لاگ ان
اتوار 17 ذوالحجہ 1445 بہ مطابق 23 جون 2024
لاگ ان
اتوار 17 ذوالحجہ 1445 بہ مطابق 23 جون 2024
لاگ ان / رجسٹر
اتوار 17 ذوالحجہ 1445 بہ مطابق 23 جون 2024
اتوار 17 ذوالحجہ 1445 بہ مطابق 23 جون 2024

مولانا حماد احمد ترکؔ
نائب مدیر ماہنامہ مفاہیم، کراچی

۷:محمد خان فاتح ۱۴۳۲۔۱۴۸۱ء

محمد خان فاتح (جنھیں محمدِ ثانی بھی کہا جاتا ہے) کی ابتدائی تعلیم دستور کے مطابق مکمل ہوئی۔ محمد خان نے اپنے زمانے کے کِبار علما سے علومِ دینیہ کی تکمیل کی، ملا خسرو، ملا کورانی، شیخ آ ق شمس الدین وغیرہ کی نگرانی میں دینی علوم کے ساتھ ساتھ علم ِریاضی، ہندسہ، تاریخ اور ادب میں مہارت پیدا کی۔ کم سنی میں ہی محمد خان ثانی نے عربی، فارسی، لاطینی، سربی اور یونانی زبانیں سیکھ لیں۔ محمد خان کی تربیت میں شیخ آق شمس الدین کا نمایاں کردار ہے۔ گزشتہ قسط میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ بعض بشارتوں کے پیشِ نظر محمد ثانی کے والد نے محض بارہ سال کے عمر میں ہی محمد کو تخت سونپ دیا، لیکن بوجوہ دو سال بعد دوبارہ خود تخت سنبھال لیا۔ والد کی وفات پر ۱۴۵۱ ء میں محمد خان ثانی بَسُرعَتِ تمام اَدرنہ پہنچے اور تخت پر جلوہ افروز ہوئے۔ یوں تو فرمانِ نبوی’’لازماً قسطنطنیہ فتح ہو گا اور کیا ہی بہترین امیر ہو گا وہ امیر(جو اسے فتح کرے گا)اور کیا ہی بہترین ہو گا وہ لشکر‘‘ کے سبب تمام ہی خلفا اور سلاطین اس بات کے خواہش مند تھے کہ قسطنطنیہ کی فتح کا سہرا ان کے سر ہو، لیکن سلطان محمد خان فاتح کو ا ن کے شیخ کی طرف سے بشارت ملی کہ یہ تاج تمھارے سر پر رکھا جائے گا۔ سلطان نے اوّل روز سے ہی فتحِ قسطنطنیہ کی تیاریاں شروع کردیں۔ سلطان جانتے تھے کہ قسطنطنیہ کی فتح میں دو بڑی روکاوٹیں ہیں جنھیں دور کیے بغیر چارہ نہیں: ایک قسطنطنیہ کے دفاعی اور حفاظتی انتظامات اور اس کا محلِ وقوع، اور دوسرا بیرونی مداخلت اور حملے کا خطرہ۔ سلطان نے سپاہیوں کی تعداد، آلاتِ حرب وضرب کی فراوانی،نقشوں کی تیاری اور بالخصوص جدید طرز کی توپوں کی صنعت گری پر خصوصی توجہ دی۔ ایک غیر ملکی انجینیر کے ذریعے بہت بڑی توپ تیار کی گئی جسے ’’شاہی توپ‘‘ کا نام دیاگیا۔ اسی طرح باسفورس کے کنارے قسطنطنیہ سےتقریبًا پانچ میل کے فاصلے پر یورپی ساحل سے متصل ایک عظیم الشان قلعے کی تعمیر شروع ہوگئی، ایسا ہی ایک قلعہ اس کے بالمقابل ایشیائی ساحل پر سلطان بایزید بنا چکے تھے۔ اس قلعے کی تعمیر رکوانے کے لیے قسطنطین نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا، لیکن سلطان نے قلعے کی تعمیر مکمل کرلی۔ اب آبناے باسفورس مکمل ترکوں کے قبضے میں تھی، قلعے پر توپیں نصب تھیں، جو کسی بھی بحری جہاز کو نشانہ بناسکتی تھیں۔ یہ انتظامات تو قسطنطنیہ کے مضبوط دفاعی نظام کے سبب تھے، بیرونی امداد اور مداخلت سے بچنے کے لیے سلطان نے سب سے پہلے امیرِ کرمانیہ سے صلح کی تاکہ پشت سے حملے کا خطرہ ٹل جائے۔ پھر عظیم جرنیل ہونیاڈے (جس کا ذکر پچھلی قسط میں گزر چکا ہے) سے تین سال کے لیے صلح کر لی۔ اس کے بعد شاہ قسطنطین کے بھائیوں کی جانب سے متوقع ا مداد کے پیشِ نظر موریا کی طرف فوج روانہ کی۔ مذکورہ تدابیر سے فارغ ہونے کے بعد سلطان قسطنطنیہ کی طرف متوجہ ہوئے۔ سلطان کو بحری فوج میں خصوصی دلچسپی تھی، چنانچہ ایک سو اسّی جہازوں پر مشتمل بحری بیڑہ بھی سلطان نے اپنی نگرانی میں تیار کروایا۔ ادرنہ میں موجود ڈیڑھ لاکھ سپاہیوں اور دیگر جنگی سازوسامان کے ساتھ سلطان نے قسطنطنیہ کا محاصرہ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ محاصرے کی تفصیل سے قبل یہ جاننا ضروری ہے کہ قسطنطنیہ شہر کا محلِ وقوع کیسا تھا اور کیوں یہ شہر ہمیشہ سے ناقابلِ تسخیر رہا:

