لاگ ان / رجسٹر
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022

میرا سوال یہ ہے کہ بہن یا بیٹی شادی ہو جانے کے بعد اپنے شوہر یا سسرال والوں کی ناراضگی سے بچنے کے لئے یا پھر اپنی مرضی سے نامحرم سے پردہ نہ کرے، یا کوئی بھی ایسا عمل جو اللہ رب العزت کی ناراضگی کا باعث بنے، تو کیا والد اور بھائی بھی اس عمل کے جواب دہ ہوں گے؟

الجواب باسم ملهم الصواب

باپ  پر لازم ہے کہ وہ اپنی اولاد کی اخلاقی تربیت کرے، اس کو دینی احکام سکھائے، اگر باپ اس میں کوتاہی کرتا ہے تو اس کوتاہی کے نتیجہ میں اولاد جو گناہ کرے گی اس کا وبال باپ کو بھی بھگتنا پڑے گا اور باپ کی غیر موجودگی میں بھائی کے ذمہ اپنی بہن کی اخلاقی تربیت لازم ہے تو اگر بھائی نے اس تربیت میں کوتاہی کی تو وہ بھی گناہ گار ہوگا، لیکن نکاح کے بعد عورت کی تمام تر ذمہ داریاں اس کے شوہر کی ہوتی ہیں اور اس پر لازم ہوتا ہے کہ وہ اپنی بیوی کو کسی غلط کام کا حکم نہ دے یا بیوی از خود کوئی غیر شرعی کام کرے تو اس پر اس کو تنبیہ کرے۔ لہذا اگر کوئی عورت سسرال والوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے یا اپنی مرضی سے پردہ نہیں کرتی تو وہ سخت گناہ گار ہے، اس کے شوہر پر لازم ہے کہ وہ اس کو پردے کا پابند بنائے اور اس کے والد اور بھائی بھی اس کو اس پر تنبیہ کریں اس کے باوجود اگر وہ پردہ نہیں کرتی تو باپ اور بھائی گناہ گار نہیں ہوں گے۔

((فإنما إثمه علي أبيه)) أي جزاء الإثم عليه حقيقة، ودل هذا الحصر علي أن الإثم علي الوالد مبالغة؛ لأنه لم يتسبب لما يتفادى ولده من إصابة الإثم. (شرح المشكاة للطيبي الكاشف عن حقائق السنن، 7/ 2284)

عن ابن عمر: قوله: ((الذي يقر في أهله)) أي الذي يرى فيهن ما يسوءه ولا يغار عليه ولا يمنعهن، فيقر في أهله الخبث. (شرح المشكاة للطيبي الكاشف عن حقائق السنن، 8/ 2556)

وكل من جعله الله أمينًا على شيء فواجب عليه أداء النصيحة فيه، وبذل الجهد في حفظه ورعايته؛ لأنه لا يُسأل عن رعيته إلا من يلزمه القيام بالنظر لها وإصلاح أمرها. (التوضيح لشرح الجامع الصحيح، 25/ 32)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4700 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

لرننگ پورٹل