لاگ ان
اتوار 17 ذوالحجہ 1445 بہ مطابق 23 جون 2024
لاگ ان
اتوار 17 ذوالحجہ 1445 بہ مطابق 23 جون 2024
لاگ ان / رجسٹر
اتوار 17 ذوالحجہ 1445 بہ مطابق 23 جون 2024
اتوار 17 ذوالحجہ 1445 بہ مطابق 23 جون 2024

مولانا محمد اقبال
رکن شعبۂٔ تحقیق و تصنیف

خرچ کرنے میں اعتدال

سورۃ الفرقان، آیت: 67

﴿وَالَّذِینَ إِذَا أَنفَقُوا لَم یُسرِفُوا وَلَم یَقتُرُوا وَکَانَ بَینَ ذٰلِکَ قَوَامًا﴾

’’اور جو خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں، نہ تنگی کرتے ہیں، بلکہ ان کا طریقہ اس (افراط وتفریط) کے درمیان اعتدال کا ہے‘‘۔

تفسیر وتوضیح

سورۂ فرقان کی زیرِ مطالعہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے خالص اور منتخب بندوں کے وہ اوصاف بیان فرمائے ہیں،جو انھیں دیگر بندوں سے ممتاز کرتے اور انھیں عباد الرحمن کی صف میں شامل کرتے ہیں۔ ان بلند اوصاف میں سے چار کا ہم ماقبل آیات کے ضمن میں مطالعہ کر چکے ہیں، جن کا خلاصہ یہ ہے کہ بلند اوصاف کے حامل بندے وہ ہیں جو تکبر اور بڑائی سے بچتے ہیں، جہلا اور کم عقل لوگوں کے ساتھ الجھنے سے دور رہتے ہیں، عبادت کا اہتمام کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ یہاں آیتِ مذکورہ میں انہی اوصاف میں سے پانچواں وصف ذکر کیا گیا ہے، کہ اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ اپنے اموال خرچ کرنے میں اعتدال وتوسط سے کام لیتے ہیں۔ اسلامی تعلیمات میں جہاں زندگی کے دیگر شعبوں سے متعلق رہنمائی کی گئی ہے، وہاں اپنا مال، اپنی کمائی خرچ کرنےکے بارے میں بھی بہترین اصولوں سے نوازا گیا ہے۔ جہاں اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنے اموال میں سے اپنی ضروریات اور اپنے اہل وعیال پر خرچ کرنے کا حکم دیا ہے، وہیں ہمیں یہ حکم بھی دیا ہے کہ اللہ کے دیے ہوئے رزق کو خرچ کرنے میں اعتدال کی راہ اختیار کی جائے۔ چنانچہ ارشاد ربانی ہے:﴿وَالَّذِینَ إِذَا أَنفَقُوا لَم یُسرِفُوا وَلَم یَقتُرُوا وَکَانَ بَینَ ذٰلِکَ قَوَامًا﴾ ’’اور جو خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں، نہ تنگی کرتے ہیں، بلکہ ان کا طریقہ اس (افراط وتفریط) کے درمیان اعتدال کا طریقہ ہے‘‘۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے یہ بندے اپنے اموال کے خرچ کرنے میں اسراف نہیں کرتے، بلکہ اپنی ضروریات میں خرچ کرتے ہیں اور نہ ہی بخل سے کام لیتے ہیں کہ اپنے اہل وعیال کے حقوق کی ادائی میں کوتاہی کے مرتکب ہوں، بلکہ اس معاملے میں نہایت اعتدال اور میانہ روی اختیار کرتے ہیں۔

