لاگ ان
جمعہ 15 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 09 دسمبر 2022
لاگ ان
جمعہ 15 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 09 دسمبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 15 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 09 دسمبر 2022
جمعہ 15 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 09 دسمبر 2022

سفرنامہ: مفتی اویس پاشا قرنی
ضبط و ترتیب: مولانا محمد اقبال

سفرِ افغانستان کی مختصر روداد

افغانستان تین سپر پاورز کا قبرستان !

افغانستان کی تاریخ رہی ہے کہ یہاں کسی طالع آزما کو آرام سے بیٹھنے کا موقع نہیں ملا، افغان قوم نے کبھی کسی باہر سے آئے ہوئے دشمن کو اپنے اوپر مسلط نہیں ہونے دیا۔ اگر وقتی طور پر کسی کو کامیابی ملی بھی تو بالآخر اسے افغان قوم کے سامنے ڈھیر ہونا پڑا۔ آپ افغانستان کی تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو یہاں اس سر زمین پر وقت کی تین سپر پاورز؛ سب سے پہلے ناقابلِ شکست برطانیہ، پھر سُرخ ریچھ سوویت یونین اور آخر میں نیو ولڈ آرڈر کے ٹھیکے دار امریکہ کو شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے باوجود کہ یہاں کے لوگوں کے پاس معیاری زندگی گزارنے کے لیے بنیادی وسائل بھی نہیں ہیں، چہ جائے کہ جدید جنگی اور مادی وسائل کی دستیابی ہو، اس کا تو یہاں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن پھر بھی یہ ڈٹے رہے اور وقت کے فرعونوں کو تاریخی سبق سکھا یا۔

برٹش ایمپائر کی ہزیمت

انیسویں صدی میں سلطنتِ برطانیہ جو اس عہد میں سپر پاور تھی، اس نے افغانستان کی سرزمین پر حملہ کیا اور اسے فتح کرنے کی کوشش کی، مگر ناکامی سے دوچار ہوئی۔ سلطنتِ برطانیہ نے افغانستان پر۱۸۳۹ء تا۱۹۱۹ء تین مرتبہ حملہ کیا اوران میں تینوں بار ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ سب سے پہلے ۱۸۳۹ء کی پہلی اینگلو افغان جنگ میں برطانیہ نے کابل پر قبضہ کر لیا۔ مگر دلیر افغان قبائل نے دنیا کی طاقتور ترین فوج کو انتہائی معمولی ہتھیاروں سے تباہ کر دیا اور برٹش فوج کو ذلت آمیز شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ تین سال کی لڑائی میں برٹش فوج کا سخت نقصان ہوا اور افغان قبائل نے حملہ آور فوج کو بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ جب ۶ جنوری۱۸۴۲ء کو سولہ ہزار فوجی برٹش کیمپ سے جلال آباد روانہ ہوئے تو واپسی میں ان ہزاروں میں سے صرف ایک برطانوی شہری زندہ بچ کر واپس آیا۔ یہ برطانیہ کے لیے ایک ایسا حادثہ تھا کہ جس نے برصغیر میں برطانوی راج اوراس کی توسیع پسندانہ پالیسی کو سخت نقصان پہنچایا۔ اس حادثے نے اس تصور کا خاتمہ کر دیا کہ انگریز ناقابلِ تسخیر ہیں۔ اس حملے کے بعد پھر چار دہائیوں تک اسے افغان سر زمین پر حملہ کرنے کی جُرْاَت نہیں ہوئی۔ چار دہائیوں کے بعد برطانیہ نے ایک بار پھر افغانستان پر قبضے کی کوشش کی اور ۱۸۷۸ء سے ۱۸۸۰ء کے درمیان دوسری اینگلو افغان جنگ کے نتیجے میں اس بار اسے کچھ کامیابی ملی۔ اس کے بعد سلطنتِ برطانیہ نے ایک نیا افغان امیر منتخب کر کے اپنی فوجیں ملک سے واپس بلا لیں۔ لیکن ۱۹۱۹ءمیں جب اس امیر نے خود کو برطانیہ سے آزاد قرار دیا تو تیسری اینگلو افغان جنگ شروع ہوئی۔ چار ماہ کی جنگ کے بعد برطانیہ نے بوجوہ افغانستان کو ۱۹۱۹ء میں آزاد قرار دے دیا۔ اس کے بعد ۱۹۷۹ء میں سوویت یونین جو وقت کی سب سے بڑی طاقت تھی، نے افغانستان پر حملہ کیا۔ اس نے وہاں ۱۹۷۸ء میں بغاوت کے ذریعے قائم کی گئی کمیونسٹ حکومت کو گرنے سے بچانے اور اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لیے حملہ کیا۔

