لاگ ان
جمعہ 15 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 09 دسمبر 2022
لاگ ان
جمعہ 15 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 09 دسمبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 15 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 09 دسمبر 2022
جمعہ 15 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 09 دسمبر 2022

ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سے سوال کیا کہ فلاں شخص کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟ صحابہ کرام نے فرمایا: اے اللہ کے رسول! ہم تو اسے جنت میں دیکھتے ہیں، آپ علیہ السلام نے فرمایا: میں اسے جہنم میں دیکھ رہا ہوں کیونکہ اس نے بیت المال سے ایک چادر چرائی تھی۔ دوسری حدیث میں یہ بھی آیا ہے کہ اس نے مسلمانوں کے ساتھ مل کر کفار کے خلاف جہاد بھی کیا تھا۔ سوال یہ ہے کہ اگر وہ شخص صحابی تھا تو جہنم تو صحابہ کے لیے ہے ہی نہیں تو وہ شخص کس گروہ میں سے تھا؟ اس کی وضاحت فرمادیجیے۔ جزاکم اللہ خیرا

الجواب باسم ملهم الصواب

صحابی اسے کہتے ہیں جسے حالت ایمان میں رسول اللہ ﷺ کی زیارت کا شرف حاصل ہو، اور ایمان ہی پر اس کی موت واقع ہوئی ہو۔ مذکورہ واقعے میں دونوں احتمال موجود ہیں: ایک یہ کہ آپ ﷺ کا اسے جہنم میں قرار دینا تمثیل کے طور پر ہو کہ مال غنیمت میں خیانت جہنم کی طرف لے جانے والا عمل ہے، اس سے حقیقت مراد نہ ہو۔ کیونکہ کسی بھی شخص کا اپنے گناہوں کی وجہ سے جہنم میں داخل ہونا در حقیقت قیامت کے حساب کتاب کے بعد ہی ہوگا۔ اس صورت میں یہ تمثیل بعینہ اس طرح ہوگی جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ کو ان کی موت سے قبل ہی جنت میں موجود پایا۔ 

دوسرا احتمال یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے ا س فرمان مبارک میں عذابِ برزخی کا ذکر ہے۔ اور کسی صحابی کا عذاب برزخی میں اس لیے مبتلا ہونا تاکہ ان کے گناہوں کی مکمل تطہیر ہو جائے اور وہ جہنم کے عذاب سے محفوظ رہیں، یہ عین ممکن ہے۔ چنانچہ  حضرت مولانا مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ لکھتے ہیں: 

’’آیاتِ زیر بحث میں وَكُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰى مذکور ہے اور اس آیت میں جن کے لیے حسنیٰ کا وعدہ ہوا ان کے لیے جہنم کی آگ سے بہت دور رہنے کا اعلان ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ قرآنِ کریم نے اس کی ضمانت دے دی کہ حضراتِ صحابہ سابقین و آخرین میں سے کسی سے بھی اگر عمر بھر میں کوئی گناہ سرزد ہو بھی گیا تو وہ اس پر قائم نہ رہے گا، توبہ کر لے گا یا پھر نبی کریم ﷺ کی صحبت و نصرت اور دین کی خدماتِ عظیمہ اور ان کی بےشمار حسنات کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کو معاف فرما دے گا اور ان کی موت اس سے پہلے نہ ہوگی کہ ان کا گناہ معاف ہو کر وہ صاف و بے باق ہو جائیں، یا دنیا کے مصائب و آفات اور زیادہ سے زیادہ برزخ میں کوئی تکلیف ان کے سیئات کا کفارہ ہو جائے۔

کسی صحابی کو آخرت میں عذاب نہیں ہوگا، جن احادیث میں بعض صحابہ کرام پر مرنے کے بعد عذاب کا ذکر آیا ہے، وہ عذابِ آخرت و عذابِ جہنم کا نہیں،  برزخی یعنی قبر کا عذاب ہے۔ یہ کوئی بعید نہیں ہے کہ صحابۂ کرام میں سے اگر کسی سے کوئی گناہ سرزد ہو اور اتفاقاً توبہ کر کے اس سے پاک ہو جانے کا بھی موقع نہیں ہوا تو ان کو برزخی عذاب کے ذریعے پاک کردیا جائے گا، تاکہ آخرت کا عذاب ان پر نہ رہے۔‘‘ (ماخوذ از معارف القرآن، سورۃ الحدید: 10)

وفيه تأمل; لأن النصوص شاهدة على أن دخول النار حقيقة يكون بعد الحشر، فتحمل هذه الرؤية على وجه التمثيل إشارة إلى أنه سيكون كذلك، كما مثل له صلى الله عليه وسلم دخول بلال في الجنة قبل موته، نعم عذاب القبر حق، لكنه نوع آخر لا بهذا الوجه.

قلت: يحتمل أن يكون في الكلام مجاز أي: علمته في المعصية الموجبة للنار، كما قال تعالى: {إن الأبرار لفي نعيم – وإن الفجار لفي جحيم – يصلونها يوم الدين} . . . ويمكن أنه انكشف له صلى الله عليه وسلم أنه في النار، وما انكشف له أنه من أهل الإيمان، وحقيقة الشهادة متوقفة على الإيمان، كما أن دخول الجنة متفرع عليه، فلا ينبغي الجزم بالشهادة. لا سيما وقد ظهر منه بعض أسباب الشقاوة، وإن كان حصل منه بعض أحوال السعادة، والله أعلم. مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (6/ 2604)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4119 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔


لرننگ پورٹل