لاگ ان
منگل 01 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 27 ستمبر 2022
لاگ ان
منگل 01 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 27 ستمبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
منگل 01 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 27 ستمبر 2022
منگل 01 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 27 ستمبر 2022

عثمان خان‏
معاون قلم کار

ابتدائیہ

امام غزالی علیہ الرحمۃ اسلامی تاریخ کا وہ درخشاں ستارہ ہیں جس کی کرنیں چوتھی صدی ہجری کے وسط میں دنیاے اسلام میں نمودار ہوئیں۔امام نے اپنے فکر انگیز نظریات کے سبب مسلم دنیا پر وہ گہرے نقوش چھوڑے جو آج بھی اسلامی فلسفے، علم و حکمت، تصوف و روحانیت ، معاشرتی اقدار اور اخلاقیات کی اصلاح کے لیے اساسی حیثیت رکھتے ہیں۔امام غزالی علیہ الرحمۃنے اپنے دور میں موجود علمی مکاتب کے نظریات کا بغور مطالعہ کیا اور ان کے نظریات کے اِبطال اور اسلام کی جامعیت کو دنیا کے سامنے پیش کیا۔ آپ یقیناً اپنے دور کے نابغۂ روزگار اشخاص میں شمار ہوتے تھے ۔ امام غزالی کے علمی و فکری کارناموں پر نظر ڈالنے سے پہلے ان کے حالاتِ زندگی پر بھی گہری نظر ڈالنے کی ضرورت ہے اور ان کے تجدیدی کارناموں کا احاطہ بھی لازم ہے ۔ کیوں کہ آپ کی شخصیت اور افکار کے اثرات آج بھی اسلامی فکر میں اساسی حیثیت رکھتے ہیں جن سے معاشرتی اصلاح کا سبق لیا جا سکتا ہے۔ ذیل میں ہم ان کے مختصر حالاتِ زندگی کا تذکرہ کرکے ان کے تجدیدی کام کے مقاصد اور اس دور کے حالات کا تجزیہ پیش کریں گے اور یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ موجودہ دور میں آپ کی تعلیمات سے کس طرح رہنمائی لی جا سکتی ہے۔مولانا حنیف ندوی نے امام غزالی کا تعارف ان شاندار الفاظ میں پیش کیا ہے:’’قانون و شریعت کے سانچوں پر اہلِ علم نے چار طریقوں پر غور کیا ہے۔ ان میں فقہ، اصول، علم الکلام اور تصوف شامل ہیں۔ ’غزالی‘میں یہ چاروں صفات نہایت توازن اور اعتدال کے ساتھ موجود ہیں۔ یہ بیک وقت فقیہ و اصولی بھی ہیں اور فلسفہ و تصوف کے ہوش مند شناور بھی۔(۱)

ہمارا اصل موضوع امام صاحب کی تصوف کی تصنیفی خدمات کو قارئین کے سامنے اجاگر کرنا ہے۔ امام صاحب کی تصوف پر بیش بہا خدمات ہیں۔ ہم اپنے موضوع کے پیشِ نظر خود کو امام صاحب کی تصوف کے موضوع پر تصانیف تک محدود رکھیں گے۔

تصنیفات

امام غزالی علیہ الرحمۃکی امتیازی خصوصیت یہ تھی کہ آپ نے درس و تدریس کا کام بھی کیا، بادشاہوں کے دربار میں بھی علمی مباحث کا حصہ بنے اور اس سے بڑھ کر علمی میدان میں قلم سے اپنے رشتے کو مربوط رکھتے ہوئے بے شمار کتب تصنیف کیں اور اصلاح معاشرہ، اسلامی فلسفہ اور دیگر باطل خیالات و افکار کو موضوع بحث بنایا۔امام غزالی نے اگرچہ عمر 54-55 برس پائی مگر آپ کی کتب کی تعداد کافی ہے۔بعض مورخین نے آپ کی کتب کی تعداد 99 بیان کی بعض نے 78۔ہم ذیل میں امام صاحب کی کتب کی فہرست مولانا ندیم الواجدی فاضل دیوبند(شارح احیاء العلوم) کی تحقیق کے مطابق پیش کرتے ہیں۔(۲)

۱۔ احیا ء العلوم ۲۔ املاء علی مشکل الاحیاء ۳۔ اربعین ۴۔ الاقتصاد فی الاعتقاد
۵۔ اسرار معاملات الدین ۶۔ الاسماءالحسنیٰ ۷۔ اخلاق الابرار و النجاۃ من الاشرار ۸۔ اسرار الانوار الالہیۃ بالآیات المتلوۃ
۹۔ اسرار اتباع السنۃ ۱۰۔ اسرار الحروف والکلمات ۱۱۔ ایہاالولد ۱۲۔ بدایۃ الہدایۃ

