لاگ ان
بدھ 22 جمادی الاول 1445 بہ مطابق 06 دسمبر 2023
لاگ ان
بدھ 22 جمادی الاول 1445 بہ مطابق 06 دسمبر 2023
لاگ ان / رجسٹر
بدھ 22 جمادی الاول 1445 بہ مطابق 06 دسمبر 2023
بدھ 22 جمادی الاول 1445 بہ مطابق 06 دسمبر 2023

فیض احمد فیضؔ (۱۹۱۱۔۱۹۸۴ء)
معروف شاعر

فیض نے یہ نظم ۱۹۷۴ء میں ڈھاکہ سے واپسی پر لکھی

ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی مداراتوں کے بعد
پھر بنیں گے آشنا کتنی ملاقاتوں کے بعد
کب نظر میں آئے گی بے داغ سبزے کی بہار
خون کے دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد
تھے بہت بے درد لمحے خَتْمِ دردِ عشق کے
تھیں بہت بے مَہْر صبحیں مہرباں راتوں کے بعد
دل تو چاہا پر شکستِ دل نے مہلت ہی نہ دی
کچھ گلے شکوے بھی کر لیتے مناجاتوں کے بعد
اُن سے جو کہنے گئے تھے فیضؔ جاں صدقہ کیے
اَن کہی ہی رہ گئی وہ بات سب باتوں کے بعد
لرننگ پورٹل