لاگ ان
اتوار 22 شعبان 1445 بہ مطابق 03 مارچ 2024
لاگ ان
اتوار 22 شعبان 1445 بہ مطابق 03 مارچ 2024
لاگ ان / رجسٹر
اتوار 22 شعبان 1445 بہ مطابق 03 مارچ 2024
اتوار 22 شعبان 1445 بہ مطابق 03 مارچ 2024

فتاویٰ یسئلونک
دارالافتاء، فقہ اکیڈمی

سوال: ایک دوست نے سوال کیا ہے کہ منکرِ حدیث کے بارے میں قرآن وسنت میں کیا حکم ہے؟ یعنی جو یہ کہتے ہیں کہ قرآن ہی اصل ہے اور حدیث تو صرف ایک میک اپ قسم کی چیز ہے تم نے خوامخواہ ہی اسے اتنا اٹھایا ہوا ہے۔ اس کے بارے میں رہنمائی فرمائیں۔

جواب: رسول اللہ ﷺ کے اقوال و افعال میں سے کئی روایات متواتر اور خبر مشہور کے درجے میں بھی ہیں۔ منکرینِ حدیث بلا تفریق ہر ایک کا انکار کرتے ہیں۔ چناں چہ انکارِ حدیث سے نہ صرف متواتر روایات کا انکار لازم آتا ہے بلکہ اس سے قرآن کا بھی انکار لازم آتا ہے، قرآن مجید میں اللہ جل شانہ نے کئی آیات میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت اور اتباع کا حکم دیا ہے۔ اس وجہ سے منکرینِ حدیث باتفاقِ علماے اہلِ سنت؛ دینِ اسلام سے خارج ہیں۔ منکرینِ حدیث کے سَر خَیل غلام احمد پرویز کے بارے میں انکارِ حدیث کی بنا پر علماے کرام نے ایک متفقہ فتویٰ موسوم 'غلام احمد پرویز کے بارے میں علما کا متفقہ فتویٰ' بھی شائع فرمایا تھا۔ جس میں انکارِ حدیث سمیت اس شخص کے مختلف نظریات بھی بیان کیے گئے ہیں۔ انٹرنیٹ پر بآسانی دستیاب ہے۔ تفصیل کے لیے اس کا مطالعہ مفید رہے گا۔ البتہ یہ واضح رہنا چاہیے کہ ایک ہے عمومی حکم کہ جو حدیث کا علی الاطلاق انکار کرے تو وہ کافر ہے، مگر کسی متعین فرد کے بارے میں فیصلہ کہ آیا وہ منکرِ حدیث ہے یا نہیں اور اگر ہے تو کیا اس درجے کا کہ اُس کی تکفیر بھی لازم آتی ہے یا نہیں، یہ ایک اجتہادی امر ہے جو اکابر علما ومفتیان ہی کا کام ہے۔ کسی عام آدمی کے لیے جائز نہیں کہ وہ حکم لگائے۔ متعین فرد کا حکم علما سے معلوم کرنا چاہیے۔

والله أعلم بالصواب

لرننگ پورٹل