لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022

فضائلِ شعبان

سیدنا انس بن مالک رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ رجب کا مہینا داخل ہونے کے بعد نبی کریم ﷺ یہ دعا پڑھا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي رَجَبَ وَشَعْبَانَ وَبَلِّغْنَا رَمَضَانَ» ’’اے اللہ ہمارے لیے رجب اور شعبان میں برکت عطا فرما اور ہمیں رمضان تک پہنچا دے‘‘۔ (مسندِاحمد) نبی کریم ﷺکے اس طرزِ عمل سے اشارہ ملتا ہے کہ آغازِ رجب ہی سے ماہِ رمضان کے لیے ذہنی و قلبی طور پر تیار ہو جانا چاہیے نیز اس میں ان تین مہینوں کی فضیلت کی طرف بھی اشارہ نکلتا ہے۔امام عبد الرحمن البنا الساعاتی رحمۃ اللہ علیہ بلوغ الأماني میں لکھتے ہیں:’’نبی کریم ﷺ کا ان تین مہینوں کے لیے برکت کی دعا کرنا ان کی فضیلت پر دلالت کرتا ہے۔ نیز یہ کہ آپ ﷺ نے رمضان کا عطف ، رجب اور شعبان پر نہیں کیا بلکہ اس کے لیے الگ سے لفظ استعمال فرمایا جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ رمضان کی فضیلت بقیہ دونوں مہینوں یعنی رجب اور شعبان کے مقابلے میں زیادہ ہے‘‘۔ امام ملا علی القاری رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ’’رجب اور شعبان میں برکت سے مراد یہ ہے کہ ان مہینوں میں ہماری اطاعت اور عبادت میں برکت (یعنی کثرت) عطا کر اور رمضان میں پہنچنے سے مراد یہ ہے کہ( ہماری زندگی اتنی کر دے کہ) ہم پورے ماہ رمضان کو پا سکیں اور ہمیں اس کے صیام و قیام کی توفیق عطا فرما‘‘۔ (مرقاة) بعض حضرات اس حدیث کی سند کے ضعف کی بنا پر اس دعا کو پڑھنا درست نہیں سمجھتے۔امام ہیثمی رحمۃ اللہ علیہ نے اس روایت کو مجمع الزوائد میں نقل کیااور لکھا: ’’اسے امام بزّار اور طبرانی نے معجم الاوسط میں روایت کیا ہے اس سند میں زائدہ بن ابی الرقاد ہیں جن کے بارے کلام کیا گیا جبکہ بعض نے انھیں ثقہ بھی قرار دیا ہے‘‘۔دوسری بات یہ کہ اس حدیث کو بہت سارے محدثین نے اپنی کتابوں میں بیان کیا ہے اور اس کی بعض اسناد مزید بھی موجود ہیں جن کی بنیاد پر اس حدیث کو تقویت حاصل ہوجاتی ہے۔امام عبد الرحمن البنا رحمۃ اللہ علیہ نے ترتیبِ مسند احمد میں لکھا ہے: ’’اس کی دیگر اسناد بھی ہیں جو ایک دوسرے کو سہارا دیتی ہیں‘‘۔تیسری بات یہ کہ اگر اس حدیث کوضعیف مان بھی لیں تو بطور دعا استعمال میں کوئی حرج نہیں، بلکہ فضائلِ اعمال میں ضعیف روایت بھی محدثین کے نزدیک قابل عمل ہے جیسا کہ علامہ طاہر پٹنی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب تذكرة الموضوعات میں اس حدیث کو ضعیف قرار دینے کے بعد لکھا ہے کہ: ’’فضائلِ اعمال کے باب میں ضعیف روایت پر عمل کرنا جائز ہے‘‘۔

ماہِ شعبان کی فضیلت صحیح طور پر تسلیم شدہ حقیقت ہے اور کئی احادیث سے ثابت ہے۔اس سلسلے کی ایک حدیث امام جلال الدین السیوطی رحمۃ اللہ علیہ نےالجامع الصغیر میں شعب الایمان کے حوالے سےنقل کی اور اسے حسن قرار دیا ہے۔ نیز علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی سلسلة الأحادیث الصحیحة میں اسے نقل کیا ہے: ’’رجب اوررمضان کے درمیان ایک مہینا شعبان کاہے ،لوگ اس سے بے خبر رہتے ہیں، اس میں لوگوں کےاعمال اللہ کی جناب میں بلند ہوتے ہیں اور میں پسند کرتا ہوں کہ میرا نامۂ اعمال بلند کیا جائےتو میں روزے سے ہوں‘‘۔اس حدیث کی شرح میں علامہ صنعانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ شعبان کے رجب ورمضان کے درمیان ہونے کی اطلاع نبی کریم ﷺ نے اس لیےدی کہ عرب نسییٔ کے من گھڑت قاعدے کے تحت مہینوں کو آگے پیچھے کرتے تھےاس لیےآپ ﷺ کےاس انداز بیان سے اس قاعدے کی غلط فہمیوں کا ازالہ مقصود تھا۔(التنویر شرح جامع الصغیر )

