لاگ ان
جمعہ 04 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 30 ستمبر 2022
لاگ ان
جمعہ 04 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 30 ستمبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 04 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 30 ستمبر 2022
جمعہ 04 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 30 ستمبر 2022

سفرنامہ: مفتی اویس پاشا قرنی
ضبط و ترتیب: مولانا محمد اقبال

سفرِ افغانستان کی مختصر روداد

افغانستان کی مختصر تاریخ: ایک جائزہ

جنرل نادر خان سردار یوسف خان کے بیٹے، سردار یحیٰ خان کے پوتے اور سردار سلطان محمد خان کے پڑ پوتے ہیں۔ سردار سلطان محمد خان، محمد زئی قبیلے سے تعلق رکھنے والے افغانستان کے پہلے فرماں روا سردار دوست محمد خان کے بھائی ہیں۔ انگریزوں کے ساتھ دوسری جنگ کے بعد جب افغانستان میں امیر عبد الرحمٰن خان اقتدار پر قابض ہوئے تو نادر خان کے دادا سردار یحیٰ خان جو یعقوب خان کے سسر بھی تھے، افغانستان سے فرار ہوئے اور انگریزوں کے ہاں سیاسی پناہ لی۔ اس کی وجہ مؤرخین یہ بتاتے ہیں کہ سردار یحیٰ خان نے یعقوب خان کے ساتھ مل کر انگریزوں کے ساتھ ’’معاہدۂ گندمک‘‘ میں حصہ لیا تھا۔ اس معاہدے کی تفصیل یہ ہے کہ ہندوستان کی جنگِ آزادی ۱۸۵۷ء کے بعد برطانیہ ہندوستان پر قابض ہوا تواس زمانے میں زارِ روس تاشقند اور سمرقند پر قبضہ جماتے ہوئے افغانستان کی سرحد دریاے آمو تک آپہنچا تھا۔ لہٰذا ساٹھ کی دہائی میں مقبوضہ ہندوستان کی مغربی سرحد پر برطانوی حکومت کےلیے خدشات پیدا ہوگئے تھے۔ امیر دوست محمد خان کی وفات اور امیر شیرعلی خان کے بر سرِ اقتدار آنے کے بعد جب روسی وفد نے کابل کا دورہ کیا تو انگریزوں نے پھر افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت شروع کی اور ۲۱ نومبر ۱۸۷۸ء کو تین برطانوی لشکروں نے مختلف محاذوں پر افغانستان پر چڑھائی کی۔ ایک لشکر جنوب سے قندھار پر حملہ آور ہوا، ایک دستے نے جنرل رابرٹس کی سرکردگی میں کُرم کے راستے سے حملہ کیا، جبکہ ایک بڑا حملہ جنرل سام براؤن کی زیرِ قیادت پندرہ ہزار فوج کے ساتھ درہ ٔخیبر سے ہوا۔ غیور پشتون قبائل نے کسی حکومتی امداد کا انتظارکیے بغیر انگریزوں کا سامنا کیا مگر انگریزوں کے جدید جنگی سازو سامان کے مقابلے میں بھاری جانی نقصان اٹھانے کے باوجود انگریزوں کا راستہ نہ روک سکے اور انگریز فوج جلال آباد پہنچنے میں کامیاب ہوئی۔ یہ وہ وقت تھا کہ امیر شیر علی خان دنیا سے رحلت کر چکے تھے اور امیر یعقوب خان نئے افغان بادشاہ مقرر ہوئےتھے۔ یہ سردیوں کا موسم تھا انگریزوں کے لیے اس موسم میں افغانستان میں ٹھہرنا خطرے سے خالی نہیں تھا، اس لیے وہ جلد کسی معاہدے پر پہنچنے کے لیے کوشاں تھے۔ امیر یعقوب خان کے لیے یہ نادر موقع تھا کہ وہ انگریزوں کو سبق سکھاتے مگر اپنے کمزورکردار کی بدولت وہ انگریزوں کی چال میں آگئے۔ انھوں نے انگریزوں کے ساتھ ایک معاہدہ کیا جو ’’معاہدۂ گندمک‘‘ کے عنوان سے مشہور ہے اور جسے افغانستان میں ’ ’د گندمک تڑون‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس معاہدے میں امیر یعقوب خان نے ذلت آمیز شرائط پر صلح کی۔ اس معاہدے کی جہاں دیگر شرائط ذلت آمیز تھیں وہاں یہ بھی تسلیم کیا گیا کہ افغان حکومت اپنی خارجہ پالیسی حکومتِ برطانیہ کی خواہش اور تائید سے وضع کرےگی۔ انگریز ریذیڈنٹ کو مکمل حفاظتی انتظامات کے ساتھ شایانِ شان طریقے سے کابل میں رہنے کی اجازت دی جائے گی اور درۂ خیبر سے درۂ بولان تک کا علاقہ (جو آج کل پاکستان کا حصّہ ہے) مستقل طور حکومتِ برطانیہ کے حوالے کیا جائے گا۔ امیر یعقوب خان نے افغان روایات کو پاؤں تلے روندتے ہوئے ان ذلت آمیز شرائط کو قبول کیا۔ وہ قوم جس نے تین دہائی پہلے انگریزوں کو تاریخ ساز شکست دی تھی، اس کے لیے یہ معاہدہ شرمناک تھا۔ لہٰذا پشتون قبائل امیر یعقوب خان کے معاہدے سے سخت نالاں ہوگئے اور چالیس دن بھی نہیں گزرے تھے کہ افغان عوام نے دستیاب بندوقوں، تلواروں اور لاٹھیوں سے برطانوی ریذیڈنسی پر حملہ کیا اور ریذیڈنٹ اور اس کی حفاظت پر مامور افغان حفاظتی اہلکاروں کو قتل کرتے ہوئے ریذیڈنسی کو آگ لگائی۔ اس وقت افغانستان میں صرف کرم ایجنسی میں جنرل رابرٹس کچھ برطانوی، سکھ اور شیعہ ملیشیا کے ساتھ موجود تھا، اس نے جنگ کا آغاز کیا اور دوسری افغان اینگلو جنگ شروع ہوئی۔ جنرل رابرٹس نے ریذیڈنسی پر حملے کے مرتکب تقریباً ستاسی افراد کو پھانسی دی اور امیر یعقوب خان کو اس جرم میں برطرف کر دیا۔

