لاگ ان
ہفتہ 17 ذوالقعدہ 1445 بہ مطابق 25 مئی 2024
لاگ ان
ہفتہ 17 ذوالقعدہ 1445 بہ مطابق 25 مئی 2024
لاگ ان / رجسٹر
ہفتہ 17 ذوالقعدہ 1445 بہ مطابق 25 مئی 2024
ہفتہ 17 ذوالقعدہ 1445 بہ مطابق 25 مئی 2024

فیض احمد فیضؔ (۱۹۱۱۔۱۹۸۴ء)
معروف شاعر

فیض نے یہ نظم ۱۹۷۴ء میں ڈھاکہ سے واپسی پر لکھی

ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی مداراتوں کے بعد
پھر بنیں گے آشنا کتنی ملاقاتوں کے بعد
کب نظر میں آئے گی بے داغ سبزے کی بہار
خون کے دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد
تھے بہت بے درد لمحے خَتْمِ دردِ عشق کے
تھیں بہت بے مَہْر صبحیں مہرباں راتوں کے بعد
دل تو چاہا پر شکستِ دل نے مہلت ہی نہ دی
کچھ گلے شکوے بھی کر لیتے مناجاتوں کے بعد
اُن سے جو کہنے گئے تھے فیضؔ جاں صدقہ کیے
اَن کہی ہی رہ گئی وہ بات سب باتوں کے بعد
لرننگ پورٹل