قسطنطنیہ مثلث نما شہر تھا جس کے تین طرف پانی تھا؛ ایک جانب بحر ِمرمرا، دوسری جانب باسفورس جبکہ تیسری طرف شاخ زرّیں جسے گولڈن ہارن بھی کہتے ہیں موجود تھی۔ باسفورس سے گولڈن ہارن جانے والے راستے میں ایک بہت بڑی اورمضبوط زنجیر لگائی گئی تھی جس کے سبب قسطنطنیہ میں داخلہ ناممکن تھا۔ اس شہر کا وہ حصہ جو پانی کے ساتھ تھا یعنی بحرِمرمرا سے لے کر شاخ زرّیں تک، اس کی حفاظت کے لیے دو بہت مضبوط فصیلیں تھیں، دونوں فصیلوں کے مابین ساٹھ فٹ کا فاصلہ تھا اور درمیان میں ایک نہر بھی تھی۔ باہر والی فصیل پچیس فٹ بلند تھی اور اس پر برج بنے ہوئے تھے جہاں سپاہیوں کی بھاری تعداد موجود ہوتی۔ بالفرض کوئی فصیل عبور کر بھی لیتا تو آگے نہر تھی، نہر پار کرنے پر ایک چالیس فٹ کی فصیل موجود تھی جو شہر سے متصل تھی، اس چالیس فٹ کی فصیل پر بہت بلند برج تھےجن کی اونچائی ساتھ فٹ کے لگ بھگ تھی۔ اسے پار کرنا بلندی کے اعتبار سے بھی مشکل تھا اور سپاہیوں کے حملوں کے اعتبار سے بھی۔ کیونکہ پہلی فصیل پار کرنے کے بعد نہر میں اُترنا پڑتا اور وہاں پر مامور سپاہی، حملہ آوروں کو نشانہ بنا کر ختم کر دیتے۔ لہذا اوّل تو ایسی کوشش ہوئی ہی نہیں اور جب کسی نے کی تو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ دوسرا حصہ جہا ں سے شہر میں داخلہ ممکن تھا وہ گولڈن ہارن تھی، لیکن وہاں ایک بہت مضبوط زنجیر لگائی گئی تھی، اگر کوئی زنجیر کے قریب بھی ا ٓتا تو چوکیوں میں موجود سپاہی اسے تیروں کی بارش میں واپس بھاگنے پر مجبور کردیتے، چنانچہ یہاں سے بھی داخل ہونا ممکن نہ تھا۔ اب رہی بات ا س حصّے کی جو خشکی پر تھا تو اس کی حفاظت کے لیے تین فصیلیں موجود تھیں، پہلی فصیل شہر سے متصل تھی، اس سے ساٹھ فٹ کے فاصلے پر دوسری فصیل تھی اور تیسری فصیل باہر تھی جہاں عثمانی فوجیں محاصرہ کیے ہوئی تھیں۔ دوسری اور تیسری فصیل کے درمیان ساٹھ فٹ چوڑی اور ’سو ‘ فٹ گہری خندق تھی جسے عبور کرنا بہت مشکل تھا۔ فصیلوں پر برج بنے ہوئے تھے جہاں بازنطینی سپاہی ہمہ وقت انتہائی جوش وجذبے سے دفاع کے لیے تیار رہتےتھے۔ جو حملہ ہوتاتھا وہ تیسری فصیل پر ہوتاتھا جس سے شہر پر کوئی اثر نہیں پڑتاتھا۔ اور یہ فصیلیں اتنی مضبوط تھیں کہ عام توپوں سے ان کا کچھ نہ بگڑتا اور کہیں کوئی رَخنہ پڑ ہی جاتا تو بازنطینی دفاعی نظام اتنا شاندار تھا کہ اسے فورًا بھر دیا جاتا اور جب تک توپیں خاموش ہوتیں اور سپاہی فصیل کے نزدیک آتے وہ شگاف بند ہو چکا ہوتا۔ گولہ باری کے دوران ظاہر ہے کہ سپاہی پیچھے آجاتے تھے اور شگاف پڑنے پر ہی فصیل کے نزدیک جاسکتے تھے۔ قسطنطنیہ کا صرف ایک حصّہ ایسا تھا جہاں سپاہی کثیر تعداد میں نہیں تھے اور وہ شاخِ زرّیں کا حصّہ تھا۔ محاصرہ اب بھی نامکمل تھا کیونکہ شاخِ زرّیں بازنطینیوں کے پاس تھی اور شاخِ زرّیں میں جانےکے لیے زنجیر سے گزرنا ضروری تھا۔ اب آپ جان گئے ہوں گے کہ یہ قلعہ کیوں ناقابلِ تسخیرتھا اور کیسے اب تک اکیس حملوں میں اس شہر کو کوئی نقصان نہیں پہنچا، اور اس کو فتح کرنے کی حسرت لیے کتنے بادشاہ دنیا سے کوچ کر گئے۔ آئیے اب دیکھتے ہیں کہ سلطان محمد خان فاتح نے قسطنطنیہ فتح کرنے کے لیے کیا حکمت عملی اختیار کی۔