یعقوب خان کے بعد امیر عبدالرحمٰن خان افغانستان کےنئے بادشاہ تسلیم کیے گئے۔ امیر عبد الرحمٰن خان کے برسرِ اقتدار آتے ہی نادر خان کے دادا سردار یحیٰ خان اپنے خاندان سمیت ملک سے باہر چلے گئے، وہیں پر نادر خان اور ان کے بھائیوں کی تعلیم و تربیت ہوئی۔ نادر خان اپنے بھائیوں میں ایک باوقار، باصلاحیت اور سنجیدہ فکر کی حامل شخصیت تھے۔ امیر عبد الرحمٰن خان کی وفات کے بعد جب امیر حبیب اللہ خان تختِ کابل پر متمکن ہوئے تو ۱۹۰۱ء میں نادر خان کے دادا اور والد اپنے خاندان سمیت واپس کابل آئے۔ امیر حبیب اللہ خان نے نادر خان کے والد یوسف خان اور چچا آصف خان کو اپنے مصاحبین میں شامل کیا۔ ۱۹۰۸ء میں نادر خان جنرل بن گئے اور ملک کے مختلف حصوں میں اندرونی بغاوتوں کو کچلنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انھیں خدمات کی بدولت ۱۹۱۱ء میں نائب سپہ سالار منتخب کیے گئے۔ جبکہ ۱۹۱۲ء میں سپہ سالار کے عہدے پر ترقی دی گئی۔ جب ۱۹۱۹ء میں امان اللہ خان بر سرِ اقتدار آئے تو شروع کے ایام میں نادر خان کو اپنے عہدے سے بر طرف کیا گیا مگر پھر بہت جلد انھیں دوبارہ اہم مقام دیا گیا اور انگریزوں کے خلاف جنگِ استقلال میں نادر خان نے بڑی خدمات انجام دیں۔ ان خدمات کے اعتراف میں نادرخان کو وزیرِ دفاع بنادیا گیا۔ مگر ۱۹۲۲ء میں بعض خاندانی اختلافات اور امان اللہ خان کی بعض پالیسیوں سے نالاں ہوکر نادر خان نے استعفا دیا۔ استعفا دینے کے بعد نادر خان ملک سے باہر چلے گئے اور اس وقت واپس آئے جب ۱۹۲۹ء میں بچہ سقہؔ نے کابل پر قبضہ کر کے امان اللہ خان کو کابل سے نکال دیا تھا۔ نادر خان نے شروع میں امان اللہ خان کو اپنی خدمات پیش کیں مگر امان اللہ خان ملک سے باہر چلے گئے اور افغانستان کو بچہ سقہؔ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔ یہ وقت تھا کہ نادر خان کی فوج نے ملک کے مختلف علاقوں پر کنٹرول حاصل کرتے ہوئے کابل کو گھیر لیا اور بچہ سقہؔ کو وہاں سے بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ افغانستان میں امن قائم کیا اور بچہ سقہ ؔاور دیگر فسادیوں کو سخت سزائیں دی گئیں۔ پھر افغانستان کے عوام کی حمایت سے نادرخان کو جرگے نے اپنا نیا حکمران چُن لیا اور انھوں نے افغانستان کی تعمیر و ترقی کے لیے اہم اقدامات کیے، مگر بدقسمتی سے محض چند سال بعد ۱۹۳۳ ء میں انھیں ایک سر کاری تقریب کے موقعے پر شہید کر دیا گیا اور ان کی وفات کے بعد ان کے بیٹے محمد ظاہر شاہ افغانستان کے حکمران منتخب کیے گئے۔ نادر شاہ افغانستان کے وہ حکمران ہیں جن سے علامہ اقبال کو بڑی عقیدت تھی اور وہ بھی اقبال کے علم و فضل کے معترف تھے۔

