جماعت بن کر سامنے آئی۔ فتح کے بعد جناب عبد اللہ گل وزیر اعظم بنائے گئے۔ انھوں نے وزیراعظم بن کر ایسی قانونی ترامیم کیں جن کے نتیجے میں اردگان کی نااہلی کا فیصلہ کالعدم ہوا۔ اس کے بعد کرد اکثریت کے شہر سِرت سے اردگان نے ضمنی الیکشن میں حصہ لیا اور پچاسی فی صد ووٹ لے کر کامیاب ہوئے اور اس طرح 2003ء سے انھوں نے وزیرِ اعظم کا عہدہ سنبھالا۔ عبد اللہ گل ان کی خاطر وزارتِ عظمیٰ سے دست بردار ہوئے اور انھیں وزیرِ خارجہ کا عہدہ دیا گیا۔ ۲۰۰۷ء کے الیکشن میں انصاف وترقی پارٹی نے سادہ اکثریت حاصل کی اور بلا شرکتِ غیر حکومت قائم کی۔ سابق وزیرِ خارجہ عبد اللہ گل صدر بنائے گئے جب کہ رجب طیب اردگان وزیرِ اعظم بنے۔ اپنے اس دورِحکومت میں رجب طیب اردگان اور ان کی ٹیم ملک کی تعمیر و ترقی میں لگے رہی اور مختلف اعتبارات سے انھوں نے ملک کی خدمت سر انجام دی۔ ۲۰۱۱ء کے الیکشن میں بھی عدل و ترقی پارٹی کو برتری حاصل ہوئی جس سے رجب طیب ادگان سیاسی طور پر مزید مضبوط ہوئے۔ رجب طیب اردگان نے فوج کے سیاسی کردار کو کم کرنے کے لیے بھی کام کیا چنانچہ آپ ہی کوششوں سے ۲۰۱۳ء میں سیاسی سازشوں میں شریک ۱۷ فوجی افسران کو عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ ۲۰۱۴ء میں براہِ راست انتخابات سے آپ ملک کے صدر منتخب ہوئے، یہ ملک کا پہلا صدارتی الیکشن تھا ورنہ اس سے پہلےپارلیمانی نمائندوں کو صدر کے انتخاب کا حق حاصل تھا۔ اردگان نے کئی آئینی اصلاحات کے بعد ملک کا سیاسی نظام پارلیمانی کے بجائے صدارتی کر دیا۔ ۲۰۱۶ء میں جب فوج نے اردگان حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی تو عوام فوج کے خلاف کھڑے ہو گئے اور بغاوت ناکام رہی۔ ۲۰۱۸ء کے قبل از وقت الیکشن میں ایک بار بھی عدل وترقی پارٹی کو کامیابی حاصل ہوئی اور اردگان براہِ راست صدارتی انتخاب میں کامیاب ہو کر اگلی مدت تک کے لیے صدر بنا دیے گئے۔ اس مدت کا اختتام جون ۲۰۲۳ء میں ہو رہا تھا لیکن اردگان نے ایک ماہ قبل الیکشن کرانے کا اعلان کیا ہے اور اس کے لیے ۱۴ مئی کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔ اردگان کے مطابق ایسا کالج یونیورسٹی کی امتحانی تاریخوں کی وجہ سے کیا گیا۔ بعض لوگ اسے اردگان کی سیاسی چال قرار دے رہے ہیں تاکہ اپوزیشن کو تیاری کے لیے مناسب وقت نہ مل سکے۔ بعض لوگ ۱۴ مئی کی تاریخ کا تعلق ۱۹۵۰ء میں ہونے والے ان الیکشن کے ساتھ جوڑ رہے ہیں کہ جو ۱۴ مئی ہی کو منعقد ہوئے تھے جن کے نتیجے میں جناب عدنان میندرس کامیاب ہو کر وزیرِ اعظم بنے تھے اورشعائرِ دینی پر عائد پابندیاں ہٹا کر سیکیولر ازم کی پسپائی اور اسلامیت کی پیش قدمی کی ابتدا کی تھی۔

رجب طیب اردگان کم و بیش پچھلے بیس سال سے ترکی کی قیادت کر رہے ہیں۔ ان کے کارناموں کی فہرست طویل ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ کی قیادت میں ترکی ۲۳ ارب ڈالر کے غیر ملکی قرضے کے بوجھ سے آزاد ہوا۔ آپ کے دور میں تعلیم اور صحت کے بجٹ میں کئی گنا اضافہ کیا گیا یہاں تک کہ تعلیم اور علاج، عوام کو مفت فراہم کیے جانے لگے۔ ملک میں بہت سارے نئے ہوائی اڈے قائم کیے جن میں استنبول کا ایک بڑا ہوائی اڈہ بھی شامل ہے۔ ملک کے طول و عرض میں ہزاروں کلومیٹر سڑکیں تعمیر کی گئیں۔ رجب طیب اردگان کے ادوارِ حکومت میں ریلوے کے نظام کو بہتر کیا گیا اور ایک ہزار کلومیٹر سے زیادہ ریلوے ٹریک بچھائے گئے۔بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ میں خاتمہ بھی آپ کی حکومت کو ایک کارنامہ ہے۔رجب طیب اردگان کی حکومت نے بھاری صنعتوں میں بھی کافی ترقی کی اور اسی دور میں فی کس آمدنی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اس دور میں مالیاتی اصلاحات کے ذیل میں خاص طور پرسیاحت کے شعبے بہت زیادہ فروغ دیا گیا۔