اسراف، قتر اور قوام کا مفہوم

آیت مبارکہ میں؛ اسراف، قَتر اور قوام کی اصطلاحات استعمال فرمائی گئی ہیں کہ اللہ کے نیک بندے اپنے اموال کے خرچ کرنے میں اسراف یعنی فضول خرچی اور قتر یعنی بخل سے بچتے ہیں اور اس معاملے میں قوام یعنی اعتدال پر گامزن رہتے ہیں۔ علامہ زمخشری رحمہ اللہ اسراف اور قتر کی شرح میں فرماتے ہیں:قُرِئَ ﴿يَقْتُرُوا﴾ بِكَسْرِ التَّاءِ وَضَمِّها. وَيَقْتُرُوا، بِتَخْفِيْفِ التّاءِ وتَشْدِيدِها. والقتر والإقتار والتقتير: التّضْيِيقُ الذي هو نقيض الإسراف. والإسراف: مُجَاوَزَةُ الْحَدِّ في النفقة. (الكشاف عن حقائق غوامض التنزيل، ج: ۳، ص: ۲۹۲) ’’﴿يَقْتُرُو﴾ ’’تا‘‘ کے کسرہ اور ضمہ کے ساتھ، اسی طرح ’’تا‘‘ کی تخفیف اور تشدید کے ساتھ دونوں طرح پڑھا گیا ہے۔چنانچہ ’’قتر‘‘، ’’اقتار‘‘ اور ’’تقتیر‘‘ کا مفہوم ہے: تنگی، بخل جو اسراف کی نقیض ہے، یعنی عکس ہے۔ جبکہ اسراف کہتے ہیں: خرچ کرنے میں حد سے تجاوز کرنا ‘‘۔جبکہ قوام کہتے ہیں وسط واعتدال کو، تفسیر الوسیط میں ہے:وقَوَامًا: بالفتح وسطًا وعدلًا، وسمى قوامًا، لاستقامة الطرفين وتعادلهما، وقرىء: قواما بكسر القاف، فقيل: هما لغتان بمعنى واحد، وقيل: القِوام بالكسر: ما يُقام به الشيءُ، ومعناه هُنا ما تُقام به الحاجةُ لا يَفْضُلُ عنها ولا يَنْقُصُ. (التفسير الوسيط للقرآن الكريم، ج:۷، ص:۱۵۴۲)’’قوام ’ق‘ کے فتحہ کے ساتھ وسط واعتدال کو کہتے ہیں، اسے قوام اس لیے کہتے ہیں کہ یہ دو انتہاوں کے درمیان واقع ہوتا ہے اور یہ دونوں اطراف کے درمیان توازن قائم کرتا ہے۔ قوام ’ق‘ کے کسرے کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے، کسرے کے ساتھ اس کے دو معنیٰ بیان کیے گئے ہیں: پہلا معنیٰ وہی ہے جو فتحہ کے ساتھ ہے، جبکہ دوسرا معنی یہ بیان کیا گیا کہ جو کسی چیز کا قائم مقام بن سکے۔ اس کا مفہوم یہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ انفاق جو حاجت کے لیے کافی ہو جائے، نہ اس سے زیادہ ہو اور نہ کم ہو‘‘۔

اسراف اور بخل کی تحدید

اسراف کی تحدید میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں، چنانچہ تفسیر الوسیط میں بعض حضرات کا قول یہ بیان کیا گیا ہے کہ:أنّ الإِنفاقَ في طاعةِ اللهِ ليس سَرَفًا مَهْما بَلَغَ، وَلِهَذا تَرَكَ رسولُ اللهِ ﷺ سَيِّدَنا أَبا بكرٍ يَتَصَدَّقُ بِمالِه كُلّه، وأَقَرَّه عليه. (التفسير الوسيط للقرآن الكريم، ج:۷، ص:۱۵۴۱) ’’اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا اسراف نہیں اگرچہ زیادہ ہی ہو، یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو اجازت دی کہ وہ اپنا سارا مال اللہ کی راہ میں خرچ کریں‘‘۔ چنانچہ امام مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں:لو أَنْفَقْتَ مِثْلَ أَبي قُبَيْسٍ ذَهَبا في طاعةِ الله ما كان سَرَفا، ولو أنفقتَ صاعا في معصيةِ الله كان سرَفا. (جامع البيان في تأويل القرآن، ج:۱۹، ص:۲۹۹) ’’ اگر آپ ابو قبیس پہاڑ کے بقدر سونا اللہ کی راہ میں خرچ کریں تو یہ اسراف نہیں ہے اور اگر گناہ کے کام میں ایک صاع بھی خرچ کریں تو یہ اسراف ہے‘‘۔قاضی بیضاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:وقيل الإِسرافُ هو الإِنفاقُ في المحارمِ والتقتيرُ منعُ الواجبِ(أنوار التنزيل وأسرار التأويل، ج:۴، ص: ۱۳۰) ’’یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسراف نام ہے حرام اور معاصی میں مال خرچ کرنے کا، اور جہاں مال خرچ کرنا ضروری ہو وہاں خرچ سے رُکا جائے تو یہ بخل ہے‘‘۔