رفع اعمال کا مطلب یہ ہے کہ انسانوں کے اعمال اللہ کے سامنے پیش کیے جائیں۔ اعمال کی ایک پیشی روزانہ کی بنیاد پر ،صبح وشام ہوتی ہے (بحوالہ حدیث مسلم ) اور ہفتہ وار پیشی ، ہر پیر اور جمعرات کو ہوتی ہے۔(بحوالہ حدیث ترمذی ) اور ایک پیشی سالانہ ہوتی ہے،جس کا ذکر حدیثِ شعبان میں آیا ہے۔ جہاں تک مختلف پیشیوں کی حکمت کی بات ہےتو ظاہر ہے کہ ان پیشیوں سے مقصود یہ تو نہیں ہو سکتا کہ اللہ تعالی کو لوگوں کے اعمال کی خبر ہو جائے کیونکہ اس پر تو کوئی چیز مخفی ہی نہیں ہے، مختلف اوقات کی پیشیوں سے مطلوب نیکوکار کی عزت و کرامت اور بدکار کی مذمت ہے۔ مطلب یہ کہ جب نیک لوگوں کے اعمالِ صالحہ ، اللہ کے سامنے مختلف مواقع پر بار بار پیش کیے جاتے ہیں تو ہر دفعہ اللہ کی رحمت و محبت ، ان کی طرف متوجہ ہوتی ہے اورجب بدکاروں کے اعمال مختلف اوقات میں اللہ تعالی کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں تو ہر بار، اللہ کی ناراضی اور غضب ان کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ یہ امکان بھی ہےکہ ان پیشیوں میں مجمل و مفصل کا فرق ہوتا ہو یعنی روزانہ کی پیشی تفصیلی ہوتی ہو اور بعد کی دونوں پیشیاں اس پہلی پیشی کے مقابلے میں مجمل ہوتی ہوں۔ (مرعاۃ)یہ جو فرمایا کہ اس مہینے میں اعمال بلند ہوتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ نصفِ شعبان کی رات میں اعمال بلند ہوتے ہیں۔( التيسير بشرح الجامع الصغير) حدیث میں ہے ’’لوگ اس سے غافل ہوتے ہیں ‘‘غفلت سے مراد ظاہر ہے کہ عبادت سے غفلت ہے لیکن شارحین حدیث نے بالخصوص روزے سے غفلت کو بیان کیا ہے: ’’یعنی اس کے روزے رکھنے سےغفلت کرتے ہیں‘‘۔(التيسير بشرح الجامع الصغير ) دوسری حدیث امام سیوطی رحمۃ اللہ علیہ ہی نے ’الجامع الصغیر ‘میں بحوالہ مسند الفردوس نقل کی ہے، حضور اکرم ﷺ نے فرمایا:’’شعبان میرا مہینا ہے اور رمضان اللہ کا مہینا ہے‘‘۔ امام سیوطی رحمۃ اللہ علیہ اس کی وضاحت میں لکھتے ہیں: ’’ نبی اکرم ﷺ نے شعبان کو اپنی طرف اس لیے نسبت دی کہ آپ ﷺ اس میں نفل روزے بکثرت رکھا کرتے تھے اور رمضان کی اضافت اللہ کی طرف اس لیے کی ہے کہ اس کے روزے اللہ کی طرف سے فرض کیے گئےہیں‘‘۔ علامہ سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا لیکن درج بالا توجیہ کے مطابق مضمون میں کوئی قباحت نہیں ہے اور یہ بھی ذہن میں رہے کہ اس طرح کے معاملات میں ضعیف حدیث سے دلیل پکڑنا جمہور محدثین اور فقہاے کرام کے نزدیک جائز ہے جیسا کہ اوپر علامہ طاہر پٹنی رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے بیان ہوا۔

