لاگ ان
جمعہ 11 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 07 اکتوبر 2022
لاگ ان
جمعہ 11 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 07 اکتوبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 11 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 07 اکتوبر 2022
جمعہ 11 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 07 اکتوبر 2022

آفس میں یہ ہوتا تھا كہ لوگ وضو كرلیتے تھے اور پاؤ ں نہیں دھوتے تھے كیونكہ) socks موزے (وغیرہ پہنے ہوتے تھے۔ اور پھرمسجد میں جاكر شوز اتاركر) socks موزے (اتار كر مسجد میں پاؤں دھو لیتے تھے، تو وہاں پر كچھ لوگوں نے ان سے كہا تھا كہ اس طرح وضو نہیں ہوتا، كیونكہ اگر وضو كرتے وقت پہلا حصہ سوكھ جائے اور آپ نے دوسرا حصہ نہیں دھویا تو اس سے وضو نہیں ہوتا، تو آفس میں بہت سارے لوگوں نے یہ سمجھ لیا كہ یہ بات  لازمی ہے۔

 سوال یہ ہے كہ قدوری شریف میں وضو كے باب میں فرض، سنت، مستحب كی عبارت الگ الگ ہے، اور مستحب كی عبارت میں لكھا ہے ہر عضو كو پے در پے دھونا۔ مطلب كہ ایك عضو كے خشك ہونے سے پہلے دوسرا عضو دھولینا۔ تو سوال یہ ہے كہ یہ مستحب عمل ہے یا ضروری عمل ہے، اگر كوئی شخص ایسا كرلیتا ہے كہ باقی سارا وضو آفس میں كركے پاؤ ں جاكر مسجد میں دھوئےاور اعضاءِ وضو خشك  ہوجائیں تو كیا وضو ہوجائے گا یا دوبارہ  شروع سے كرنا پڑے گا۔ مہربانی کرکے تفصیلی جواب عنایت کیجئے۔ شکریہ

الجواب باسم ملهم الصواب

نبی اكرم صلی اللہ علیہ وسلم كی عادتِ شریفہ تھی كہ وہ پے در پے وضو فرمایا كرتے تھے. اورپے درپے وضو كرنا سنت ہے، یعنی ہر عضو كو دوسرے عضو كے خشك ہونے سے پہلے دھونا سنت ہے، اس كے خلاف كرنا مكروہ ہے۔

تاہم وضوء درست ہوجائے گا، لہذا آفس میں وضوء كرتےوقت پاؤں دھوئے بغیر مسجد چلے جانا خلافِ سنت ہونے كی بناء پر مكروہ ہے، اس لیے آفس میں مكمل وضوء كركے مسجد جایا جائے، یا مسجد میں جاكر ہی پورا وضوء كیا جائے۔

(ومنها الموالاة) وهي التتابع وحده أن لا يخف الماء علی العضو قبل أن يغسل ما بعده في زمان معتدل ولا اعتبار بشدة الحر والرياح ولا شدة البرد ويعتبر أيضا استواء حالة المتوضئ كذا في الجوهرة النيرة.وإنما يكره التفريق في الوضوء إذا كان بغير عذر أما إذا كان بعذر بأن فرغ ماء الوضوء فيذهب لطلب الماء أو ما أشبه ذلك فلا بأس بالتفريق علی الصحيح(الفتاوی الهندية (۱/ ۸)

(ومنها) : الموالاة، وهي أن لا يشتغل المتوضئ بين أفعال الوضوء بعمل ليس منه؛، لأن النبي – صلی الله عليه وسلم – هكذا كان يفعل، وقيل في تفسير الموالاة: أن لا يمكث في أثناء الوضوء مقدار ما يجف فيه العضو المغسول، فإن مكث تنقطع الموالاة.(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (۱/ ۲۲)

(والولاء) بكسر الواو: غسل المتأخر أو مسحه قبل جفاف الأول بلا عذر. حتی لو فني ماؤه فمضی لطلبه لا بأس به( الدر المختار وحاشية ابن عابدين (۱/ ۱۲۲)

(قوله: والولاء) اسم مصدر والمصدر الموالاة… وهو لغة: التتابع… (قوله: غسل المتأخر إلخ) عرفه الزيلعي بغسل العضو الثاني قبل جفاف الأول… وفي شرح المنية: هو أن يغسل كل عضو علی أثر الذي قبله ولا يفصل بينهما بحيث يجف السابق… هذا وقد عرفه في البدائع بأن لا يشتغل بين أفعال الوضوء بما ليس منه… ثم قال: وقيل: هو أن لا يمكث في أثنائه مقدار ما يجف فيه العضو. أقول: يمكن جعل هذا توضيحا لما مر، بأن يقال: المراد جفاف العضو حقيقة أو مقداره، وحينئذ فيتجه ذكر المسح، فلو مكث بين مسح الجبيرة أو الرأس وبين ما بعده بمقدار ما يجف فيه عضو مغسول كان تاركا للولاء، ويؤيده اعتبارهم الولاء في التيمم أيضا كما يأتي قريبا مع أنه لا غسل فيه، فاغتنم هذا التحرير. (الدر المختار وحاشية ابن عابدين(۱/ ۱۲۲)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4566 :

لرننگ پورٹل