لاگ ان
جمعرات 12 شعبان 1445 بہ مطابق 22 فروری 2024
لاگ ان
جمعرات 12 شعبان 1445 بہ مطابق 22 فروری 2024
لاگ ان / رجسٹر
جمعرات 12 شعبان 1445 بہ مطابق 22 فروری 2024
جمعرات 12 شعبان 1445 بہ مطابق 22 فروری 2024

مفتی نذیر احمد ہاشمی مدظلہ
ضبط و ترتیب: مولانا عابد علی

القاعدة الثامنة: لا مساغَ للإجتهاد في مورد النص

جہاں نص موجود ہو وہاں اجتہاد کی کوئی گنجائش نہیں

اجتہاد کے لغوی معنی

اپنی تمام تر قوت کے ساتھ اپنی تمام تر کوشش کو کسی فعل کے انجام دینے میں صرف کرنا اجتہاد کہلاتا ہے، اور یہ صرف اس موقعے پر استعمال کیا جاتا ہے جہاں کسی فعل کے کرنے میں مشقت اٹھانی پڑے۔

اجتہاد کےاصطلاحی معنی

احکامِ شرعیہ کے دریافت اور استنباط واستخراج میں پوری محنت اور جدوجہد اس طرح صرف کرنا کہ اس سے زیادہ محنت کرنے میں انسان اپنے آپ کو بے بس اور مجبور محسوس کرے۔

کن مسائل میں اجتہاد جائز ہے

ہر وہ مسئلہ جس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے نص موجود ہو تو مجتہد کے لیے اس میں اجتہاد کرنا جائز نہیں ہے ،اس لیے کہ فرعی احکام میں اجتہاد یا قیاس کے جواز کے لیے شرط یہ ہے کہ شارع کی طرف سے کوئی نص موجود نہ ہو۔

نص کی موجودگی میں اجتہاد کی مثالیں

حرمتِ ربا کے بارے میں نص موجود ہے، لہذا اِس کی حلت کے بارے میں اجتہاد کی گنجائش نہیں ہوگی۔

وراثت میں بیٹی کے مقابلے میں بیٹے کا حصہ دگنا ہونے کے بارے میں نص موجود ہے، لہذا اجتہاد کے ذریعے بیٹی کے حصےکو بیٹے کے برابر نہیں کیا جائے گا۔

اس قسم کے اجتہادات، جو ان احکامِ شرعیہ کے خلاف ہوں، جن کے بارے میں نصوص موجود ہیں، جائز نہیں ہیں، کیوں کہ اجتہاد کی گنجائش نصوص کی عدم موجودگی کے ساتھ مقید ہے۔

تفریعات

صریح حدیث موجود ہے کہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا:مدعی کے ذمے گواہ پیش کرنا اور مدعی علیہ کے ذمے قسم کھانا ہے،اب کسی مجتہد کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اس کے برخلاف اجتہاد کرکے کہے کہ مدعی کے ذمے قسم کھانا اور مدعی علیہ کے ذمے گواہ پیش کرنا ہے، ایسے اجتہاد کا کوئی اعتبار نہیں اس لیے کہ صریح نص موجود ہے۔

قرآنِ کریم میں صریح نص موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بیع کو حلال کیا ہے اب کسی مجتہد کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اس بارے میں اجتہاد کرے کہ آیا بیع حلال ہے یا حرام ،اس لیے کہ جب صریح نص موجود ہے کہ اب اس کے مقابلے میں اجتہاد کرنا جائز نہیں ہے۔

قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے غیر شادی شدہ زنا کرنے والے مرد اور عورت کے متعلق فرمایا کہ انھیں سو کوڑے لگائے جائیں۔ اب کسی کے لیے ان کو ڑوں کی تعداد کے متعلق اجتہاد کرنا جائز نہیں ہے کہ زانیہ مردیا عورت کو کتنے کوڑے مارے جائیں اس طرح وہ تمام سزائیں اور کفارات جن کی شریعت نے کوئی حد مقر رکی، اِن کی مقدار میں اجتہاد کی گنجائش نہیں۔

6)۔جوئے کی ممانعت نص صریح سے ثابت ہے اب کوئی نص کے مقابلے میں اجتہاد کرکے جوئے کے جواز کو ثابت کرے تو شرعاً اس کا کوئی اعتبار نہیں ہوگا۔

لرننگ پورٹل