شعبان کے اعمال

عمومی عبادات کے ساتھ ،شعبان کی خاص عبادت ، روزے رکھنا ہے۔نبی اکرم ﷺ ماہِ شعبان میں بکثرت روزے رکھا کرتے تھے۔کسی مہینے میں آپ ﷺ روزہ رکھنا بذاتِ خود اس مہینے کی فضیلت کا بھی ثبوت ہے۔سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے بارگاہِ رسالت ﷺمیں سوال کیا: ’’یا رسول اللہ! کیا وجہ ہے کہ آپ کسی مہینے میں اتنے روزے نہیں رکھتے جتنے کہ شعبان میں رکھتے ہیں ‘‘۔فرمایا:’’رجب اور رمضان کے درمیان یہ ایک ایسا مہینا ہے جس سے اکثرلوگ غافل ہوتے ہیں اور یہ ایسا مہینا ہے جس میں اعمال رب العالمین کی طرف بلند ہوتے ہیں پس میں پسند کرتا ہوں کہ میرا عمل بلند ہو اور میں روزے سے ہوں‘‘۔ (نسائی)پہلے یہ عرض کیا گیا کہ اللہ تعالی کے حضور یہ پیشی اعمال خبر و اخبار کے لیے نہیں ہے بلکہ اللہ تعالی کی طرف سے ان اعمال کی جانچ کرنے کے لیے ہے پس انسان کے مناسب حال یہ ہے کہ جب اس کے اعمال پیش ہو رہے ہوں کم از کم اس وقت تووہ اللہ کی نافرمانی میں نہ ہو کہ اس سے اللہ کا غضب بڑھے گا، بلکہ چاہیے کہ اس وقت اللہ تعالی کی اطاعت و عبادت میں مصروف ہو، اگرچہ وہ اس سے پہلے والی زندگی میں نیکی پر عامل رہا ہو پھر بھی اس مخصوص وقت میں عبادت بجا لانے سے اللہ کی رحمت اس کی طرف اور شدت سے متوجہ ہو گی۔ اور اگر خدانخواستہ انسان نے برے اعمال کر کے بھیجے ہوں تو تب بھی اللہ کی مغفرت کے اس کی طرف متوجہ ہونے کا امکان ہے۔قرآن پاک میں بھی اور احادیثِ مبارکہ میں بھی صبح و شام کے اوقات میں مصروفِ عبادت و ذکر و تسبیح اور تلاوت قرآن کرتےرہنے کی تاکید کی گئی ہے۔ اس کی ایک حکمت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ چونکہ ان اوقات میں انسان کے اعمال کی پیشی ہوتی ہے پس انسان مصروف عبادت رہے کہ اللہ کی رحمت و مغفرت اس کی جانب متوجہ ہو۔اسی طرح، بروز پیر اور جمعرات انسان کے اعمال اللہ کی جناب میں پیش کیے جاتے ہیں اور نبی کریم ﷺ ان دنوں کا روزہ رکھا کرتے تھے۔گویا آپ پیشیِ اعمال کے وقت خود کو عبادت میں مصروف رکھا کرتے تھے۔پس چاہیے کہ پیشیِ اعمال کے اوقات میں مصروف عبادت رہا جائے چاہے صبح وشام والی پیشی ہو یا ہفتہ وار و سالانہ پیشی ہو۔

سیدہ عائشہ طاہرہ رضی اللہ عنہاسے روایت ہے فرماتی ہیں:’’نبی کریم ﷺ شعبان سےزیادہ کسی مہینے میں (نفلی ) روزے نہیں رکھا کرتے تھے آپ تو پورے شعبان کے روزے رکھا کرتے تھے‘‘۔ (بخاری) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہاہی سے مروی ایک حدیث ہے فرماتی ہیں:’’نبی کریم ﷺ سال کے مہینوں میں سے کسی مہینے میں شعبان سے بڑھ کر (نفلی) روزے نہیں رکھا کرتے تھے‘‘۔(مسلم)سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہاسے مروی احادیث کے ظاہری الفاظ «فَإِنَّهُ كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ» سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ پورے ماہِ شعبان کے روزے رکھا کرتے تھے لیکن اس سے مراد کثرتِ صوم یعنی شعبان کے اکثر دنوں میں روزہ رکھنا ہے۔ اس بات کی وضاحت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی اُس روایت سے ہوتی ہے جوامام ترمذی نے نقل کی ہے:’’میں نے رسول اللہ ﷺ کو شعبان کے علاوہ کسی مہینے میں اتنے روزے رکھتے نہ دیکھا ، آپ شعبان کے روزے رکھا کرتے تھے سوائے تھوڑے دنوں کے، بلکہ تقریباً پورے ہی مہینے کے روزے رکھا کرتے تھے‘‘۔امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد عبد اللہ ابن مبارک رحمۃ اللہ علیہ کا قول نقل کرتے ہیں:’’اگر کوئی کسی مہینے کے اکثر دنوں کا روزہ رکھے تو کلام عرب کی رو سے یہ کہنا جائز ہے کہ وہ پورےمہینے کے روزے رکھ رہا ہے‘‘۔ایک روایت کے مطابق سیدہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں:’’میں نے رمضان کے علاوہ کسی مہینے کے پورے پورے روزے رکھتے نہیں دیکھا اور میں نے آپ کو شعبان سےزیادہ روزے رکھتے کسی مہینے میں آپ کو نہیں پایا‘‘۔(متفق علیہ )

