لاگ ان
جمعرات 12 ذوالقعدہ 1444 بہ مطابق 01 جون 2023
لاگ ان
جمعرات 12 ذوالقعدہ 1444 بہ مطابق 01 جون 2023
لاگ ان / رجسٹر
جمعرات 12 ذوالقعدہ 1444 بہ مطابق 01 جون 2023
جمعرات 12 ذوالقعدہ 1444 بہ مطابق 01 جون 2023

فیض احمد فیضؔ (۱۹۱۱۔۱۹۸۴ء)
معروف شاعر

فیض نے یہ نظم ۱۹۷۴ء میں ڈھاکہ سے واپسی پر لکھی

ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی مداراتوں کے بعد
پھر بنیں گے آشنا کتنی ملاقاتوں کے بعد
کب نظر میں آئے گی بے داغ سبزے کی بہار
خون کے دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد
تھے بہت بے درد لمحے خَتْمِ دردِ عشق کے
تھیں بہت بے مَہْر صبحیں مہرباں راتوں کے بعد
دل تو چاہا پر شکستِ دل نے مہلت ہی نہ دی
کچھ گلے شکوے بھی کر لیتے مناجاتوں کے بعد
اُن سے جو کہنے گئے تھے فیضؔ جاں صدقہ کیے
اَن کہی ہی رہ گئی وہ بات سب باتوں کے بعد
لرننگ پورٹل