یہی وجہ تھی کہ ۱۹۳۳ء میں نادر شاہ نے علامہ اقبال، علامہ سید سلیمان ندوی اور سر سید کے پوتے سر راس مسعود کو افغانستان کے تعلیمی امور کے سلسلے میں مشاورت کے لیے کابل کے دورے کی دعوت دی اور وہ تینوں حضرات وفد کی شکل میں وہاں گئے۔ چنانچہ اس کے متعلق حکیم الامت علامہ اقبال مرحوم نے کہا تھا:

نادر افغاں شہ درویش خو
رحمتِ حق بر روان پاک او
کارِ ملت محکم از تدبیر او
حافظِ دیں مبین شمشیرِ او
چوں ابوذر خود گداز اندر نماز
ضربتش ہنگام کیں خارا گداز
عہدِ صدیق از جمالش تازہ شد
عہدِ فاروق از جلالش تازہ شد

’’نادر شاہ درویش صفت انسان تھے، اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمتیں ہوں ان پر۔ ان کی تدابیر کی وجہ سے ملت کے کاموں میں استحکام پیدا ہوا تھا اور ان کی شمشیر دینِ مبین کی محافظ تھی۔ نادر شاہ کی نماز میں حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کی طرح سوز و گُداز محسوس ہوتا تھا اور جب دشمن کے ساتھ مقابلے کی نوبت آتی تو ان کی شمشیر کی ضرب پتھروں کو بھی توڑ دیتی تھی۔ اس بادشاہ کی حکمرانی کے حسین و جمیل انداز و اطوار سے عہدِ صدیق رضی اللہ عنہ اور ان کے جلال اور دبدبے سے عہدِ فاروق رضی اللہ عنہ کی یادیں تازہ ہو گئیں‘‘ ۔(اس وفد کی روداد اور علامہ اقبال مرحوم کے افغانستان سے متعلق کلام کی تفصیل ان شاء اللہ آگے آئے گی)

نادر خان کے بعدان کے بیٹے محمد ظاہر شاہ نے چالیس سال حکومت کی اور بالآخر سردار محمد داؤد نے ان کا تختہ الٹ دیا اورشہنشاہیت ختم کر کے جمہوریت کی بنا ڈالی۔ لہٰذا محمد ظاہر شاہ افغانستان کے آخری بادشاہ ثابت ہوئے۔ واضح رہے کہ سردار داؤد خان، ظاہر شاہ کے چچا یعنی نادر شاہ کے بھائی سردار عزیز کے بیٹے تھے، گویا وہ ظاہر شاہ کے چچازاد تھے۔ سردار عزیز جرمنی میں سفیر تھے اور وہیں پر اُنھیں قتل کر دیا گیا۔ اسی طرح سردار محمد داؤد کی اہلیہ زینب ظاہر شاہ کی بہن تھیں۔ محمد داؤد خان نے اپنے چچازاد بھائی محمد ظاہر شاہ کو تخت سے محروم کر کے خود اس پر قبضہ کیا۔ اس کے بعد محمد داؤد خان پانچ برس اقتدار میں رہ کر اپریل ۱۹۷۸ء کو کابل میں انقلاب کے نتیجے میں اپنے اہلِ خانہ سمیت قتل کر دیے گئے۔ سردار داؤد کے قتل کے بعد فوجی بغاوت کے نتیجے میں کمیونسٹ حکومت وجود میں آئی اور نور محمد ترہ کئیؔ افغانستان کے صدر بن گئے۔ جو ۱۹۷۹ء تک افغانستان کے صدر رہے۔ نور محمد ترکئی بہت جلد قتل کر دیے گئے اور اس کے بعد حفیظ اللہ امینؔ اقتدار پر قابض ہوگئے، مگر وہ محض تین ماہ صدر رہے۔ حفیظ اللہ امینؔ کے بعد ببرک کارمل اقتدار میں آئے جو ۱۹۸۶ء تک برقرار رہے۔ ببرک کارمل کے بعد ڈاکٹر محمد نجیب اللہ آئے جو ۱۹۹۲ء تک افغانستان کے صدر کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔ ۱۹۹۶ء میں طالبان کی طرف سے امارتِ اسلامیہ کے قیام اور فتحِ کابل کے موقعے پر انھیں راستے سے ہٹا دیا گیا۔