سوویت یونین کی شکست و ریخت

افغان معاشرہ ایک اسلامی اور قبائلی معاشرہ ہے، بعض ناعاقبت اندیش حکمرانوں نے جو یورپ کی تہذیب سے متاثر تھے، یہاں جدت پسندی اور نام نہاد روشن خیالی کے نام پر اسلامی اور افغان قبائلی روایات کے برعکس اقدامات کیے جن میں بے حیائی کے فروغ کے لیے خواتین کی آزادی اور مغربی رسم ورواج کی پذیرائی جیسے اقدامات شامل تھے۔ روشن خیال حکمرانوں اور نام نہاد اصلاح پسندوں کی ان کوششوں نے مذہبی اور قبائلی رہنماؤں کو احتجاج پر مجبور کر دیا، جس کا نتیجہ ملک میں خانہ جنگی کی صورت میں نکلا۔ یہ کشیدگی کئی دہائیوں تک رہی اور بالآخر فوجی بغاوت ہوئی۔ اس فوجی بغاوت کے نتیجے میں کمیونسٹ حکومت وجود میں آئی جس سے حالات مزید کشیدہ ہوئے اور اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہو ئے ۱۹۷۹ء میں سوویت یونین نے افغانستان پر حملہ کر دیا تاکہ کمیونسٹ حکومت کو برقرار رکھنے میں کامیابی حاصل کی جا سکے۔ کمیونزم جو اسلامی اور افغان روایات کے خلاف ایک نظام ہے، اس کے خلاف جہاد کا آغاز ہوا اور کئی جہادی تنظیموں نے سوویت یونین کی مخالفت کی اور ان کے خلاف بڑے پیمانے پر جنگ کا آغاز کیا۔ سوویت یونین کے خلاف اس جنگ میں مجاہدین نےبڑی قربانیاں دیں۔ پڑوسی ملک پاکستان نے مجاہدین کی ہر سطح پر مدد کی اور دیگر اسلامی ممالک نے بھی مجاہدین کو ہر قسم کی مالی مدد فراہم کی۔ عالمی طاقتوں نے بھی سوویت یونین کے مقابلے کے لیے سرد جنگ کا آغاز کیا ان میں امریکہ سرِ فہرست ہے۔ اس جنگ میں شروع میں سوویت یونین کی فوج بڑے شہروں پر قبضہ کرنے میں کامیاب رہی، لیکن دیہی علاقوں اور پہاڑوں میں مجاہدین نے اپنے ٹھکانے بنائے۔ روسی فوج نے مجاہدین کے تعاقب میں بے شمار دیہاتوں پر زمینی اور فضائی حملے کیے جن کی وجہ سے بڑی تعداد میں عورتیں اور بچے بھی لقمۂ اجل بنے۔ ایک بڑی آبادی اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئی اور پڑوسی ممالک کی طرف ہجرت کی۔ اس جنگ میں مقتولین کی تعداد تقریباً ۱۵ سے ۱۷ لاکھ تک بتائی جاتی ہے اور تقریباً پچاس لاکھ لوگ ہجرت کر گئے۔ سوویت یونین کی فوج نے مظالم کی انتہا کردی۔ مجاہدین کے خاتمے کے لیےبھر پور کوششیں کیں، لیکن مجاہدین نے گوریلا جنگ لڑنے کا آغاز کیا اور یہ حکمتِ عملی کامیاب رہی، کیونکہ ایسی جنگ میں وہ دشمن کے حملوں سے بچ جاتے تھے۔ بہرحال اس جنگ میں پورا ملک تباہ ہو گیا، مگر سوویت یونین کو بھی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا۔ سوویت یونین کواپنی ساری جنگی حکمت عملیوں اور پوری طاقت استعمال کرنے کے باوجود مقامی گوریلا جنگجوؤں کے ہاتھوں ذلت آمیز شکست سے دو چار ہوناپڑا۔ سوویت یونین کی گرفت اپنے علاقوں پر بھی ڈھیلی پڑ گئی اور بالآخر جنگی اخراجات کے بوجھ تلے دب کر روس ہمیشہ کے لیے ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا۔ کئی ممالک کو اس جہاد کے نتیجے میں سوویت یونین سے آزادی ملی، ان میں افغانستان کے پڑوسی اسلامی ممالک؛ تاجکستان، ترکمانستان، ازبکستان، قزاقستان وغیرہ شامل ہیں۔ افغان جنگ کی ناکامی کے بعد اسی وقت کے سوویت لیڈر میخائل گوربا چوف نے ۱۹۸۹ءمیں اپنی فوجیں واپس بلا لیں۔