سلطان محمد فاتح نے حملوں کاآغاز خشکی والے حصّے سے کیا اور توپوں سے مسلسل گولے برسانے شروع کردیے، خاص طور پر شاہی توپ کا بھر پور استعمال کیا حتی کہ ایک موقعے پر شاہی توپ کثرت استعمال ہونے کی وجہ سے ایک جگہ سے پھٹ گئی، تواس کی مرمت کی گئی اور توپوں کو ٹھنڈا کرنے کے لیے تیل کا استعمال کیا گیا۔ اس خوف ناک محاصرے کو ختم کرنے کے لیے قسطنطین نے مال ودولت اور بہت سے خِطوں کی ملکیت کی پیشکش کی، لیکن سلطان نے صاف انکار کردیا۔ سلطان نے اس پیشکش کو ٹھکراتے ہوئے یہ تاریخی جواب دیا:’’یا تو میں قسطنطنیہ لے لوں گا یا قسطنطنیہ مجھے لے لے گا‘‘۔شاہ قسطنطین نے شہر کے دفاع کے لیے بھرپورتیاری کی، سپاہیوں کو حوصلہ دلانے کے لیے دن بھر مذہبی رہنما فصیلوں کا چکر لگاتے اور وعظ کہتے۔ اس کے ساتھ ساتھ قسطنطین جو کہ آرتھوڈاکس عیسائیت کا علم بردار اور رہنماتھا، اس نے مدد کے لیے پاپاے اعظم اور دیگر ممالک بالخصوص یورپ کے بادشاہوں کو پیغام بھیجے۔ قسطنطین نے اعلان کیا کہ وہ آرتھوڈاکس کلیسا کو کیتھولک کلیسا کے ساتھ ضم کردےگا اور پوپ کا مطیع بنا دے گا، اس پرپوپ نے مدد کا اقرار کیا۔ لیکن آرتھوڈاکس فرقے کے عیسائی اور پادری قسطنطین کے مخالف ہوگئے۔قسطنطین کے فیصلے کے بعد کارڈینل کے زیرِصدارت ایک مجلسِ مشاورت منعقد ہوئی جس میں اتفاقِ رائے سے یونانی کلیسا کو رومی کلیسا میں ضم کر دیا گیا۔ دونوں فرقوں میں طویل عرصے کی مخاصمت چلی آرہی تھی چنانچہ یونانی پادریوں نے اس پر شدید غم وغصّے کا اظہار کیا اور بہت سے عہدے دار قسطنطین کا ساتھ چھوڑ گئے۔ افواجِ قسطنطنیہ کے سپہ سالار نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ ’’مجھے کارڈینل کی ٹوپی کے مقابلے میں قسطنطنیہ میں ترکوں کے عمامے زیادہ گوارا ہیں‘‘۔ چنانچہ کلیساؤں نے بادشاہ کو مدد دینے سے انکار کر دیا۔ دوسری طرف یورپ بارہا ترکوں سے بدترین شکست کھا چکاتھا، لہذا سابقہ تجربات کی روشنی میں قسطنطین کی مدد پر کوئی آمادہ نہیں ہوا اور یورپی ممالک نے اس موقعے پر جس سرد مَہری کا مظاہرہ کیا ناقابلِ بیان ہے۔ بہت معمولی سی مدد قسطنطین کو میسر آئی، البتہ امدادی ساز وسامان پر مشتمل ایک قابلِ ذکر قافلہ اہلِ جنیوا نے ارسال کیا، ان کے مشہور کماندار جان جسٹینانی کی قیادت میں دو جنگی جہاز اور سات سو منتخب سپاہی قسطنطنیہ کی مدد کو پہنچ گئے۔ جنیوا سے آیا ہوا کماندار غیرمعمولی صلاحیتوں کا حامل تھا اور اپنی ذات میں ایک فوج شمار ہوتاتھا۔ اس کی آمد سے بازنطینی افواج کو بہت حوصلہ ہوا اور قسطنطنیہ کی حفاظت کی ذمے داری جسٹینانی کے کاندھوں پر آگئی۔ اس بہادر کماندار نے ایسی مہارت سے عثمانی افواج کا مقابلہ کیا کہ محمد فاتح خود اس کی مدح سرائی کرنے لگا۔ بعض مورخین نے لکھا ہے کہ سلطان محمد فاتح کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ کاش یہ میری فوج کا کماندار ہوتا۔ بہر حال، عثمانی افواج نے طرح طرح سے فصیل عبور کرنے کی کوشش کی لیکن ناکامی ہوئی۔ سلطان نے ایک انوکھا کام یہ بھی کیا کہ لکڑیوں کا ایک متحرک قلعہ تیار کیا جو بہت بلند تھا اور بہت سارے سپاہی اس میں سوار ہوئے، پھر اس کو فصیل کے قریب لے جایا گیا۔ کچھ دیر تو یہ ترتیب کامیاب رہی اور عثمانی سپاہی فصیل پر چڑھنے میں کامیاب بھی ہوئے لیکن بازنطینی سپاہیوں نے انھیں آگے بڑھنے نہ دیا، بلکہ اس متحرک قلعے کو آگ لگادی۔ اسی دوران ایک مشہور بحری معرکہ پیش آیا، یوں تو فرانس، ہنگری، جرمنی اور پولینڈ جیسی عظیم یورپی ریاستوں نے انتہائی بے حِسی کا مظاہرہ کیا اور قسطنطنیہ کو عثمانیوں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا، لیکن یونان اور جنیوا کے جہاز امدادی سامان لے کر بحرِمرمرا سے باسفورس تک آگئے۔ امداد کے لیے انھیں زنجیر عبور کر کے گولڈن ہارن میں داخل ہونا تھا، لیکن راستے میں عثمانی کشتیاں حائل تھیں۔ دونوں میں مقابلہ ہوا، لیکن جنیوا کے جہاز عثمانی کشتیوں سے بڑے تھے، ان کی گولہ باری سے عثمانی کشتیاں منتشر ہوگئیں۔ امیر البحر باوجود بھرپور کوشش کے انھیں روکنے میں ناکام رہا۔ سلطان خشکی سے یہ سارا منظر دیکھ رہا تھا، عثمانی کشتیوں کی پسپائی نے سلطان کو بے قابو کر دیا اور وہ گھوڑا دوڑاتا ہوا سمندر میں اتر گیا۔ دیکھنے والوں کا بیان ہے کہ رسد کو قسطنطنیہ میں داخل ہوتا دیکھ کر سلطان کی حالت دیدنی تھی،بے چینی سے دائیں بائیں گھوڑا دوڑاتے ہوئے وہ اتنی دور سے امیر البحر کو پکار پکار کر ہدایات دے رہاتھا۔ اس معرکے میں شکست پر سلطان نے امیر البحر کو معزول کر دیا۔ اس دوران خشکی سے مسلسل حملے ہوتے رہے اور سلطان محمد فاتح قسطنطین کو پیغام ارسال کرتا رہا کہ شہر میرے حوالے کردو تو تمام شہری محفوظ رہیں گے اور کوئی نقصان نہیں ہوگا، لیکن بادشاہ نے شدت کے ساتھ انکار کر دیا۔ اب تک توپوں کی گولہ باری سے فصیل کو کوئی نقصان نہیں پہنچا تھا۔ اس مشکل موقعے پر سلطان نے ایسی تجویز پیش کی کہ آج تک انسانی عقل حیران ہے، اسے الہامی تجویز کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ سلطان نے یہ جان لیا کہ زنجیر کے باہر پانی گہرا ہے جہاں ترکی بیڑے کی کامیابی ممکن نہیں، بازنطینی جہاز وہاں فولاد کی طرح جمے ہوئے ہیں، عثمانی بحریہ زنجیر توڑنے کی متعدد کوششیں کر چکی تھی لیکن ہر بار ناکامی ہوئی تھی۔ آخری حل یہی تھا کہ کسی طرح کشتیوں کو گولڈن ہارن میں اتار دیا جائے تو وہاں پانی کم ہے اور بازنطینی جہازوں کے لیے آمد ورفت مشکل ہے، اسی طرح اس مقام پر نسبتاً تھوڑے سپاہی تعینات تھے کیونکہ زنجیر سے اس طرف کشتیوں کا آنا، ناممکن تھا۔ چنانچہ سلطان نے راتوں رات ایک ٹیلے پر چربی اور تیل مَلی ہوئی لکڑیاں بچھائیں اور تقریبا اسی کشتیاں گھوڑوں کے ذریعے خشکی پر چلا کر شاخِ زرّیں میں زنجیر کے پار اُتاردیں۔ یہ کام اس قدر حیرت انگیز تھا کہ بازنطینی افواج کے منھ کھلے کے کھلے رہ گئے۔ اس خبر نے شہر میں مایوسی پھیلادی اور ترکوں کے بارے میں قسطنطنیہ میں افواہیں گردش کرنے لگیں۔

