لاگ ان
جمعہ 13 ذوالقعدہ 1444 بہ مطابق 02 جون 2023
لاگ ان
جمعہ 13 ذوالقعدہ 1444 بہ مطابق 02 جون 2023
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 13 ذوالقعدہ 1444 بہ مطابق 02 جون 2023
جمعہ 13 ذوالقعدہ 1444 بہ مطابق 02 جون 2023

فتاویٰ یسئلونک
دارالافتاء، فقہ اکیڈمی

سوال: میری ہمشیرہ جرمنی میں رہتی ہیں، ان کا بزنس کی وجہ سے اکثر یہاں فرانس آنا جانا ہوتا ہے، ہر مہینے ایک یا دو چکر لگتے ہیں اور ہم نے یہاں ان کے لیے ایک کمرہ بھی مخصوص کیا ہوا ہے، اس صورت میں اگر جب وہ پندرہ دن سے کم آئیں تو قصر ادا کریں گی یا پوری نماز پڑھنی ہوگی؟ وطنِ اصلی تو ایک ہوتا ہے تو اس صورت میں کیا حکم ہوگا؟

جواب: اگر پندرہ دن سے کم رہائش کا ارادہ ہو تو نماز قصر کریں۔ کمرہ مخصوص کرنے سے حکم پر کوئی فرق نہیں پڑے گا جب تک وہ وہاں مستقل رہائش یا کم ازکم پندرہ یوم کی رہائش کی نیت نہ کریں۔

من خرج من عمارة موضع إقامته قاصدا مسيرة ثلاثة أيام ولياليها بالسير الوسط مع الاستراحات المعتادة صلى الفرض الرباعي ركعتين حتى يدخل موضع مقامه أو ينوي إقامة نصف شهر بموضع صالح لها فيقصر إن نوى في أقل منه. (تنوير الأبصار مع رد المحتار، كتاب الصلاة، باب صلاة المسافر)

والله أعلم بالصواب

لرننگ پورٹل