امریکہ کی شرمناک پسپائی

جب سوویت یونین نے افغان سر زمین پر غاصبانہ قبضہ کیا اور یہاں کے عوام کی مرضی اور روایات کے برعکس کمیونسٹ حکومت بنائی تو اس کے مقابلے میں کئی افغان جہادی تنظیموں نے جہاد کا آغاز کیا تو اس جدو جہد میں ان کے ساتھ پڑوسی ممالک کے عوام نے بھی ساتھ دیا اور رفتہ رفتہ بین الاقوامی طاقتیں بھی اپنے اپنے مفاد کے لیے متحرک ہوتی چلے گئیں۔ افغان عوام کی بے پناہ قربانیوں کے نتیجے میں روس پسپا ہوا اورسوویت یونین نے جنیوا معاہدے کی رو سے ۱۹۸۹ء میں اپنی فوجیں نکال لیں۔ اب ہونا یہ چاہیے تھا کہ افغانستان میں افغان عوام کی مرضی سے ایک ایسی حکومت بنائی جاتی جو امن و امان کے قیام کے لیے اقدامات کرتی اور دس سالہ خون ریز جنگ کی تلافی کرتی، مگر بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوا بلکہ ایک ایسا خلا پیدا ہوا کہ افغانستان معطل ہو کر رہ گیا۔ اسی خلا کو پر کرنے کے لیے طالبان کی تحریک برپا ہوئی۔ طالبان نے بہت جلد پورے افغانستان پر کنٹرول حاصل کر لیا اور امن و امان کے قیام کے لیے بہترین اقدامات کیے۔ ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ کی قیادت میں تشکیل پانے والی حکومت ۱۹۹۶ء سے ۲۰۰۱ء تک قائم رہی، اس نے افغانستان سے منشیات کا مکمل خاتمہ کیا اور ایک پر امن افغانستان کا خواب شرمندہ ٔ تعبیر ہوا۔ طالبان کی اس حکومت کو سوائے دو مسلم ممالک پاکستان اور سعودیہ کے دنیا نے تسلیم نہیں کیا۔ ہونا یہ چاہیے تھا کہ جنگ زدہ ملک میں امن و امان برقرار رکھنے اور معاشی و سیاسی اصلاحات لانے کے لیے طالبان حکومت کی مدد کی جاتی اور انھیں ایک موقع دیا جاتا، مگر بد قسمتی سے ایسا نہیں ہونے دیا گیا۔ جب نائن الیون کا حادثہ پیش آیا تو امریکہ نے بغیر تحقیق کے اس کا ذمے دار اسامہ بن لادن کو ٹھہرایا جو ان دنوں افغانستان میں موجود تھے۔ امریکہ نے اس واقعے کا الزام ان پر اور ان کی تنظیم القاعدہ پر عائد کرتے ہوئے طالبان حکومت سے ان کی حوالگی کا مطالبہ کیا۔ ظاہر ہے امریکہ کا یہ مطالبہ اسلامی تعلیمات، افغان روایات اور عالمی برادری کے درمیان طے شدہ اصولوں کے منافی تھا۔ طالبان حکومت نے اسامہ بن لادن کی حوالگی سے انکار کرتے ہوئے اپنے ملک کے اندر اس واقعے کی تحقیق کی پیشکش کی اور یہ یقین دہانی کرائی کہ اس واقعے میں ملوث کرداروں کو عدالت کے ذریعے سزا دلوائی جائے گی۔ طالبان حکومت کی اس پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے نیو ولڈ آرڈر کے ٹھیکیدار امریکہ نے نیٹو میں شامل چالیس اتحادیوں کے ہمراہ بین الاقوامی اصولوں اور انسانی قدروں کو پامال کرتے ہوئے انتہائی رعونت وفرعونیت کے ساتھ سات اکتوبر ۲۰۰۱ء کو افغانستان پر حملہ کردیا۔ بعد ازاں افغان سر زمین پر قبضہ کر کے بے گناہ افغانیوں کا قتلِ عام کیاگیا۔ امریکہ کی سر پرستی میں افغانستان میں حامد کرزئی کو صدارت کے عہدے پر بٹھایا گیا، جو ۲۰۰۲ء سے ۲۰۱۴ء تک اس عہدے پر برقرار رہا۔ اس کے بعد اشرف غنی کو صدر بنایا گیا، جو ۲۰۲۱ء میں طالبان کی فاتحانہ واپسی کے نتیجے میں ملک چھوڑ کر فرار ہوا۔ امریکہ نے کل بیس سال افغانستان کی سر زمین پر قبضہ جمائے رکھا اور ان بیس سالوں میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے مظالم کی بےشمار داستانیں رقم کیں۔ افغان ملت نے امریکہ اور اتحادیوں کے خلاف بھر پور جہاد کیا اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس بے پناہ وسائل کے مالک نیٹو کو مٹھی بھر جماعت نے شکست سے دو چار کر دیا۔ دو دہائیوں سے جاری اس جنگ میں ہزاروں قیمتی جانیں لقمۂ اجل بن گئیں۔ اس جنگ میں امریکہ نے دو ہزار ارب ڈالر کی خطیر رقم خرچ کی جس کا کوئی نتیجہ اس کے حق میں سامنے نہیں آیا۔ بالآخر امریکہ نے طالبان کے ساتھ مذاکرات شروع کیے جو مختلف مرحلوں سے گزرتے ہوئے ۲۰۲۰ء کے دوران ’’دوحہ‘‘ میں امریکہ اور طالبان کے درمیان ایک امن معاہدے پر منتج ہوئے، جس کی رو سے ۲۰۲۱ء میں امریکہ اور اس کی اتحادی افواج کے افغانستان سے انخلا پر اتفاق ہوا۔ یوں ایک اور سپر پاور کو افغانستان میں ذلت آمیز پسپائی اور شکست سے دو چار ہونا پڑا۔ خلاصہ یہ کہ یہ اعزاز افغان قوم کو ہی حاصل ہے کہ بہت کم مادی اور فوجی وسائل کے ساتھ انھوں نے وقت کی تین سپر پاورز کو یکے بعد دیگرے ذلت آمیز شکست سے دوچار کیا۔ لہٰذا بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ افغانستان اب تک تین فرعونیت کے نشے میں دھت سپر پاورز کا قبرستان ثابت ہو چکا ہے۔ وللہ الحمد اولا و آخرا

جاری ہے

لرننگ پورٹل