حرفِ استثنا کا مفہوم

ان احادیث میں حرف استثنا إِلَّا واردہوا ہے «كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ إِلاَّ قَلِيلاً،كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ» ، یہ روایت استثنا اور مستثنی منہ کے اعتبار سے مشکل حدیث ہے۔ایک رائے تویہ ہے إِلاَّ قَلِيلا کا مطلب ہے شعبان کے تھوڑے دنوں کو چھوڑ کر باقی پورے شعبان ، یعنی اکثر دنوں کا روزہ رکھا کرتے تھے،اس صورت میں كُلَّهُ مجازًا أَکْثَرَهُ کے معنی میں لیا جائے گا۔ دوسری رائے یہ ہے کہ كُلَّهُ سےمراد پورا شعبان ہی ہے، اور إِلاَّ قَلِيلا کا مطلب یہ ہے کہ پورے شعبان کے روزے رکھنا مستقل معمول شریف نہ تھا، بلکہ کسی کسی سال پورے شعبان کے روزے رکھتے تھے اور کسی سال پورے شعبان کے بجائے اس کے اکثر دنوں کا روزہ رکھتے تھے۔ علامہ بدر الدین عینی الحنفی رحمۃ اللہ علیہ نے عمدۃ القاری میں اسے بہترین رائے قرار دیا ہے۔علامہ مبارکپوری رحمۃ اللہ علیہ نے ایک توجیہ یہ بھی نقل کی ہے کہ یہ آپ کے اول الامر و آخر الامر کا بیان ہے ، ابتدا میں آپ پورے شعبان کے روزے نہیں رکھتے تھے لیکن آخری سالوں میں آپ کا معمول یہ بن گیا تھا کہ پورے شعبان کے روزے رکھا کرتے تھے۔ اور یہ بھی کہا گیا کہ پورے شعبان کے روزے رکھنا اول امر تھا اور آخر امر بجائے پورے کے؛ اکثر شعبان کے روزے رکھنے کا تھا۔

ہمارے لیے کرنے کا کام

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں:’’نبی کریم ﷺشعبان سے زیادہ روزے کسی مہینے میں نہیں رکھا کرتے تھے آپ گویا پورے مہینے کے روزے رکھا کرتے اور آپ فرماتے: عمل میں سے وہ اختیار کرو جس کی طاقت رکھتے ہو، پس اللہ نہیں تھکتا یہاں تک کہ تم تھک جاؤ‘‘۔(متفق علیہ )گویا اس میں اشارہ ہے رسول اللہ ﷺ تو زیادہ ہی روزے رکھا کرتے تھے اور تمھیں بھی آپ ﷺ کی پیروی میں شعبان کے روزے رکھنے چاہییں، البتہ تم اپنی طاقت و ہمت کے مطابق روزے رکھ لیا کرو‘‘۔شعبا ن کے روزوں کے متعلق ایک روایت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے مروی ہے:’’آپ ﷺ شعبان بھر کے روزے رکھا کرتے اور آپ پیر اور جمعرات کے روزے کا خاص اہتمام فرمایا کرتے تھے‘‘۔(ابن ماجہ)اس حدیث میں گویا اشارہ ہے ان لوگوں کے لیے جو زیادہ روزے نہیں رکھ سکتے کہ وہ شعبان کے مہینے میں کم از کم پیر اور جمعرات کو روزہ رکھ لیا کریں۔

نصفِ شعبان کے بعد روزے رکھنےکا حکم

نبی کریم ﷺ نصفِ شعبان کے بعد لوگوں کو روزے رکھنے سے منع فرمایا کرتے تھے، البتہ آپ خود روزے رکھا کرتے تھے یہاں تک کہ بعض اوقات تو شعبان کے روزے کو رمضان سے ملا دیتے یعنی شعبان اور رمضان کے روزوں میں وقفہ نہ کرتے تھے، ارشادِ نبوی ہے:’’جب آدھا شعبان گزر جائے تو روزے نہ رکھو‘‘۔(ابو داؤد)ملا علی القاری رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:’’ اس حدیث میں نہی تنزیہی ہے اور وہ بھی امت پر شفقت و سہولت کی غرض سے ہے کہ کہیں وہ رمضان کے روزے رکھنے سے رہ نہ جائے یا اس کے ذوق و شوق میں کمی نہ آجائے، اور اگر یہ اندیشہ نہ ہویعنی(کسی کو طاقت ہو ) اور وہ پورے مہینے کے روزےبھی رکھ لے تو اس کے لیے جائز ہے کیونکہ وہ خود کو روزے کا عادی بنا لے گا اور روزے کی سختی اس سےجاتی رہے گی ‘‘۔دوسرے علماءنے بھی اس کی صراحت کی ہے کہ نصفِ شعبان کے بعد نفلی روزہ رکھنا جائز ہے حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:’’جمہور علماء کا فرمانا ہے کہ نصفِ شعبان کے بعد نفلی روزہ رکھنا جائز ہے‘‘۔(فتح الباری)علامہ بدر الدین عینی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی نصفِ شعبان کے بعد کے روزوں کا جواز تحریر کرتے ہوئے یہ روایت بیان کی ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کے درمیان کھڑے ہو کر کہا:’’ اے لوگو! ہم نے فلاں فلاں دن ہلالِ(شعبان ) دیکھ لیا ہے اور میں رمضان سے پہلے ہی روزے رکھنا شروع کررہا ہوں اور جو بھی یہ کرنا پسند کرے تو اس عمل کو اختیار کرے‘‘،ایک صاحب نے آپ سے سوال کیا: ’’ اے معاویہ! اس بابت کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ سے کچھ سنا، یایہ آپ کی اپنی کوئی رائے ہے؟ فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا:’’مہینے (شعبان ) کے روزے رکھو اور اس کے آخری حصے کےبھی روزے رکھو‘‘۔ (سنن ابی داود)ایک حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا:’’رمضان سے ایک دن یا دو دن پہلے کوئی روزہ نہ رکھےسوائے یہ کہ کوئی بندہ ایسا روزہ رکھ لے جسے رکھنےکا وہ عادی تھا‘‘۔(متفق علیہ )علما نے اس ممانعت کی مختلف وجوہات بیان کی ہیں: ایک تو یہ کہ دیکھنےوالوں کو آغازِ رمضان کا شبہہ نہ لاحق ہوجائے ، یہ بھی کہ نفل اور فرض باہم گڈ مڈ نہ ہو جائیں، لیکن جیسا کہ خود حدیث کے الفاظ میں وضاحت موجود ہے کہ جو آدمی اپنے معمول میں روزے رکھنےکا عادی ہو مثلا پیر و جمعرات وغیرہ کا روزہ ان دنوں میں آ رہا ہو یا نذر و قضاکا روزہ ہو تو وہ ان دنوں میں بھی رکھا جا سکتا ہے۔