اب ہم اپنے امام غزالی کی تصوف کی تصنیفی خدمات کو بیان کرتے ہیں۔اس ضمن میں ہم نےاوّلا ً علامہ شبلی نعمانی علیہ الرحمۃ کی تحقیق کے مطابق امام صاحب کی تصوف و احسان کے موضوع پر تصنیفات کو لیا ہے۔(۳) مندرجہ ذیل فہرست میں اکثر کتب علامہ شبلی کے مطابق ہیں۔لیکن امام غزالی کی تصانیف کے مطالعے کے دوران دیگر کتب سے ہم نے اس فہرست میں بھی کچھ رد و بدل کیا ہے۔

۱۔ احیا ء العلوم ۲۔ کیمیاے سعادت ۳۔ المقصد الاقصیٰ ۴۔ آداب الاخلاق
۵۔ جواہر القرآن ۶۔ جواہرالقدس فی حقیقۃ النفس ۷۔ مشکوٰۃ الانوار ۸۔ منہاج العابدین
۹۔ معراج السالکین ۱۰۔ نصیحۃ الملوک ۱۱۔ ایہاالولد ۱۲۔ بدایۃالہدایۃ

مذکورہ بالا کتب میں سے اکثرہمیں دستیاب ہو گئیں لیکن کچھ تلاش بسیار کے باوجود نہ مل سکیں۔ جو دستیاب ہوسکیں ان کتب کا خلاصہ اور اہم خصوصیات ہم ذیل میں بیان کرتے ہیں:

احیاء العلوم

امام غزالی کی شہرۂ آفاق تصنیف احیاء علوم الدین دونوں موضوعات کی جامع ہے۔ اخلاق کے موضوع پر امام غزالی سے پہلے فلسفیانہ طرز پر بھی متعدد کتابیں لکھی گئی تھیں اور مذہبی طرز پر بھی۔ فلسفیانہ طرز کی کتابوں میں یونانی حکما ارسطو اور جالینوس کی کتابوں کے عربی تراجم کے علاوہ ابونصر فارابی (م ۳۹۹ھ) کی آرائ المدینۃ الفاضلۃ، الشیخ الرئیس ابوعلی ابنِ سینا (م ۴۲۸ھ) کی کتاب البروالاثم اور ابن مسکویہ (م ۴۲۱ھ) کی تہذیب الاخلاق اور مذہبی طرز کی کتابوں میں ابوطالب مکی (م۳۸۶ھ) کی قوت القلوب اور راغب اصفہانی (م۵۰۲ھ) کی الذریعۃ الی مکارم الشریعۃ خصوصیت سے قابل ذکر ہیں۔ لیکن ان کتابوں کو وہ مقبولیت نہ مل سکی جو احیاءالعلوم کے حصے میں آئی۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ امام غزالی کی یہ تصنیف دونوں طرزوں کی جامع ہے۔

احیاءالعلوم کی تصنیف کے وقت امام غزالی علیہ الرحمۃ کے سامنے قدما کی یہ تمام تصانیف تھیں۔ اس کا کافی حصہ— جیسا کہ علامہ سبکی (م۷۷۱ھ) نے طبقات الشافعیہ میں لکھاہے— قوت القلوب، رسالہ قشیریہ اور الذریعہ سے ماخوذ ہے۔ خاص طور سے احادیث وآثار کا تمام ترحصہ قوت القلوب سے لے لیاگیاہے۔ لیکن علامہ شبلی نعمانی کے الفاظ میں: ’’ان تمام تصانیف کو احیاء العلوم سے وہی نسبت ہے جو قطرےکو گوہر سے، سنگ کو آبگینے سے اور کاسۂ سفالین کو جامِ جم سے ہے‘‘۔(۴) احیاء العلوم کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس کی متعدد شرحیں اور تلخیصیں لکھی گئی ہیں۔ علامہ ابن الجوزی (م ۵۹۷ھ) نے منہاج القاصدین کے نام سے اس کی شرح کی۔ ابن قیم (م۷۵۱ھ) نے اس پر اعتراضات کیے تو قطب شعرانی (م۹۷۳ھ) نے الاجوبۃ المرضیۃ کے نام سے اس کا جواب دیا۔ زین الدین عراقی (م۸۰۶ھ) نے اس میں وارد احادیث کی تخریج کی اور ان کے شاگرد ابن حجر عسقلانی نے اس پراستدراک لکھا۔ مرتضیٰ زبیدی (م۱۲۰۵ھ) نے دس جلدوں میں اس کی شرح لکھی۔ اسی طرح اس کی تلخیص کرنے والوں میں شمس الدین عجلونی (م ۸۱۳ھ) امام غزالی کے بھائی احمد بن محمد، شیخ محمد بن سعید یمنی، شیخ ابوزکریا یحیی، شیخ ابوالعباس احمد بن موسیٰ موصلی(م ۶۳۲ھ) اور حافظ جلال الدین سیوطی (م۹۱۱ھ) قابلِ ذکر ہیں۔ (حاجی خلیفہ نے کشف الظنون میں ان کا تذکرہ کیا ہے)