قاضی بیضاوی رحمہ اللہ کے اس قول سے ایک تو بخل کی تعریف واضح ہوئی کہ اپنی جائز ضروریات یا حقوقِ واجبہ میں خرچ نہ کرنا بخل ہے۔ جب کہ دوسری اہم بات اس قول سے یہ معلوم ہوئی کہ اسراف گناہ میں خرچ کرنے سے لازم آتا ہے چاہے خرچ کردہ مقدار معمولی ہی کیوں نہ ہو۔اس توجیہہ کا ایک قرینہ آیت باری تعالیٰ ہے:﴿وَاٰتِ ذَاالقُربٰی حَقَّه وَالمِسکِینَ وَابنَ السَّبِیلِ وَلَاتُبَذِّر تَبذِیرًا إِنَّ المُبَذِّرِینَ کَانُوا إِخوَانَ الشَّیٰطِینِ وَکَانَ الشَّیطٰنُ لِرَبِّه کَفُورًا﴾(سورۃ الاسراء، آیت:۲۶۔۲۷) ’’اور رشتے دار کو اس کا حق دو، اور مسکین اور مسافر کو (ان کا حق دو) اور اپنے مال کو بےہودہ کاموں میں نہ اڑاؤ۔ یقین جانو کہ جو لوگ بےہودہ کاموں میں مال اڑاتے ہیں، وہ شیطان کے بھائی ہیں، اور شیطان اپنے پروردگار کا بڑا ناشکرا ہے‘‘۔یہاں مساکین پر خرچ کرنے کے مقابل تبذیر کا ذکر کیا گیا تو اس سے واضح ہوتا ہے کہ راہِ خدا میں خرچ ہونے والا مال اسراف کے زمرے میں نہیں آتا اگرچہ بے تحاشا ہو۔البتہ دنیاوی کاموں میں ضرورت سے زیادہ یا معاصی میں خرچ ہونے والا مال اسراف کے زمرے میں آتا ہے۔

یہ تو اسراف کی تحدید کے بارے میں اہلِ علم کی ایک رائے ہے جب کہ اہلِ علم کی ایک جماعت کی رائے اس کے برعکس بھی ہے۔ جس کی رو سے اگر دینی امور میں بھی حد سے زیادہ خرچ کریں تو یہ اسراف میں شامل ہو جائے گا: الإِسرافُ هو الإِفراطُ ومجاوزةُ الحدِّ في الإِنفاقِ دُنْيا ودِينًا. (التفسير الوسيط للقرآن الكريم، ج:۷، ص:۱۵۴۱) ’’اسراف؛ مال خرچ کرنے میں افراط اور حد سے تجاوز کو کہتے ہیں خواہ وہ دنیوی مقاصد میں خرچ ہو یا دینی میں ہو‘‘۔ اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآنِ کریم میں دوسری جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:﴿وَلَا تَجعَل یَدَکَ مَغلُولَةً إِلٰی عُنُقِکَ وَلَاتَبسُطهَا کُلَّ البَسطِ فَتَقعُدَ مَلُومًا مَّحسُورًا﴾ (سورۃ الاسراء، آیت: 29) ’’اور نہ تو (ایسے کنجوس بنو کہ) اپنے ہاتھ کو گردن سے باندھ کر رکھو، اور نہ (ایسے فضول خرچ کہ) ہاتھ کو بالکل ہی کھلا چھوڑ دو، جس کے نتیجے میں تمھیں قابل ملامت اور قلاش ہو کر بیٹھنا پڑے‘‘۔ اسی طرح رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں:«إِنَّكَ أَنْ تَذَرَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ، خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَذَرَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ» (صحیح بخاری، حدیث:۱۲۹۵) ’’اگر تم اپنے ورثہ کو غنی چھوڑ دو تو یہ اس سے بہتر ہے کہ تم انھیں فقیر بنا کر چھوڑ و کہ وہ دستِ سوال دراز کرنے پر مجبور ہوں‘‘۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ مال خرچ کرنے میں میانہ روی اختیار کرنا مطلق ہے، خواہ دینی مقصد میں خرچ ہو یا دنیوی مقصد میں۔یعنی ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ مال و دولت کے بارے میں احساسِ ذمے داری کا ثبوت دے اور اسے بے جا اور غیر ضروری کاموں میں خرچ نہ کرےاور اللہ کی راہ میں خرچ کرتے وقت بھی اس بات کا خیال رکھے کہ زیادہ مال خرچ کرنے سے کہیں دیگر حقوق واجبہ کی ادائی میں کوتاہی کا خطرہ تو نہیں پیدا ہو رہا یا خود قلاش ہوکر مانگنے کی نوبت تو نہیں آئے گی! چونکہ اسلام ہر شعبۂ زندگی کی طرح مال خرچ کرنے میں بھی میانہ روی کا درس دیتا ہے، اس لیے یہاں بھی یہ ضروری قرار پاتا ہے کہ آدمی اس کا خیال رکھے کہ سارا مال خرچ کر کے مشکل میں نہ خود مبتلا ہو اور نہ ہی دوسرے متعلقین کو مبتلا کرے۔