شبِ براءت کی فضیلت

ماہِ شعبان کا ایک اہم موقع نصف ِ شعبان کی رات ہے یعنی پندرھویں رات، اسے شب براءت بھی کہا جاتا ہے۔اس رات کی فضیلت متعدد احادیث سے ثابت ہے۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے’الرسالہ ‘میں اس کی فضیلت نقل کی ہے۔درج ذیل صحیح روایت سے نصف شعبان کی رات اللہ تعالی کی مغفرت کا ظہور ہونا معلوم ہوتا ہے: ’’بے شک اللہ تعالی نصف شعبان کی رات اپنی مخلوق کی طرف نزول فرماتا ہے پھر تمام مخلوقات کومعاف فرمادیتا ہے سوائے مشرک اور باہمی بغض رکھنے والوں کے‘‘۔اس روایت کو شعیب الارنووط نے تخریج مسند احمد میں صحیح قرار دیا ہے۔ اسی طرح علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے سلسلة الأحاديث الصحيحة میں اسے حسن قرار دیا ہے، شب براءت کی فضیلت کی احادیث اس کے علاوہ بھی موجود ہیں۔ان میں سےبعض ضعیف ہیں ، بعض حسن اور بعض صحیح ،جبکہ اس ضمن میں چند موضوع احادیث بھی پائی جاتی ہیں۔برصغیر کے مشہور محدث مولانا عبد الرحمن مبارکپوری تحفة الأحوذي بشرح جامع الترمذي میں ان احادیث کے بارے میں لکھتے ہیں: ’’جان لو کہ نصف شعبان کی رات کی فضیلت میں بہت ساری احادیث وارد ہوئی ہیں۔ یہ مجموعی طور پر شب براءت کی فضیلت کے اصل ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔ انھی میں سےایک یہ (مذکورہ)حدیث بھی ہے، پس یہ احادیث اس آدمی پر حجت ہیں جو یہ سمجھتا ہے کہ اس رات کی کوئی فضیلت ثابت نہیں ہے۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہابیان کرتی ہیں کہ میں نے ایک رات نبی کریم ﷺ کو گھر میں نہیں پایا تو آپ کی تلاش میں باہر نکل گئی تودیکھا کہ وہ بقیع میں ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا:’’ کیا تو یہ اندیشہ کرتی ہے اللہ اور اس کارسول تیری حق تلفی کریں گے؟‘‘ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے عرض کیا: ’’یا رسول اللہ! میں نے سوچا شاید آپ اپنی کسی زوجہ کے ہاں چلے گئے ہیں‘‘۔ آپ ﷺ نے فرمایا:’’بے شک اللہ تعالی نصف شعبان کی رات میں آسمان دنیا کی طرف نزول فرماتے ہیں پھر وہ بنو کلب کی بکریوں کے بالوں کے عدد سے زیادہ تعداد میں لوگوں کی بخشش فرماتے ہیں‘‘۔یہ حدیث اگرچہ مرسل ہے (مرسل وہ روایت ہے جس کی سند کے آخر میں صحابی رضی اللہ عنہ کا حوالہ ساقط ہو) لیکن اس کے راوی قابل اعتماد ہیں، اور علماے کرام کی ایک بڑی جماعت اس طرح کی مرسل حدیث کو حجت مانتی ہے یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ امام بیہقی نے ایک دوسری متصل روایت بھی نقل کی ہے جو اسی مضمون کی ہے۔اس مضمون کی احادیث متعدد صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے مروی ہیں ان مختلف طرق کی بنا پر، شب براءت میں اللہ تعالی کا نزول اور کثیر تعداد میں لوگوں کی مغفرت کرنا ثابت ہوتا ہے جیسا علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے متعدد روایات نقل کرنے کے بعد لکھا ہے: ’’حاصل کلام یہ کہ یہ حدیث اپنے تمام طرق و اسناد کے ساتھ صحیح ثابت ہوتی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں‘‘۔( سلسلة الأحاديث الصحيحة ،حدیث نمبر:۱۱۴۰)