احیاءالعلوم چار حصوں پر مشتمل ہے: پہلا حصہ عبادات پر ہے۔ اس میں کتاب العلم، قواعد العقائد، اسرار الطہارۃ،اسرار الصلاۃ، اسرار الزکاۃ، اسرار الصیام، اسرار الحج، آداب تلاوۃ القرآن وغیرہ کی تفصیل ہے۔ دوسرے حصے میں عادات کا بیان ہے۔ اس میں آدابِ طعام ، نکاح، احکامِ کسب، حلال وحرام ، صحبت وعزلت ،سفر، وجدوسماع، امر بالمعروف اور اخلاق النبوۃ کا بیان ہے۔ تیسرا حصہ مہلکات پر ہے۔ اس میں عجائب القلب، ریاضۃ النفس، آفات الشہوتین، آفات اللسان، آفات الغضب، ذمِّ دنیا، ذمِّ جاہ و ریا وغیرہ کی وضاحت کی ہے۔ چوتھا حصہ مُنجیات پر ہے۔ اس میں توبہ، صبر، شکر، فقر وزہد ، توحید، توکل ، محبت وشوق وغیرہ پر اظہارِ خیال ہے۔

احیاء العلوم کی تعریف وتوصیف میں بڑے بڑے علماء رطب اللسان نظر آتے ہیں۔ یہاں صرف علامہ نووی علیہ الرحمۃ شارحِ صحیح مسلم کا مشہور جملہ نقل کردینا کافی ہوگا۔ انھوں نے فرمایا: کَادَ اَنْ یَّکُوْنَ قُرآناً ’’قریب تھا کہ یہ قرآن کہلاتی‘‘ ۔مولانا محمد حنیف ندوی نے اس کا یہ مطلب بتایا ہے:’’ان کی غرض غالباً یہ ہے کہ جس طرح قرآن حکیم کے مطالب براہ راست ان کو متاثر کرتے ہیں اور جس طرح ان کے اندازِ بیان میں تصنع اور بناوٹ کا عنصر نہیں پایا جاتا، اسی طرح ’احیاء‘ کے مضامین عقل وادراک کی موشگافیوں میں پڑے بغیر قلب میں جاگزیں ہوتے ہیں اور پڑھنے والے پرچھا جاتے ہیں ‘‘۔(۵)

علامہ شبلی نے احیاء العلوم کی پانچ خصوصیات بیان کی ہیں:(۶)

(۱) امام غزالی نے اس کتاب میں حکمت اور موعظت دونوں کو ساتھ ساتھ نبھایا ہے۔ جس مضمون کو بھی ادا کیا ہے، باوجود سہل پسندی ، عام فہمی اور دل آویزی کے، فلسفہ وحکمت کے معیار سے کہیں نہیں اُترنے دیا۔

(۲) فلسفۂ اخلاق کے مسائل اس طرح بیان کیے ہیں کہ دقیق سے دقیق نکتے لطائف بن گئے ہیں۔ پڑھنے والا نہ صرف یہ کہ ان کو آسانی سے سمجھ لیتا ہے، بلکہ اس کے دل پر کیفیت طاری ہوتی ہے اور وہ سرتا پا اثر میں ڈوب جاتا ہے۔

(۳) اخلاق کی تعلیم اختلافِ طبائع کے لحاظ سے دی ہے۔

(۴) معاشرت واخلاق کی بنیاد اگرچہ مذہب پررکھی ہے، لیکن اس نکتے کو ہر جگہ ملحوظ رکھا ہے کہ شارع کے کون سے افعال رسالت کی حیثیت سے تعلق رکھتے ہیں اور کون سے معاشرت وعادت کی حیثیت سے۔

(۵) محاسنِ اخلاق بیان کرتے ہوئے اس بات کا خاص خیال رکھا ہے کہ اخلاق کا پلّہ رہبانیت ، افسردہ دلی اور پست ہمتی کی طرف جھکنے نہ پائے۔

حواشی:
۱) ندوی، محمد حنیف، تعلیمات غزالی، مطبوعہ 2019، لاہور، ادارہ ثقافت اسلامیہ، ص ۱-۲
۲) غزالی، ابو حامد محمد، احیاء العلوم، اردو ترجمہ : ندیم الواجدی، مطبوعہ 2015، کراچی، دارالاشاعت، جلد ۱، ص ۳۳-۳۴
۳)نعمانی، علامہ شبلی، الغزالی، مطبوعہ 1992، کراچی، دارالاشاعت، ص ۳۴
۴)نعمانی ،شبلی ، الغزالی، دارالمصنّفین شبلی اکیڈمی، اعظم گڑھ، طبع ۲۰۰۸ء، ص:۶۰
۵)ندوی، محمد حنیف، افکار غزالی، مطبوعہ 2015، لاہور، ادارہ ثقافت اسلامیہ، ص ۸۸
۶)نعمانی، علامہ شبلی، الغزالی، مطبوعہ 1992، کراچی، دارالاشاعت، ص ۴۶-۵۳ بہ تلخیص

جاری ہے

لرننگ پورٹل