قسطنطنیہ کا باقاعدہ محاصرہ ۶ /اپریل ۱۴۵۳ء کو شروع ہوا تھا۔ تقریبًا ۵۳ دنوں کے شدید مقابلے کے بعد ۲۸ مئی کو سلطان نے اندازہ لگایا کہ اب قسطنطنیہ میں مزیدسکت نہیں رہی، تو سلطان نے بہت قریب سے فصیلوں کا مشاہدہ کیا اور اگلے دن یعنی ۲۹ مئی کو آخری حملے کا اعلان کیا۔ سلطان جس رستے سے گزرتا، انھیں جہاد کی آیات سناتا اور انھیں یقین دلاتا کہ کل ہمیں ضرور فتح ملے گی۔ سلطان کے حکم پر یہ رات پورے لشکر نے عبادات و مناجات میں گزاری۔ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ اور دیگر مجاہدین وشہدا کے تذکرے ہوتے رہے۔ اس دن سلطان نے تین اہم کام کیے: قرب وجوار کی ریاستوں کو غیر جانب دار رہنے کے لیے خطوط ارسال کیے۔ اوّل اوّل شہر میں داخل ہونے والے سپاہیوں کے لیے خصوصی انعام کا اعلان کیا۔ اور بری اور بحری دونوں افواج کو آخری حملے کی اطلاع کے ساتھ یہ ہدایات دیں کہ عورتوں اور بچوں کو قتل نہیں کیا جائے گا، مقدسات پر حملہ نہیں کیا جائے گا اور قتلِ عام سے اجتناب کیا جائے گا۔