 ملّتِ اسلامیہ کے مسائل پر دوٹوک موقف، اسرائیل پر تنقید اور فلسطین کی حمایت اور بیرون ملک خصوصاً مظلوم مسلمانوں کے درمیان رفاہی سرگرمیاں بھی آپ کی مقبولیت میں اضافے کا سبب بنیں۔ اسی طرح بعض عالمی تنازعات میں اردگان کا فعال مصالحانہ کردار انھیں اپنے مقابل امیدوار سے ممتاز کرتا  ہے۔ اس کی ایک مثال روس اور یوکرین کے درمیان ترسیلِ گندم کے معاملے میں ، اقوامِ متحدہ اور ترکی کی کوششوں سے استنبول میں کامیاب مذاکرات کا انعقاد ہے ۔

رجب طیب اردگان نے شام میں اپنی فوجیں بھیج کر دہشت گردی کے خلاف موثر کار روائیاں کی ہیں۔ اس کے علاوہ کرد ملیشیا کے خلاف بھی فوجی کار روائی کی گئی۔ آرمینیا کے خلاف آذر بائیجان کی مدد اور اسرائیل کے خلاف فلسطین کی حمایت کی۔ شامی مہاجرین کی آباد کاری کے لیے بھی ترکی نے بہت قربانیاں دیں۔ بحیرۂ روم میں سمندری حدود کے مسئلے پریونان اور قبرص کے خلاف سخت موقف اپنایا۔ یہی وہ اقدامات ہیں جنھیں ایک طرف تو اسلام پسند طبقہ پسندیدگی کی نظر سے دیکھتا ہے تو سیکیولر طبقات کی تنقید بھی اسی پر ہے۔ اسلام پسند اسے خلافتِ اسلامی کی جانب پیش قدمی قرار دیتے ہیں جبکہ اردگان کے مخالف اسے ’’استبدادی دور‘‘ کی طرف رجعت قرار دیتے ہیں۔ اردگان کے پہلے دس سالوں کی اقتصادی صورتِ حال کا تقابل اگر اردگان سے پہلے والے ادوار سے کیا جائے تو ایک شان دار معاشی صورتِ حال سامنے آتی ہے۔ کہاں وہ دور کہ ترکی آئی ایم ایف کا مقروض تھا اور کہاں یہ عالم کے اردگان نے قرض کی ادائی کے بعد یہ بیان جاری کیا کہ ہم قرض دینے کی پوزیشن میں آ گئے ہیں۔ لیکن اگر ہم اردگان کے پہلے سالوں کا تقابل ان کے آخری دور سے کریں تو معاشی صورتِ حال خراب نظر آتی ہے۔ ڈالر کے مقابلے میں لیرا کی قیمت میں کمی، افراطِ زر اور مہنگائی میں اضافہ وہ صورتِ حال ہے جو رجب طیب اردگان کی مقبولیت میں کمی اور ا ن کے ناقدین کے حوصلوں کے اضافے کا باعث ہے۔ البتہ حقیقت پسندانہ نظر سے دیکھا جائے تو اس معاشی صورتِ حال میں کرونا کی وبا اور حالیہ زلزلے کا عمل دخل بھی کافی حد تک ہے۔

 اردگان کے مقابلے میں تین صدارتی امیدواروں میں مضبوط ترین کمال قلیچ دار اوغلو ہیں جو جمہوری خلق پارٹی کے صدر اور چھے سیاسی جماعتوں کے حمایت یافتہ ہیں۔ کمال بے ایک عشرے سے قائدِ حزبِ اختلاف کا کردار ادا کر رہے ہیں اور منجھے ہوئے سیاست دان ہیں۔ وہ اردگان کی خارجہ پالیسیوں پر نظرِ ثانی کرنے کا عندیہ دے چکے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ وہ اپنی مثبت پالیسیوں سے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کو اپنی جانب متوجہ کر یں گے۔ اس وقت دونوں اپنی اپنی عوامی طاقت کا اظہار کر رہے ہیں اور بڑے بڑے جلسے کر رہے ہیں۔ استنبول کا حالیہ جلسہ رجب طیب اردگان کی کامیاب انتخابی مہم کا منھ بولتا ثبوت ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس جلسے میں سترہ لاکھ افراد شامل ہوئے ہیں، اس سے اردگان کی مقبولیت میں اضافہ متوقع ہے۔ دنیا بھر کی نظریں ترکی کے انتخابات پر ہیں اور دنیا بھر کے اسلام پسندوں کی دعائیں رجب طیب اردگان کے ساتھ ہیں۔ ہم اردگان کی کامیابی، مستقبل میں بہتر کارکردگی اور کمی کوتاہی کی تلافی واصلاح کے لیے دعا گو ہیں۔

لرننگ پورٹل