ان دونوں اقوال میں اس حد تک اتفاق ہے کہ جو مال معاصی میں خرچ ہو، وہ اسراف میں آتا ہے، اور جو مال امورِ واجبہ کی ادائی سے روک دیا جائے وہ بخل میں آتا ہے اور جو اللہ تعالیٰ کی مرضی کے موافق خرچ ہو وہ قوام ہے۔ البتہ اگر کوئی شخص اپنا سارا مال راہِ خدا میں خرچ کرتا ہے تو کیا یہ اسراف کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں اس نکتے پر اختلاف پایا جاتا ہے جس کا بیان اوپر ہو چکا۔ان دونوں آرا میں ایک تطبیق اور اختلاف کو رفع کرنے کی ایک صورت یہ ہے کہ پہلی رائے یعنی راہِ خدا میں خرچ کرنا اسراف نہیں ہے چاہے کل مال دے دیا جائے۔ یہ خواص اور اخص الخواص کے لیے ہے۔ہمارے سامنے اس کی مثال ذاتِ رسول اللہ ﷺ میں بھی پائی جاتی ہے اور ہمارے سامنے سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی مثال بھی موجود ہے۔ عامۃ الناس کے لیے دوسری رائے مناسب ہے کہ اللہ کے راستے میں بھی زیادہ خرچ کرنا اسراف میں داخل ہے اور انھیں چاہیے کہ اللہ کے راستے میں بھی اپنے حقوقِ واجبہ کی رعایت کرتے ہوئے اعتدال کے ساتھ خرچ کریں۔ دینی کاموں میں مال خرچ کرنے میں اس حد تک تجاوز نہ کریں کہ حقوقِ واجبہ کی ادائی میں کسی مشکل کا سامنا کرنا پڑے۔ علامہ زحیلی رحمہ اللہ نے اس کی بہترین شرح کی ہے، چنانچہ تحریر فرماتے ہیں:والمرادُ من النَفَقَةِ نَفَقَةُ الطاعاتِ في المُباحاتِ، فهذِه يُطالَبُ فيها الإنسانُ ألّا يُفْرِطَ فيها حتى يُضِيعَ حقا آخرَ أو عِيالا، وألا يُضيقَ أيضا ويَقْتُرَ، حتى يَجِيعَ العيالُ، ويُفْرِطَ في الشُّحِّ .والحسنُ في ذلك هُو القَوامُ، أي العدلُ، والقوامُ في كلِّ واحدٍ بحَسْبِ حاله وعِياله، وصَبْرِه وجَلَدِه على الكسْبِ، وخيرُ الأمورِ أوساطُها، وهذهِ الوَسْطِيَّةُ خيرٌ لِلإنسانِ في دينِه وصحتِه ودنياه وآخرتِه.أمّا النَفَقَةُ في معصيةِ اللهِ فهُوَ محظورٌ حَظَرَتْه الشريعةُ قليلا كان أو كثيرا، وكذلك التَّعَدّي على مالِ الغيرِ، هُو حرامٌ أيضا. (التفسير المنير في العقيدة والشريعة والمنهج، ج:۱۹، ص: ۱۱۵) ’’یہاں انفاق سے مراد مباحات میں مال خرچ کرنا ہے۔ اس میں انسان سے مطالبہ ہے کہ وہ اپنے اموال خرچ کرنے میں اِفراط سے کام نہ لے کہ دیگر لوگوں اور اہل وعیال کے حقوق ضائع ہوں، اور نہ ہی اتنی تنگی سے کام لے کہ معاملہ بخل کی حد تک چلا جائے اور اہل وعیال بھوکے رہیں۔ اس معاملے میں قَوام یعنی اعتدال بہتر ہے، قوام ہر شخص کے حال اور اس کے اہل وعیال اور اس کےصبر و برداشت کے حساب سے اس کی مالی وسعت پر منحصر ہے۔ تمام امور میں میانہ روی بہتر ہے اور یہ میانہ روی انسان کے لیے اس کے دینی معاملات، اس کی صحت،غرض اس کی دنیا و آخرت کے تمام معاملات میں بہتر ہے۔ جہاں تک معاصی میں خرچ کرنے کا معاملہ ہے تو یہ شریعت کی رو سے ویسے ہی ممنوع ہے، خواہ کم ہو یا زیادہ، اور اسی طرح غیر کے مال میں تعدی وتصرف کرنا حرام ہے‘‘۔

