لاگ ان
ہفتہ 16 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 10 دسمبر 2022
لاگ ان
ہفتہ 16 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 10 دسمبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
ہفتہ 16 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 10 دسمبر 2022
ہفتہ 16 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 10 دسمبر 2022

کیا اردو تحریر کو اردو رسم الخط کے بجائے رومن میں لکھنا جائز ہے؟ بعض دوستوں کا خیال ہے کہ اردو کارسم الخط درحقیقت عربی رسم الخط ہے جوکہ قرآن و حدیث کا رسم الخط ہے، اب ایک سوچی سمجھی سازش کےتحت اسے عربی رسم الخط سے انگریزی رسم الخط میں تبدیل کیا جارہا ہے جسے رومن کانام دیا گیاہے، جو جائز نہیں ہے۔ مفتیان کرام سے گزارش ہے اس حوالے سے شرعی رہنمائی فرمادیں۔ 

الجواب باسم ملهم الصواب

حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: روی الترمذی عن أبی هريرة أن رسول الله ﷺ تلا هذه الآیة: وإن تتولوا يستبدل قوما غیرکم ثم لا یکونوا أمثالکم، قالوا یا رسول الله ﷺ! من هؤلاء الذین ذکر الله إن تولینا استبدلوا بنا ثم لا یکونوا أمثالنا فضرب علی فخذ سلمان الفارسی ثم قال: هذا وقومه ولو کان الدین عند الثریا لتناوله رجال من الفرس. وفی الدر المختار کما صح (الشروع فی الصلاة) لو شرع بغیر عربیة أی لسان کان وخصه البردعی بالفارسیة لمزیتها لحدیث لسان أهل الجنة العربیة والفارسیة الدریة بتشدید الراء. قهستانی.

قرآن مجید سے بواسطہ تفسیر مرفوع اور حدیث سے بلا واسطہ فضیلت علمائے فارس کی اور روایت فقہیہ سے فضیلت زبان فارسی کی صاف ظاہر ہے، اور مشاہد ہے کہ علمائے فارس کا عظیم المقدار ذخیرہ علم دینی (جو کہ بناء ہے فضیلت اولیٰ کی) زبان فارسی میں موجود ہے، تو اس سے بھی اس واسطہ سے زبان فارسی کی فضیلت مفہوم ہوئی، اور امام بردعی ومن وافقہ من العلماء کی تصریح سے معلوم ہوا کہ عربی کے بعد ائمہ اسلام کی ایک جماعت کے نزدیک درجہ فارسی کا ہے، اور یہ ظاہر ہے کہ فارسی اور اردو اپنے مادہ کے اعتبار سے بالکل متقارب ہیں، گویا کہ وہ فارسی ہی سے مقتبس ہے دونوں میں صرف روابط و مصادر اور قلیل لغات ہی کا تفاوت ہے، چنانچہ اصل بانی اردو کے وہی لوگ ہیں جن کی زبان فارسی تھی، صرف بعض اتباع کی رعایت سے بعض لغات دوسری زبان کے مغلوب  طور پر اس میں داخل کرنا گوارا کر لیا بلکہ عربی لغات اردو میں اصلی زبان فارسی سے بھی زیادہ مستعمل ہیں، تو اسی بناء پر اردو عربی وفارسی ہی کے توابع و لواحق سے ہے۔ اور تابع ولاحق بحکم متبوع وملحق بہ ہوتا ہے۔ پس فارسی کی سی فضیلت اور ترجیح دوسری زبانوں پر اردو کو بھی حاصل ہوگی۔ پس ایسی زبان کی مذمت کرنا قواعد شرعیہ کی رو سے نہایت مستقبح اور مستنکر ہے۔ اور اگر علیٰ سبیل التنزل اس تفاضل سے قطع نظر کر کے سب السنہ کی تساوی ہی تسلیم کر لی جائے تو وہ تساوی صرف فی نفسہ ہوگی نہ کہ مطلقا، کیونکہ اس کا انکار نہیں ہو سکتا کہ ہمارے ملک ہند میں بعد عربی کے علوم دینیہ کا ذخیرہ جس قدر فارسی اور اردو میں ہے کسی اور زبان میں نہیں۔ خصوص انگریزی اور برہمی میں تو ہے ہی نہیں۔ 

اس اعتبار سے فارسی اور اردو کو دوسری زیر بحث زبانوں پر شرعی طور پر فوقیت  حاصل ہوگی، اور چونکہ علوم دینیہ بلا کلام مطلوب ہیں اور مقدمہ مطلوب کا سمعاً و عقلاً مطلوب ہوتا ہے اس لیے غیر فارغ للعربیہ کو اردو و فارسی میں مناسبت پیدا کرنا شرعاً مطلوب ہوگا، ولو لغیرہ۔ پس اس حالت میں اس کی تحصیل (جہاں دوسرا سہل ذریعہ علوم دینیہ کے سہل ہونے کا مقفود ہے) ضروری ہے اور اس سے  مزاحمت کرنا مقصود شرعی کی مزاحمت ہے۔ نیز اردو  فارسی جاننے والوں میں صلحاء کثرت سے پائے جاتے ہیں اور انگریزی و برہمی جاننے والوں میں اتنی کثرت نہیں۔ اردو فارسی میں مشغول ہونے والے کو آسانی سے صحبت صلحاء کی میسر ہو سکتی ہے بخلاف انگریزی و برہمی کے اور جس طرح مقدمہ مطلوب کا مطلوب ہے اسی طرح مقدمہ متروک کاشرعاً  متروک  ہے۔ اس حیثیت سے بھی اردو فارسی میں محمودیت و مطلوبیت اور انگریزی و برہمی میں مذمومیت و متروکیت  کی صفت ثابت ہوگی۔ اور اس مبحث میں احقر کا رسالہ تحقیق تعلیم انگریزی قابل مطالعہ ہے۔  باقی دنیاوی و دینی ضرورتیں ہر حال میں مستثنیٰ ہیں۔ (ماخوذ از امداد الفتاویٰ: 4\ 506)

واضح رہے کہ مذکورہ فتوے میں اردو زبان کی مطلوبیت اور اس کے شرعی حکم کا دارو مدار اس زبان میں موجود عربی سے مشابہت اور کتب دینیہ کے بیش بہا ذخیرے پر ہے اور ان دونوں چیزوں کا تعلق زیادہ تر اس کے رسم الخط ہی سے ہے، چنانچہ یہی حکم اردو رسم الخط کا ہے کہ اردو رسم الخط کی پابندی کرنا محمود اور اسے چھوڑ کرانگریزی رسم الخط استعمال کرنا مذموم ہے۔ اور جس طرح آخر میں فرمایا کہ ’’دنیاوی و دینی ضرورتیں ہر حال میں مستثنیٰ ہیں‘‘ اس سے ثابت ہوا کہ جب ضرورت یا مجبوری ہو تو بقدر ضرورت رومن رسم الخط میں اردو لکھنا جائز ہوگا۔ اس لیے سوال میں اسے مطلقاً ناجائز کہنا درست نہیں۔

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4401 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔


لرننگ پورٹل