لاگ ان / رجسٹر
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022

عرض ہے کہ والد صاحب سکول ٹیچرتھے جن کی سیلری یونائیٹڈ بینک سیونگ اکاؤنٹ میں آتی رہی اور وہ ہر ماہ وصول کرتے رہے، یہاں تک کہ پنشن آگئی جبکہ ان کو سیونگ یا کرنٹ اکاؤنٹ کیا ہوتا ہے اس بارے میں کچھ علم نہ تھا۔ جب معلوم ہوا تو پنشن کو آئے ہوئے تقریباً دوسال ہو گئے تھے جو تقریباً 15سے20لاکھ تھی تو والد صاحب نے رقم کو کرنٹ اکاؤنٹ میں منتقل کروا دیا۔ ان دوسال کی سٹیٹمنٹ کے مطابق تقریباً ڈیڑھ لاکھ اضافہ ہوگیا تھا اور زکوۃ بھی کاٹی گئی جو تقریباً 50ہزار تھی۔ اب کیا ہماری زکوۃ ادا ہوئی یا نہیں؟ اس اضافہ کا کیا کریں؟ اور 15سے 20سال سیونگ اکاؤنٹ میں سیلری آتی رہی جو والد صاحب وصول کرلیتے تھے۔ اُس کا کیا حکم ہے؟

الجواب باسم ملهم الصواب

سیونگ اکاؤنٹ میں سودی لین دین کا معاہدہ ہوتا ہے اس لیے سیونگ اکاؤنٹ میں کھاتہ کھولنا جائز نہیں اگر کسی نے لا علمی میں کھلوا لیا تو اس کو ختم کرنا لازم ہے، البتہ اس کے توسط سے اگر تنخواہ وصول کی تو اس تنخواہ کے استعمال کو حرام نہیں کہا جائے گا، لہذا  گذشتہ سالوں میں سیونگ اکاؤنٹ کے ذریعے جس قدر تنخواہ حاصل ہوئی اس کا استعمال درست تھا۔ البتہ جتنی رقم اصل تنخواہ پر سود کے طور پر شامل کی گئی اتنی رقم بلا نیت ثواب کسی مستحق فقیر کو صدقہ کر دیں۔

اسی طرح آپ کے والد صاحب کو پینشن کے طور پر ملنے والی اصل رقم کا استعمال درست ہے لیکن اصل رقم سے اضافی رقم سود ہے، اسے بھی بلا نیت ثواب صدقہ کرنا واجب ہے۔ اس رقم پر گذشتہ دونوں سالوں کی زکوٰۃ ادا کرنا لازمی ہے۔ مثلاً پینشن کی اصل رقم 15 لاکھ تھی اور بینک نے 50 ہزار زکوٰۃ کی کٹوتی اور ڈیڑھ لاکھ سود کے اضافے کے بعد 16 لاکھ روپے ادا کیے تو ایک لاکھ روپے ثواب کی نیت کیے بغیر صدقہ کردیں۔ حکومت نے ایک سال کی زکوٰۃ  تقریبا پچاس ہزار بینک سے وصول کی ہے وہ زکوٰۃادا ہوگئی، اس لیے مزید ایک سال کی زکوٰۃ ادا کریں۔

وعلى هذا قالوا لو مات الرجل وكسبه من بيع الباذق أو الظلم أو أخذ الرشوة يتورع الورثة، ولا يأخذون منه شيئا وهو أولى بهم ويردونها على أربابها إن عرفوهم، وإلا تصدقوا بها لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه اهـ الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 385)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4508 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

لرننگ پورٹل