لاگ ان / رجسٹر
پیر 15 شوال 1443 بہ مطابق 16 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 15 شوال 1443 بہ مطابق 16 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 15 شوال 1443 بہ مطابق 16 مئی 2022
پیر 15 شوال 1443 بہ مطابق 16 مئی 2022

میرے شوہر pharma (دواء سازكمپنی) میں ماركیٹنگ پروڈكٹ مینیجر ہیں، جو ڈاكٹرز كے لیے كمپنی كی طرف سے پروڈكٹ كی سیل بڑھانے كے لیےكمپنی events (تقریبات) اور ان كے لیے تحائف وغیرہ كا بھی بندوبست كرتے ہیں، تو كیا یہ تحائف وغیرہ دینا رشوت ہے؟ كیا ماركیٹنگ كی نوكری كرنا جائز ہے؟ برائے مہربانی رہنمائی فرمادیں۔ جزاک اللّہ خیرا۔

الجواب باسم ملهم الصواب

تحائف دینے کے بارے میں اصول یہ ہے کہ ایسے معمولی تحائف (مثلاً ڈائیری، کیلینڈر، بال پین، وال کلاک وغیرہ) جو ہر کسی کو دیے جاتے ہیں اوران سے مقصود اپنی پروڈکٹ کی تشہیر یا سیل پڑھانا ہے، نہ کہ کوئی رشوت وغیرہ کہ جن کے دینے کی وجہ سے آدمی اخلاقی طور پر اس  مخصوص کمپنی كی پروڈكٹ كو تجویز كرنے پر مجبور نہ ہو درست ہے۔ لیکن اس کے برعکس  ایسے تحائف (مثلاً موبائل فون، اے سی(A.C) ، گاڑی وغیرہ دینا) کہ جن کے دینے کی وجہ سے ایک باختیار آدمی اخلاقی دباؤ میں آکر مخصوص کمپنی كی پروڈكٹ تجویز  كرنے پر مجبور ہوجائے درست نہیں ،اس سےاجتناب كرنا لازمی ہے ۔

لہذا مذكورہ صورت میں  آپ كے شوہر جس دوا ساز كمپنی كے نمائندہ كے طورپر ادویات متعارف كروانےیا سیل پڑھانے كی غرض سے ڈاكٹر حضرات سے ملتے ہیں جس میں ان كی كمپنی كی ادویات مریضوں كے لیے زیادہ مفید اور كم قیمت میں دستیاب ہوسكتی ہیں، تو بغیر كسی شرط كے ڈاكٹرز كا مخصوص وقت دینے كی وجہ سے ان كوشكریہ كے طورپر تحائف وغیرہ دینے یا كمپنی كی تقریبات میں ان كو مدعوكرنے میں كوئی حرج نہیں، اس  طرح  دیا گیا تحفہ بھی وصول كرنےمیں كوئی ممانعت نہیں۔ لیكن اگر ان ڈاكٹرز حضرات سے ملنا اس غرض سے ہو كہ مریضوں كو اسی كمپنی كی ادویات تجویز كی جائیں گی تاكہ كمپنی كی سیل بڑھ جائے۔ چاہے دوسری كمپنیوں كی ادویات ان سے زیادہ بہتر اور كم دام میں دستیاب ہوں اور اسی سلسلہ میں  تحائف  دینا اور لینا یا اس طرح كی دیگر سہولیات كے ساتھ مشروط ہو توایسا كرنا رشوت كے زمرہ میں آتا ہے، اس سے اجتناب كرنا لازمی ہے۔ اسی طرح غیر شرعی یا غیر قانونی امور كی انجام دہی كے لیے دیئے گئے تحائف وصول كرنا بھی ممنوع ہے۔ نیز ماركیٹنگ كی نوكری كرنا جائز ہے بشرطیكہ اس میں رشوت لینے دینےیا كسی بھی غیر شرعی كام میں براہ راست معاونت نہ ہوتی ہو۔

حعن عبد الله بن عمرو قال: لعن رسول الله صلی الله عليه و الراشي والمرتشي. هذا حديث حسن صحيح. (سنن الترمذي ت بشار (۳/ ۱۶)

الرشوة في اللغة إدلاء الدلو في البير، وقال فقهاؤنا: يجوز إعطاء الرشوة إذا كان مظلوماً، وإن كان ظالماً أو كان له غرض فاسد فلا يجوز، والراشي المعطي، والمرتشي الآخذ، ووقع في بعض كتباللغة حديث: «لعن الله الراشي والمرتشي والرائش» إلخ، والرائش الوكيل بين الراشي والمرتشي. (العرف الشذي شرح سنن الترمذي (۳/ ۷۲)

الهدية مال يعطيه ولا يكون معه شرط والرشوة مال يعطيه بشرط أن يعينه كذا في خزانة المفتين. (الفتاوی الهندية (۳/۳۳۰)

وذكر الأقطع أن الفرق بين الهدية والرشوة أن الرشوة ما يعطيه بشرط أن يعينه والهدية لا شرط معها اهـ. (البحر الرائق شرح كنز الدقائق (۶/۲۸۵)

وروی الخصاف من حديث أبي هريرة – رضي الله عنه – عن النبي – صلی الله عليه وسلم – أنه قال: «لعن الله الراشي والمرتشي، والرائش ملعون، والراشي المعطي، والمرتشي الآخذ، والرائش الذي يسعی بينهما ليسوي أمره».(البناية شرح الهداية (۹/ ۹)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4578 :

لرننگ پورٹل