نصفِ شعبان کی رات اور قضا و قدر

جہاں تک اس مسئلے کا تعلق ہے کہ قضا و قدر کے فیصلے کس رات میں ہوتے ہیں وہ رمضان میں پائی جانے والی رات لیلۃ القدر ہے یا پندرہ شعبان کی رات ہے۔ جمہور کے نزدیک وہ رات رمضان میں پائی جانے والی رات لیلۃ القدر ہے۔ سورہ ٔدخان کے شروع میں ایک رات اور اس میں ہونے والے فیصلوں کا ذکر ملتا ہے، معروف تابعی حضرت عکرمہ رحمۃ اللہ علیہ کی رائےیہ ہے کہ یہ رات پندرہ شعبان کی رات ہے۔ اس رائے کی بنیاد شعب الایمان کی ایک حدیث ہے جس میں اس بات کا ذکر ہے کہ ماہِ شعبان میں ایک شعبان سے دوسرے شعبان تک کے معاملات (پیدائش، نکاح، اموات وغیرہ) طے ہوتے ہیں لیکن یہ حدیث مرسل ہے۔علامہ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر میں اس روایت کے بارے میں تحریر فرمایا ہے:’’مرسل روایت کو دوسری نصوص جن میں لیلۃ القدر میں فیصلے ہونے کا ذکر ہے پر ترجیح نہیں دی جا سکتی ‘‘۔لیکن اگر اس مرسل روایت کے مطابق اس مسئلے کی کوئی ایسی توجیہ کی جائے جس میں لیلۃ القدر اور شب براءت کے درمیان تطبیق قائم ہو جائے تو معارضۂ نصوص والا مسئلہ پیدا ہی نہیں ہوتا، اس توجیہ کا ذکر علامہ شبیر احمد عثمانی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے حواشی میں کیا ہے: ’’یعنی سال بھر کے متعلق قضا و قدر کے حکیمانہ اور اٹل فیصلے اسی عظیم الشان رات(لیلۃ القدر) میں ’’لوح محفوظ‘‘سے نقل کر کے ان فرشتوں کے حوالے کیے جاتے ہیں جو شعبہ ہاے تکوینیات میں کام کرنے والے ہیں۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ شعبان کی پندرھویں رات ہے جسے شب براءت کہتے ہیں۔ ممکن ہے وہاں سے اس کام کی ابتدا اور شب قدر پر انتہا ہوئی ہو۔ واللہ اعلم! اخلاق حسین قاسمی دہلوی نے مستند موضح القرآن میں اس تطبیق کا ذکر اس طرح کیا ہے:’’ بعض حضرات نے برکت والی رات سے شب براءت مراد لی ہے جمہور کی رائے لیلۃ القدر کے بارے میں ہے، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تمام امور لکھے تو لیلۃ القدر میں جاتے ہوں لیکن (فرشتوں کو)دیے شب براءت میں ہوں، اس طرح دونوں اقوال میں تطبیق ممکن ہے‘‘۔