محاصرے کے آخری دن تین واقعات ایسےہوئے جو عثمانی افواج کے شہر کے داخلے میں معاون ثابت ہوئے۔ اولاً شاخِ زرّیں میں عثمانی غالب آنے لگے تو خشکی سے فوج کا ایک حصّہ یہاں منتقل کیا گیا، چنانچہ خشکی والی عثمانی افواج کے حملوں میں شدت آگئی۔ دوسرے، خشکی کی جانب دفاع کرتے ہوئے کماندار جسٹینانی کو ایک کاری وار لگا جس سے وہ جنگ سے دست بردار ہوگیا اور فوج میں میں مایوسی پھیل گئی۔ تیسرا واقعہ یہ ہوا کہ بازنطینی اپنے بادشاہ قسطنطین سے محروم ہو گئے جس کی تفصیل آگے ذکر کی جائے گی۔ بہر حال، اس صورتِ حال میں عثمانی سپاہیوں کا پلہ بھاری ہو گیا، پے درپے حملوں سے بعض جگہ شگاف پڑچکے تھے اور فصیل پر بازنطینی سپاہیوں کی تعداد کم ہو چکی تھی،اس کے باوجود قلعے میں داخلے کی ہر تدبیر الٹا دی گئی۔ ۲۹ مئی کی صبح سلطان نے لشکر کو کئی حصوں میں تقسیم کر دیا اور یہ حکم دیا کہ اگر ایک حصہ تھک جائےتو تازہ دم سپاہ پر مشتمل دوسرا گروہ میدان سنبھال لے۔ ابتدائی طورپر جو بھی عثمانی سپاہی داخل ہوا اسےفورًا شہید کردیا گیا، لیکن اسی دوران ایک سپاہی نے فصیل پر عثمانی پرچم لہرا دیا۔ سلطان کے لشکر کے کئی حصّے میدان سے پیچھے تھے۔ جب ایک حصّہ تھک جاتا تو نیا اور تازہ دم لشکر بازنطینی سپاہیوں پر ٹوٹ پڑتا، ان کے حوصلے پست تھے، اور مسلسل لڑتے لڑتے تھک چکے تھے، نیز انھیں ہر محاذ پر تازہ دم اور جرأت وجذبے سے بھر پور فوج کا سامنا تھا، اس کے باوجود ’’مقابلہ تو دلِ ناتواں نے خوب کیا‘‘۔بازنطینی سپاہی بہت بے جگری سے لڑے اور انھوں نے کلیسا سے وفاداری کا حق ادا کردیا۔انہی حملوں کے دوران جسٹینانی نے زخم کھایا اور راہِ فرار اختیار کی۔عثمانیوں کی ان کامیابیوں کے پیشِ نظر قسطنطین کو تجویز دی گئی کہ وہ شہر چھوڑ دے اور یورپ جاکر مدد طلب کرے، لیکن قسطنطین نے منظور نہیں کیا، آیا صوفیا میں داخل ہوکر عبادت اور دعا کی، اہلِ خانہ اور وزرا سے الوداعی ملاقات کی اور پھر لشکر(جو جسٹینانی کے جانے سے نا امید ہو گیا تھا) کی قیادت اپنے ہاتھ میں لے لی اور ایک سپاہی کی طرح لڑتا ہوا مارا گیا۔ قسطنطین نے فرار ہونے پر لڑتے ہوئےجان دینے کو ترجیح دی۔ عثمانی حملوں میں شدت آتی گئی۔ کچھ دیر بعد سلطان نے سپاہیوں کو پیچھے بلایا۔ بازنطینی سمجھے کہ عثمانی آرام کی غرض سے پیچھے ہوئے ہیں، لیکن اسی دوران توپوں نے شعلے برسانے شروع کردیے، ایک بار پھر عثمانیوں کو متعدد سیڑھیوں کے ساتھ فصیل کی طرف بھیجاگیا لیکن اس مشکل وقت میں بھی بازنطینی سپاہ کی جرات بے مثال تھی۔ دو پہر تک ایک عثمانی سپاہی بھی شہر کے اندر داخل نہ ہو سکا۔ دوپہر کے قریب سلطان کے ذاتی محافظ دستے ’ینی چری‘ کے نوجوان ایک زور دار حملے کے ساتھ شہر میں داخل ہوگئے، اگرچہ ابتدائی داخل ہونے والے بہت سےسپاہی شہید ہوگئے لیکن وہ اپنا علم فصیل پر لہرانے میں کامیاب ہوگئے۔بس پھر تو عثمانی سپاہی سیلاب کی مانند شہر میں داخل ہوتے چلے گئے۔ شام کے قریب سلطان محمد فاتح قسطنطنیہ میں داخل ہوئے اور آیا صوفیا پہنچ کر اذان کا حکم دیا۔ سلطان نے عام معافی کا اعلان کیا اور پادریوں سے ملاقات کر کے انھیں اطمینان دلایا کہ وہ اپنے عہدوں پر اسی شان سے رہ سکتے ہیں، اپنی عدالت قائم کر سکتے ہیں، انھیں اپنے مذہب پر عمل کی مکمل اجازت ہے۔ اس اعلان سے بہت سے لوگ جو پہلے شہر چھوڑ چکے تھے وہ بھی واپس آگئے۔ سلطان نے آیا صوفیا کو مسجد میں تبدیل کیا۔ قسطنطنیہ کو دار الخلافہ قرار دیا اور سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی قبر پر حاضری دے کر وہاں مسجد اور مزار تعمیر کرنے کا حکم دیا۔ سلطان جب شاہی محل پہنچےاور اس کی ویرانی اور بے رونقی پر نظر ڈالی تو بے اختیار یہ شعر ان کی زبان پر جاری ہوگیا:

