لاگ ان
اتوار 27 ذوالقعدہ 1443 بہ مطابق 26 جون 2022
لاگ ان
اتوار 27 ذوالقعدہ 1443 بہ مطابق 26 جون 2022
لاگ ان / رجسٹر
اتوار 27 ذوالقعدہ 1443 بہ مطابق 26 جون 2022
اتوار 27 ذوالقعدہ 1443 بہ مطابق 26 جون 2022

ابنِ عباس
معاون قلم کار

نفلی حج

«عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْحَجُّ فِي كُلِّ سَنَةٍ أَوْ مَرَّةً وَاحِدَةً قَالَ: بَلْ مَرَّةً وَاحِدَةً فَمَنْ زَادَ فَهُوَ تَطَوُّعٌ» (سنن ابی داؤد)

’’حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اَقرع بن حابس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا ’’یا رسول اللہ کیا حج ہر سال فرض ہے یا زندگی میں ایک بار فرض ہے؟آپ ﷺ نے فرمایا: ’’نہیں بلکہ ایک ہی بار فرض ہے لیکن جو کوئی اس پر اضافہ کرے تو وہ نفل ہو گا‘‘۔

اس حدیثِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ زندگی میں ایک ہی بار حج فرض ہے۔ بعض حضرات اس طرح کی احادیث اور دیگر خارجی حالات سے متاثر ہو کر، تکرار ِحج یعنی نفلی حج کی ڈھکی چھپی نفی اور اعلانیہ تنقیص کرتے ہیں حالاں کہ اسی حدیث میں نفلی حج کی ترغیب بھی پائی جاتی ہے۔ اس لیے کہ فرض حج پر اضافے کو رسول اللہ ﷺ نے ناپسندیدہ قرار دینے کے بجائے ’’تطوع‘‘ یعنی علاوہ از فرض نیکی قرار دیا۔ تطوع شریعت کی نظر میں پسندیدہ امر ہے جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: ﴿فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ﴾ (البقرہ: ۱۸۴) ’’جو اپنی خوشی سے نیکی کرے تو اس کے لیے یہ بہتر ہے‘‘۔ دیگر احادیث میں صراحت سے تکرارِ حج کی ترغیب آئی ہے۔ صحیح روایت میں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قَالَ: قَالَ الله تعالی: إنّ عَبْداً أصْحَحْتُ لَهُ جِسْمَهُ وَوَسَّعْتُ عَلَيْهِ فِي الْمَعِيشَةِ تَمْضِي عَلَيْه خَمْسَةُ أعْوَامٍ لا يَفِدُ إِلَيَّ لَمَحْرُومٌ» (صحیح ابنِ حبان) ’’جس بندے کو میں نے جسمانی صحت سے نوازا ہو اور اس کی معیشت میں وسعت دی ہو اور پانچ سال ایسے گزر جائیں کہ وہ ہمارے گھر کی زیارت کو نہ آئے تو وہ محروم ہے‘‘۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «تَابِعُوا بَيْنَ الحَجِّ وَالعُمْرَةِ فَإِنَّهُمَا يَنْفِيَانِ الفَقْرَ وَالذُّنُوبَ كَمَا يَنْفِي الكِيرُ خَبَثَ الحَدِيدِ وَالذَّهَبِ وَالفِضَّةِ وَلَيْسَ لِلْحَجَّةِ الْمَبْرُورَةِ ثَوَابٌ إِلاَّ الجَنَّةُ» (سنن ترمذی) ’’اوپر تلےحج اور عمرے کیا کرو اس لیے کہ یہ دونوں مفلسی اور گناہ گاری کو اس طرح دور کرتے ہیں جیسے بھٹی لوہے اور سونے چاندی کے میل کچیل کو دور کرتی ہے اور نیکی والے حج کا بدلہ تو جنت ہی ہے‘‘۔ الجامع الصغیر کی ایک روایت میں آتا ہے: «أدِيموا الحَجَّ والعُمْرَةَ» ’’حج اور عمرے پے درپے کیا کرو‘‘۔ جس طرح اس حدیث کے ابتدائی الفاظ «تَابِعُوا بَيْنَ الحَجِّ وَالعُمْرَةِ» تکرارِ حج کی نفی کی رائے کی غلطی واضح کرتے ہیں اسی طرح اس حدیث کے آخری الفاظ بھی جن میں حجِ مبرور کا ثواب جنت کو بتایا گیا ہے اس رائے کی کجی کو واضح کرتے ہیں اس لیے کہ ان الفاظ میں حج عام ہے یعنی فرض اور نفل دونوں کا بدلہ جنت ہے اور جب کسی عمل کا بدلہ جنت ہے تو اس کی تنقیص کرنا جائز نہیں ہے۔ فقہاے کرام اور محدثینِ عظام نے بھی تکرارِ حج والی حدیث کے بارے میں یہی بیا ن کیا کہ یہ تکرارِ حج کے استحباب پر دلالت کرتی ہیں۔ علامہ بد ر الدین عینی البنایہ شرح الہدايہ میں لکھتے ہیں ’’گھر کی زیارت سے مراد حج ہے حدیث تکرارِ حج کے استحباب پر دلالت کرتی ہے نہ کہ وجوب پر‘‘۔ امام ملا علی القاری رحمہ اللہ مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح میں لکھتے ہیں: ’’طاقت رکھنے والے کے لیے مستحب ہے کہ وہ ہر پانچ سال میں ایک دفعہ حج کرنا ترک نہ کرے‘‘۔ رسول اللہ ﷺ نے حج کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا: «مَنْ حَجَّ لِلَّهِ فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ رَجَعَ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ» (صحیح بخاری) ’’جس نے اللہ تعالٰی کی رضا کے لیے حج کیا اور نہ تو کسی بے ہودگی کا مرکتب ہوا اور نہ ہی نافرمانی کا تو وہ اس دن کی طرح واپس آئے گا جس دن اسے ماں نے جنا تھا‘‘۔ ایک دوسری روایت میں ہے: «مَنْ حَجَّ وَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ» ’’جس نے بغیر کسی بے ہودگی اور نافرمانی کے حج کیا تو اس کے سابقہ تمام گناہ معاف کر دیے جائیں گے‘‘۔ (سنن ترمذی) یہ فضیلتیں اس قابل ہیں کہ انھیں حاصل کرنے کی جلدی کی جائے۔ خاص طور پر جن لوگوں کو سفرِ حج کے اسباب و وسائل میسر ہیں تو انھیں حج کا انتظام کرنے میں جلدی کرنی چاہیے اور اگر اب اس کا موقع نکل چکا ہے تو اگلے سال کے لیے منصوبہ بندی کر لینی چاہیے ۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «مَنْ أَرَادَ الْحَجَّ فَلْيَتَعَجَّلْ فَإِنَّهُ قَدْ تَضِلُّ الضَّالَّةُ وَيَمْرَضُ الْمَرِيضُ وَتَكُونُ الْحَاجَةُ» (مسند احمد) ’’جو حج پہ جانا چاہتا ہے اسے چاہیے کہ وہ جلدی کرے اس لیے کہ کبھی کوئی گمنے والی چیز گم ہو جاتی ہے (مثلا سواری وغیرہ) اور کبھی بیمار ہونے والا مبتلاے مرض ہو جاتا ہے اور کبھی اور کوئی ضرورت پیش آ جاتی ہے (تو انسان حج پر جانے سے رہ ہی جاتا ہے)۔

لرننگ پورٹل