شب براءت کی عبادت اور اجتماعات

شب براءت کی فضیلت میں چند احادیث ہم پڑھ چکے، ان میں امر مشترک یہ ہے کہ اللہ تعالی اس رات میں کثیر تعداد کی مغفرت فرماتا ہے۔کسی فضیلت والے وقت کی فضیلت سے حصہ پانے کا درست طریقہ اللہ کی عبادت ہی ہے، جیسا کہ درج ذیل روایت سے معلوم ہوتا ہے:حضرت علا بن حارث رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے ان سے پوچھا’’ کیا تم جانتی ہو آج کون سی رات ہے؟‘‘ میں عرض کیا: ’’اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں‘‘۔ آپ ﷺ نے فرمایا:’’آج نصفِ شعبان کی رات ہے اللہ تعالی نصفِ شعبان کی رات کو اپنی مخلوق کی طرف متوجہ ہوتے ہیں پھر مغفرت طلب کرنے والوں کو معاف فرماتے ہیں اور رحم طلب کرنے والوں پر رحم فرماتے ہیں البتہ آپس میں رنجش رکھنے والوں کو اپنے حال پر چھوڑ دیتے ہیں‘‘۔(شعب الایمان)اس روایت سے معلوم ہوا کہ نبی کریم ﷺ نصف شعبان کی رات میں اللہ تعالی کی عبادت میں مصروف رہا کرتے تھے۔چنانچہ فقہاے امت نے پندرہ شعبان کی رات میں عبادت کرنا مستحب قرار دیا ہے۔دورِحاضر کے فقہی انسائیکلو پیڈیا الموسوعة الفقهية الكويتية میں ہے:’’جمہو علماء کی رائے یہ ہے کہ نصفِ شعبان کی رات کو عبادت سے زندہ رکھنا مستحب ہے‘‘۔ذیل میں ہم مختلف فقہاکے اقوال تحریر کرتے ہیں:فقہ حنبلی کی مشہور کتاب الإقناع کے مصنف شرف الدین الحجاوی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں:’’نصفِ شعبان کی رات میں فضیلت کا سامان ہے اور سلف میں ایسے بزرگ بھی تھے جو اس رات کو نماز پڑھا کرتے تھے لیکن اس رات کو زندہ کرنے کے لیے مساجد میں اجتماعات کا انعقاد بدعت ہے‘‘۔فقہ حنفی کی مشہور کتاب نور الإیضاح میں ہے:’’رمضان کی آخری دس راتوں،دونوں عیدین کی راتوں،اور ذولحجہ کی پہلی دس راتوں، اور نصفِ شعبان کی رات کو زندہ رکھنا مستحب ہے، لیکن ان میں سے کسی بھی رات کے لیے مساجد یا دیگر مقامات پر اجتماع کرنا ناپسندیدہ ہے،کیونکہ نہ تو نبی اکرم ﷺ نے ایسا کیا اور نہ ہی صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے ، بلکہ اکثر علماے حجاز مثلا عطا،ابن ابی ملیکہ وفقہاے اہلِ مدینہ اور اصحاب مالك رحمتہ اللہ علیہ م نے ایسے اجتماعات کی مشروعیت کا انکار کرتے ہوئے انھیں بدعت قرار دیا ہے‘‘۔اسی طرح علامہ ابن نجیم المصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’مقدس راتوں کو زندہ رکھنے کے لیےمساجد میں اجتماع ناپسندیدہ ہے اور تراویح کے علاوہ نفل نمازیں بھی (ان اجتماعات میں( باجماعت نہ پڑھی جائیں‘‘۔(البحرالرائق) علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں:’’اس قیام کی فضیلت تنہا بلا کسی معین و مخصوص تعداد کے نوافل پڑھنے ،تلاوت و سماعتِ قران،مطالعہ و سماعتِ حدیث ،اللہ تعالی کی حمد وثنا اور نبی اکرم ﷺ پر درود و سلام پڑھنے سے حاصل کی جاسکتی ہے۔یہ فضیلت رات کے اکثر یا کچھ حصے میں یہ اعمال کرنے سے حاصل ہو سکتی ہے البتہ ان راتوں میں سے کسی رات کو زندہ کرنے کی خاطر مساجد میں اجتماع کرنا ناپسندیدہ ہے‘‘۔ (رد المحتار ملخصا) امام ابن رجب الحنبلی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:’’اس رات میں نماز، دعا اور بیانات کی غرض سے مساجدمیں اجتماع کرنا تو ناپسندیدہ ہے لیکن اس میں کوئی قباحت نہیں ہے کہ اس رات میں انسان اکیلا اپنی ذات میں یہ سب کچھ کرے۔ پس بندۂ مومن کے لیے بہتر یہ ہے کہ وہ اپنے اوقات کو اس رات میں اللہ کے ذکر،اپنے گناہوں کی معافی و پردہ پوشی اور غم و رنج کی دوری کے لیے دعائیں مانگےاور سب سے پہلے اللہ کی جناب میں توبہ کرے کیونکہ اللہ بھی اس پر توجہ فرماتا ہے کہ جو اس کی جناب میں توبہ کرتا ہے۔اور بندۂ مسلم پر یہ لازم ہے کہ وہ ان گناہوں سے بھی اجتناب جو مغفرت او ررات بھی دعا کی قبولیت کے راستے کی رکاوٹ بنتے ہیں۔ جیسا کہ بعض روایات میں آیا ہے شرک، قتل اور زنا کرنے والے کی مغفرت اس رات میں نہ ہو گی‘‘۔ (لطائف المعارف ملخصا)

شب براءت کی مخصوص عبادات اور چراغاں کا حکم

جاننا چاہیے کہ نصف شعبان کی مقدس رات کی کوئی مخصوص عبادات نہیں ہیں۔عوام میں مختلف قسم کی نمازیں مشہور ہیں، مثلا مغرب کے بعد فلاں فلاں سورتوں کے ساتھ اتنی رکعتیں پڑھی جائیں وغیرہ۔علماء کے نزدیک اس قسم کی کوئی عبادت ثابت نہیں۔امام ملا علی القاری رحمۃ اللہ علیہ نے مرقاۃ میں لکھا ہے:’’جان لو کہ سیوطی نے اللآلئ المصنوعة میں لکھا ہے کہ نصفِ شعبان کی رات میں سو رکعت ادا کرنے اور ہر رکعت میں دس بار سورۂ اخلاص پڑھنے کی فضیلت کے بارے میں دیلمی وغیرہ کی روایت موضوع ہے‘‘۔ امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی ان عبادات کی نفی کی ہے ، فرماتے ہیں: ’’نماز رغائب جو ماہِ رجب کے پہلے جمعے کی مغرب اور عشاکے درمیان بارہ رکعت مشہور ہے اور اسی طرح نصفِ شعبان کی رات میں سو رکعت نماز ادا کرنا دونوں نہایت مذموم اور قبیح بدعات ہیں اور ان کے بارے میں ذکر کی جانے والی احادیث جھوٹی اور باطل ہیں‘‘۔ (المجموع شرح المهذب) امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے بھی ان عبادات کے بارے میں یہی موقف پیش کیا ، لکھتے ہیں:’’کسی خاص تعداد اور مخصوص قرات یا وقت معین کی کوئی نماز ادا کرنا جیسے نماز رغائب اور الفیہ جو رجب کے پہلے جمعے ،سترہ رجب یا نصف شعبان میں بیان کی جاتی ہیں باتفاق ائمہ اسلام غیر مشروع ہیں‘‘۔ (مجموع الفتاوى بن تيمية الحراني ملخصا) فقہاے کرام رحمتہ اللہ علیہ م نے اس رات میں چراغاں کرنے وغیرہ کو فضولیات میں شامل کیا ہے جن کا اس رات کی فضیلت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں اسی طرح اس رات کو مساجد میں اجتماعی عبادات سے بھی منع کیا گیا ہے۔’’سال کی مشہور راتوں میں جیسے نصفِ شعبان وغیرہ کی بدعات میں سے یہ بھی ہے کہ جو شہروں میں چراغ روشن کیے جاتے ہیں اور اس کے بہت سارے مفاسد ہیں مثلا اس میں مجوسیوں کی مشابہت ہے جو آگ کی پوجاکرتے ہیں اور مال کا ناحق ضیاع بھی ہے‘‘۔ (المجموع شرح المهذب)