پردہ داری می کندبر قصرِ کسریٰ عنکبوت
چُغدمی نوبت زندبرگنبدِ افراسیاب

کسریٰ کے محل پر مکڑی پردہ ڈال رہی ہے اور افرا سیاب (توران کےظالم بادشاہ) کے گنبد پر الو نوبت بجا رہا ہے۔

سلطان نے قسطنطنیہ میں اسپتال، مدرسے، مساجد، مہمان خانے اور بازار قائم کیے اور اس حسین شہر کے حسن کو چار چاند لگا دیے۔ قسطنطنیہ (موجودہ استنبول) کا مشہور گرینڈ بازار سلطان محمد خان فاتح کا قائم کردہ ہے۔سلطان نے قسطنطنیہ محض اکیس سال کی عمر میں فتح کیا۔فتح کے بعد سلطان محمد خان کو فاتح کا لقب دیا گیا۔

سلطان نے محض قسطنطنیہ کی فتح پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ یونان، سرویا، بوسنیا، موریا، کرمانیہ، طرابزون اور سینوپ جیسے اہم ممالک فتح کیے اور عثمانی سلطنت کو وسعت دی۔ سلطان نے وینس کے زیرِ تسلط بہت سے جزائر بھی فتح کیے۔ سلطان کا ایک اور بڑا کارنامہ کریمیا کی فتح ہے، ’’کافہ‘‘ شہر اپنی طاقت اور محلِ وُقوع کے اعتبار سے قسطنطنیۂ کوچک (چھوٹا قسطنطنیہ) کہلاتاتھا۔ پہلے اس پر حملہ کیا گیا، اس حملے میں باقاعدہ بحری بیڑے کو استعمال کیا گیا اور چالیس ہزار فوج کے ساتھ کافہ اور پھر مکمل کریمیا سلطنتِ عثمانیہ کے زیرِنگیں آگیا۔ ایک اہم کارنامہ ولاچیا کی فتح ہے، جنگِ کوسووَہ کے بعد ولاچیا عثمانیوں کے تابع تھا لیکن وِلاد چہارم نے بغاوت کردی اور عثمانی تاجرں کو بے دردی سے قتل کردیا۔ یہ شخص حد درجے ظالم تھا اور غیرملکی ہی نہیں اس کے اپنے شہری بھی اس کے مظالم سے تنگ تھے۔ اسے تعذیب کے نت نئے انداز سوجھتےتھے، انسانوں کے جسموں میں میخیں ٹھونک کر قتل کرنا اس کا محبوب مشغلہ تھا۔ اسے ’’ڈراکول‘‘ یعنی شیطان کا لقب دیا گیا تھا۔ سلطان نے اسے تنبیہ کی لیکن باز نہ آیا اور عثمانی علاقوں میں لوٹ مار شروع کردی۔ بلغاریہ سے پچیس ہزار عثمانی شہری گرفتار کیے اور سب کو قتل کردیا۔ سلطان نے ایک وفد اس کے پاس بھیجا کہ گرفتار شدہ گان کا حال معلوم ہو، لیکن اس نے شاہی وفد کے سروں میں کیل ٹھونک کر انھیں ہلاک کر دیا۔ اب محمد خان فاتح کے لیے ولاچیا پر لشکر کشی لازم ہوگئی، چنانچہ سلطان بذاتِ خود ڈیڑھ لاکھ کے لشکرِ جرار کے ساتھ حملہ آور ہوا، ولاد نے راہِ فرار اختیار کی اور ولاچیا سلطان کےتسلط میں آگیا۔ اس کے بعد البانیہ اور ہرزیگووینا پر عثمانی افواج نے قبضہ کیا۔ سلطان کا اگلا ہدف وینس تھا اور یہ بہت بڑا ہدف تھا۔ عثمانیوں کی یہ جنگ تقریباً سولہ سال جاری رہی اور بالآخر شاہِ وینس صلح پر آمادہ ہوگیا۔ اس کے بعد عثمانی افواج اٹلی کے دروازے یعنی اوٹرانٹو میں داخل ہوئیں، یہ جنگ بھی عثمانیوں کے لیے بہت صبر آزما تھی۔ بحری اور بری دونوں افواج کے زبردست حملوں کے نتیجے میں ۱۴۸۰ء میں اوٹرانٹو بھی فتح ہوگیا۔ ابھی سلطان کے پیشِ نظر کوئی نیا محاذ تھا اور افواج کو تیار کیا جارہاتھا کہ سلطان کو زہر دے دیا گیا۔ سلطان محمد خان فاتح اکیاون سال کی عمر میں ۱۴۸۱ء میں شہید ہوئے اور اسی مسجد میں دفن ہوئے جو انھوں نے خود قسطنطنیہ میں بنوائی تھی۔ یہ مسجد سلطان محمدخان فاتح کے نام سے منسوب ہے۔ سلطان کی کامیابی کا راز ان کی للہیت اور شاندار جنگی حکمتِ عملی تھی۔ سلطان کی خوبی تھی کہ وہ اپنے منصوبے کسی پر ظاہر نہیں کرتے تھے، ان کا ایک جملہ نقل کیا جاتاہے: ’’اگر مجھے پتا چل جائےکہ میری داڑھی کا ایک بھی بال میرے منصوبے سے واقف ہو گیاہے تو میں اسے اکھاڑ پھینکوں‘‘۔ سلطان علم دوست اور ادب پرور شخص تھے۔ سلطان ایک عمدہ شاعرتھے اور ’’عونی‘‘ تخلص کرتے تھے۔ سلطان نے ۲۴ مدارس،۱۲ کاروان سرائے، ۴۰ پانی کی سبیلیں؛ استنبول، بورصا، ادرنہ اور دیگر شہروں میں قائم کیں۔ متعدد فلاحی اور عسکری ادارے قائم کیے، مسجد ایوب سلطان، مسجد سلطان محمد فاتح، قصر ِقدیم جو آج استنبول یونی ورسٹی کہلاتی ہے، قصرِ توپ کاپی جہاں آج میوزیم قائم ہے، یہ تمام عمارات سلطان کی قائم کردہ ہیں۔ قصرِتوپ کاپی ’’شاہی توپ‘‘ کی یادگار بھی ہےکیونکہ محاصرے کے دوران شاہی توپ عین اس مقام کی سیدھ میں تھی جہاں آج توپ کاپی واقع ہے۔

جاری ہے۔

کتابیات
السلاطین العثمانیون، راشد کوندوغدو،الناشر: دار الرموز للنشر،إسطنبول،۲۰۱۸ء
آلبوم پادشاہانِ عثمانی،مترجم: میلاد سلمانی،ناشر: انتشاراتِ قَقْ نُوس،استنبول،۲۰۱۵ء
تاریخِ سلطنتِ عثمانیہ، ڈاکٹر محمد عزیر، ناشر: کتاب میلہ، ۲۰۱۸ء
سلطنتِ عثمانیہ، ڈاکٹر علی محمد الصلابی،مترجم: علامہ محمد ظفر اقبال، ضیاء القرآن پبلی کیشنز لاہور، جون ۲۰۲۰ء

Constantinople Map

لرننگ پورٹل