جب انقلاب کے نتیجے میں ملک کے حالات کشیدہ ہوئے اور کمیونسٹ حکومت کے خلاف افغان عوام نے مزاحمت شروع کی تو کمیونسٹ حکومت کی دعوت پر اس کی مدد کے لیے ۱۹۷۹ءمیں سویت یونین نے باقاعدہ افغانستان پر حملہ کر دیا۔ افغان قوم نے سویت یونین کی مخالفت کی کیونکہ سویت یونین نے کمیونزم کا نفاذ کیا اور ظاہر ہے یہ نظام اسلامی تعلیمات اور افغان روایات کے خلاف تھا۔ لہٰذا سویت یونین کی جارحیت کے مقابلے میں کئی افغان جہادی تنظیموں نے جہاد کا آغاز کیا۔ اس جنگ میں افغانستان کے مجاہدین کے ساتھ پڑوسی ممالک اور بین الاقوامی طاقتیں بھی شامل ہوگئیں۔ بین الاقوامی طاقتوں نے سرد جنگ میں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے زور آزمائی کی اور بالآخر ایک طویل جنگ کے بعد ۱۹۸۸ء میں جنیوا معاہدہ ہوا جس کے نتیجے میں روس نے افغانستان سے ۱۹۸۹ء میں اپنی فوجیں نکال لیں اور افغانستان میں ڈاکٹر نجیب اللہ کی حکومت برقرار رہی۔ تاہم ڈاکٹر نجیب اللہ کو بدستور روس کی حمایت حاصل تھی اس لیے جہادی تنظیموں نے اپنی تحریکی سرگرمیاں جاری رکھیں اور ۱۹۹۲ءمیں احمد شاہ مسعود اور جنرل عبدالرشید دوستم نے کابل پر قبضہ کرلیا۔ چونکہ روس کے نکلنے کے بعد جہادی تنظیموں کے درمیان تشکیل ِحکومت کے لیے باقاعدہ ایک اصولی معاہدہ وجود نہیں رکھتا تھا اس لیے جہاد میں حصہ لینے والے مختلف گروہوں کے مابین خانہ جنگی شروع ہو گئی۔ اس خانہ جنگی کو روکنے کے لیے صبغت اللہ مجددیؔ کی صدارت میں اسلامی جہادی کونسل تشکیل دی گئی۔ صبغت اللہ مجددی ؔکے بعد اس کونسل کے صدر برہان الدین ربانی ؔ بن گئے اور کابل میں ڈاکٹر نجیب اللہ کے متوازی ایک حکومت بنائی گئی جس میں برہان الدین ربانی ؔصدر اور گلبدین حکمت یار وزیرِ اعظم بنائے گئے۔ مگر اس کا خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوا اس لیے کہ ایک ملک میں دو متوازی حکومتوں نے مسائل میں اضافہ کر دیا اور مزید خانہ جنگی شروع ہوئی، افغان عوام کی زندگی اجیرن ہوگئی، ہر طرف مظالم کی داستانیں رقم ہوئیں۔ چونکہ افغان عوام جہاد میں بے پناہ قربانیوں کے بعد اپنے ملک میں امن چاہتے تھے جبکہ جہادی تنظیمیں امن کے قیام میں ناکام رہیں۔ ایسے میں اس خلا کو پر کرنے اور افغانستان میں امن کے قیام کے لیے ملا محمد عمر مجاہد کی قیادت میں مقامی سطح پر قندھار میں مدارس کے طلبہ کی ایک تحریک کا آغاز ہوا، جس کا مقصد صرف ایک خاص علاقے میں امن کا قیام تھا۔ مگر جب ظلم کے مارے مظلوم افغانیوں نے ملا محمد عمر مجاہد کی کامیاب پالیسی کا مشاہدہ کیا تو ہر طرف سے انھیں دعوت دی گئی اورخوش آمدید کہاگیا۔ یوں ایک خاص علاقے سے نکل کر پورے افغانستان میں تحریکِ طالبان کے نام سے ایک تحریک منظم ہوئی جس نے بالآخر پچانوے فیصد افغانستان میں ایک پر امن اسلامی حکومت تشکیل دی اور ملا محمد عمر کو امیرالمؤمنین تسلیم کر لیا۔ طالبان کی یہ حکومت ۱۹۹۶ء سے ۲۰۰۱ء تک قائم رہی اور اس حکومت نے امن بحال کیا، منشیات کا مکمل خاتمہ کر دیا۔ طالبان کے دورِ حکومت میں گیارہ ستمبر ۲۰۰۱ء کو امریکہ کے شہر نیو یارک میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حیران کن طور پر ایک حملہ ہوا اور اسے مکمل تباہ کر کے رکھ دیا، جس میں سینکڑوں لوگ لقمۂ اجل بن گئے۔ امریکہ نے اس کا الزام اسامہ بن لادن اور ان کی تنظیم القاعدہ پر عائد کیا جو ان دنوں افغانستان میں پناہ لیے ہوئےتھے اور طالبان حکومت سے ان کی فی الفور حوالگی کا مطالبہ کیا۔ طالبان حکومت نے اپنے ملک میں امریکہ کو اس واقعے کی تحقیق کی پیشکش کی اوراس میں ملوث کرداروں کو عدالت کے ذریعے سزا دلوانے کا وعدہ کیا جو بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں بالکل صائب فیصلہ تھا۔ مگر امریکہ بدمعاش نے اپنے چالیس اتحادیوں کے ہمراہ بین الاقوامی برادری کی تمام روایات کو پاؤں کے نیچے روندتے ہوئے انتہائی رعونت کے ساتھ سات اکتوبر ۲۰۰۱ء کو افغانستان پر حملہ کر کے اس پر قبضہ کر لیا۔ امریکہ کی سر پرستی میں افغانستان میں حامد کرزئی کو صدر بنا یا گیا جو ۲۰۰۲ء سے ۲۰۱۴ء تک صدر رہے۔ اس کے بعد محمد اشرف غنی صدر بنے جو ۲۰۲۱ءمیں طالبان کی واپسی تک صدر کے عہدے پر برقرار رہے۔