لہذا اس گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک بندۂ مومن کی خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے اموال کو خرچ کرنے میں میانہ روی اختیار کرتا ہے، خواہ اپنے اوپراور اپنے اہل وعیال پر خرچ کرنا ہو یا خیر کے دیگر کاموں میں صدقہ کرنا ہو، مثلاً، فقرا ومساکین پر صدقہ کرنا، مصالحِ عامہ میں صرف کرنا ہو۔ چنانچہ یہاں بہترین طریقہ اعتدال وتوازن کا راستہ ہے، نہ اسراف سے کام لے کہ حقوقِ واجبہ کی ادائی میں مشکلات کا سامنا کرناپڑ جائے اور نہ ہی بخل و کنجوسی سے کام لے کہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمت کا اظہار ہی نہ ہو،کیونکہ اس سے بھی منع کر دیا گیا ہے، چنانچہ حدیث میں آتا ہے: «إذَا أنْعَمَ اللهُ عَلَى عبْدٍ نِعْمَةً أَحَبَّ أَنْ يَرَى أَثَرَهَا عَلَيْهِ». (جامع البيان في تأويل القرآن، ج:۱۹، ص:۳۰۱) ’’جب اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے پر مال کے ذریعے انعام کیا ہے تو وہ یہ بھی پسند کرتا ہے کہ اس کے مال کا اثر اس کے احوال سے ظاہر ہو‘‘۔ اسی طرح حرام ؛ عیاشی، رشوت، دنیاوی شہرت جیسے کاموں میں خرچ نہ ہو۔ لہذا جس طرح اسلامی تعلیمات میں ہمارے لیے ہر شعبۂ زندگی میں رہنمائی کی گئی ہے اسی طرح مال خرچ کرنے میں بھی اعتدال اور میانہ روی کا درس ملتا ہے۔اس سے انسان حقوق کی ادائی میں اور اپنے معاملات چلانے میں مشکل سے بچ سکتا ہے اور یہی ہر عقل مند آدمی کا طرز عمل ہوتا ہے کہ وہ ہمیشہ اپنی دولت جائز ضروریات میں ہی صرف کرتا ہے۔ چنانچہ حدیثِ مبارکہ میں آتا ہے:«مِنْ فِقْهِ الرَّجُلِ رِفْقُهُ فِي مَعِيشَتِهِ» (مسند احمد، حدیث: 21695) ’’آدمی کے سمجھ دار ہونے کی دلیل یہ ہے کہ وہ اپنے اخراجات میں میانہ روی اختیار کرے‘‘۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان ہدایات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین

لرننگ پورٹل