پندرہ شعبان کا روزہ

ایک حدیث شریف میں پندرہ شعبان کے روزے کا ذکر ہے، اگرچہ یہ روایت سند کے اعتبار سے ضعیف ہےاس لیے پندرہ شعبان کے روزے کی خصوصی فضیلت کا اعتقاد رکھنا جائز نہیں ہے، لیکن شعبان کے مہینے میں کثرتِ صیام اور ایامِ بیض کی عمومی فضیلت کے پیشِ نظر پندرہ شعبان کا روزہ رکھنا ایک امر حسن ہے، لہذا خاص پندرہ شعبان کے روزے کی فضیلت کا اعتقاد نہ ہو تو روزہ رکھ لینا بہتر اور مستحب ہے۔حدیث شریف میں ہے:حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول ﷺ نے فرمایا:’’جب نصفِ شعبان کی رات ہو تو رات کو عبادت کرو اور آئندہ دن روزہ رکھو اس لیے کہ اس میں غروبِ شمس سے فجر طلوع ہونے تک آسمان دنیا پر اللہ تعالیٰ نزول فرماتے ہیں اور یہ کہتے ہیں ہے کوئی مغفرت کا طلب گار کہ میں اس کی مغفرت کروں؟کوئی روزی کا طلب گار کہ میں اس کو روزی دوں؟ ہے کوئی بیمار کہ میں اس کو بیماری سے عافیت دوں ؟ہے کوئی ایسا ؟ ہے کوئی؟ یہاں تک کہ فجر طلوع ہوجاتی ہے‘‘۔(ابن ماجہ)حضرت مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب حفظہ اللہ اپنے رسالے میں پندرھویں شعبان کے روزے کے استحباب پر علماے کرام کی تصریحات اس طرح نقل فرماتے ہیں: علماےحنفیہ:حکیم الامت مجددِ ملت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب قدس سرہ فرماتے ہیں: ’’پندرھویں تاریخ شعبان کو روزہ رکھنا مستحب ہے‘‘۔ (زوال السنہ) حضرت مفتی اعظم پاکستان مفتی شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس کو پندرھویں شعبان کے مسنون اعمال میں شمار فرمایا یعنی اس کی صبح کو روزہ رکھنا مستحب ہے۔علامہ قطب الدین محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے مشکو ۃ شریف کی شرح مظاہر حق، باب صیام التطوع میں جلد۲،ص ۳۶۴پر پندرھویں شعبان کا روزہ بھی شمار فرمایا ہے۔علماے مالکیہ: شیخ دردیر مالکی رحمۃ اللہ علیہ نےپندرھویں شعبان کا روزہ مستحب قرار دیا ہے۔ (بلغة السالك لأقرب المسالك) علماے حنابلہ:شیخ مردلوی حنبلی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب ’’الانصاف‘‘ میں تحریر فرمایا کہ: ’’شیخ ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہ نے ’’المستوعِب‘‘میں لکھا ہے کہ شعبان کے روزوں میں پندرھویں شعبان کا روزہ زیادہ مؤ کدہ ہے‘‘۔نیز ابن رجب حنبلی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی فرمایا:’’پندرھویں شعبان کے روزے کا حکم خصوصیت سے آیا ہے‘‘۔(ملخص از رسالہ:شب براءت کی حقیقت ، از مفتی محمدتقی عثمانی صاحب دامت برکاتہ )اسی طرح فتاویٰ ہندیہ اور مراقی الفلاح میں بھی پندرہ شعبان کے روزے کو مستحب قرار دیا گیا ہے۔ فتاویٰ ہندیہ میں ہے: ’’اور جن روزوں کی ترغیب دی گئی ہے وہ مختلف ہیں پہلا محرم کا روزہ ،دو سرا رجب کا روزہ اور تیسرا شعبان کا روزہ ‘‘۔مراقی الفلاح میں ہے: ’’ہر وہ روزہ جو شریعت میں مطلوب ہو اور اس پر ثواب کا وعدہ ہو وہ بھی مستحب ہوتا ہے‘‘۔

لرننگ پورٹل