ان بیس سالوں کے دوران امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے مظلوم افغانیوں کے گھر بار اُجاڑے اور معصوم بچوں، عورتوں کے خون سے ہاتھ رنگے۔ افغانیوں نے اپنی روایت کے مطابق امریکہ کے خلاف جہاد شروع کر دیا۔ دو دہائیوں سے جاری اس جنگ میں بے پناہ تباہی ہوئی اور ہزاروں جانیں لقمۂ اجل بن گئیں۔ بالآخر امریکہ اور طالبان کے درمیان۲۰۲۰ء میں ’’دوحہ‘‘ قطر میں ایک معاہدہ ہوا جس کے نتیجے میں ۲۰۲۱ء میں امریکہ اور اس کی اتحادی افواج کا ذلت آمیز پسپائی کے ساتھ افغانستان سے مکمل انخلا ہوا۔ افغان سیکیورٹی فورسز نے طالبان سے جنگ کرنے کے بجائے رفتہ رفتہ ہتھیار ڈالنا شروع کر دیے اور افغانستان میں ایک بار پھر طالبان کی فرمان روائی تسلیم کی گئی۔

کتابیات
الکامل في التاریخ (لابن الأثير)
افغانستان د تاریخ په رڼا کی (استاد احمد علی کھزاد)
افغانستان د معاصر تاریخ په رڼا کی (شھسوار سنگر وال)
له احمد شاه بابا سره تر حامد کرزی
د افغانستان تاريخ له اصحابانو ترطالبانو(حانواک مفتی زادہ)
د افغانستان پر معاصر تاریخ یوه لنډه کتنہ (ڈاکٹر ابراہیم عطائی)
سیرِ افغانستان (مولا نا سید سلیمان ندوی)
تاریخِ افغانستان (مولانا اسماعیل ریحان)

جاری ہے

لرننگ پورٹل