لاگ ان
منگل 09 رجب 1444 بہ مطابق 31 جنوری 2023
لاگ ان
منگل 09 رجب 1444 بہ مطابق 31 جنوری 2023
لاگ ان / رجسٹر
منگل 09 رجب 1444 بہ مطابق 31 جنوری 2023
منگل 09 رجب 1444 بہ مطابق 31 جنوری 2023

ایسے کاغذات یا لفافے جن پر یاد دہانی کے طور پر مسلمان بھائیوں کے نام تحریر کیے جاتے ہوں، کیااستعمال کے بعد مقدس حروف کو کاٹ کر یا مٹا کر ضائع کیے جاسکتے ہیں؟ نیز اخبارات پر موجود قرآنی آیات کا کیا حکم ہے؟ جزاك اللہ خیرا۔

الجواب باسم ملهم الصواب

 ایسے كاغذات یالفافے جن پر مسلمان بھائیوں كے نام تحریر كیے جاتے ہوں، جن ناموں میں بعض مقدس کلمات بھی ہوتے ہیں، مثلا عبد اللہ، عبدالرحمان، محمد وغیرہ، توان میں دیگر تحریروں کے مقابلے میں ان متبرک کلمات کا تناسب بہت ہی کم ہوتاہے، اس لئے ادب واحترام کے معاملے میں ان کا معاملہ قرآن کریم کے مقدس اوراق سےمختلف ہے۔ البتہ جہاں تک ممکن ہو، ایسے اوراق کا ادب ملحوظ رکھنا ضروری ہے، اس لئے عام کاغذات یا اخبار ورسائل کےمتبرک کلمات والے حصے کی حفاظت اور ادب واحترام کے سلسلے میں حکم یہ ہے کہ اگر کاغذات یا اخبار کےمتبرک حصے کو الگ کرنا ممکن ہوتو الگ کردینا چاہیے اوراس کے بعد کسی بوری میں بند کرکے کسی محفوظ جگہ میں، جہاں لوگوں کی آمد ورفت نہ ہو، دفن کردیا جائے، یا اگر دفن کرنا ممکن نہ ہو تو وزنی پتھر باندھ کر سمندر میں احتیاط سے ڈال دیا جائے تاکہ وہ تہہ میں چلے جائیں، اور اگر یہ دونوں صورتیں ممکن نہ ہوں تو اس متبر ک حصے پر پاک روشنائی وغیرہ پھیردی جائے کہ وہ الفاظ بالکل نظرنہ آئیں، اس کے بعد اوراق کو جلا دیا جائے اور راکھ کو کسی محفوظ مقام پر دفن کردیا جائے۔
 نیزاخبارات میں قرآنِ کریم کی آیات کو شائع کرنا خلافِ ادب ہے، لہٰذا اس سے احتراز لازم ہے، نیز بہتر یہی ہے كہ صرف ترجمہ لكھا جائے۔ اور ایسے اخبارات جن میں قرآنِ پاک کی آیات لکھی ہوئی ہوں، اس کو ردی میں پھینکنا قرآن کی توہین ہے، اس لئےان كو کسی محفوظ جگہ رکھنا چاہئے، تاکہ بے ادبی نہ ہو۔
 وفي "جامع شمس الأئمة": الرسائل والآثار والكتب التي لا منفعة فيها يمحی عنها اسم الله وملائكته ورسله، ويحرق بالنار فلو ألقاها في الماء الجاري أو دفنها لا بأس به. والدفن أحسن كما في الأنبياء والأولياء إذا ماتوا، وكذا جميع الكتب إذا بليت وخرجت عن الانتفاع. (البناية شرح الهداية،۱۲/۲۳۸)
 (قوله الكتب إلخ) هذه المسائل من هنا إلی النظم كلها مأخوذة من المجتبی كما يأتي العزو إليه (قوله كما في الأنبياء) كذا في غالب النسخ وفي بعضها كما في الأشباه لكن عبارة المجتبی والدفن أحسن كما في الأنبياء والأولياء إذا ماتوا، وكذا جميع الكتب إذا بليت وخرجت عن الانتفاع بها اهـ. يعني أن الدفن ليس فيه إخلال بالتعظيم، لأن أفضل الناس يدفنون. وفي الذخيرة: المصحف إذا صار خلقا وتعذر القراءة منه لا يحرق بالنار إليه أشار محمد وبه نأخذ، ولا يكره دفنه، وينبغي أن يلف بخرقة طاهرة، ويلحد له لأنه لو شق ودفن يحتاج إلی إهالة التراب عليه، وفي ذلك نوع تحقير إلا إذا جعل فوقه سقف وإن شاء غسله بالماء أو وضعه في موضع طاهر لا تصل إليه يد محدث ولا غبار، ولا قذر تعظيما لكلام الله عز وجل اهـ. (حاشية ابن عابدين،۶/۴۲۲)
 (قوله: رقية إلخ) الظاهر أن المراد بها ما يسمونه الآن بالهيكل والحمائلي المشتمل علی الآيات القرآنية، فإذا كان غلافه منفصلا عنه كالمشمع ونحوه جاز دخول الخلاء به ومسه وحمله للجنب. ويستفاد منه أن ما كتب من الآيات بنية الدعاء والثناء لا يخرج عن كونه قرآنا، بخلاف قراءته بهذه النية فالنية تعمل في تغيير المنطوق لا المكتوب اهـ من شرح سيدي عبد الغني.(قوله: لاحترامه) أي بسبب ما كتب به من أسماء الله تعالی ونحوها، علی أن الحروف في ذاتها لها احترام.(قوله: لا يلقی) أي ما ذكر من الحشيش والكناسة.(قوله: في كاغد) هو القرطاس معربا قاموس، وهو بفتح الغين المعجمة كما نقل عن المصباح. (قوله: فيجوز محوه) المحو: إذهاب الأثر كما في القاموس. قال ط: وهل إذا طمس الحروف بنحو حبر يعد محوا يحرر.(قوله: ومحو بعض الكتابة) ظاهره ولو قرآنا، وقيد بالبعض لإخراج اسم الله تعالی ط. (قوله: وقد ورد النهي إلخ) فهو مكروه تحريما؛ وأما لعقه بلسانه وابتلاعه فالظاهر جوازه ط. (قوله: ومن فيهن) ظاهره يعم النبي – صلی الله عليه وسلم -، والمسألة ذات خلاف والأحوط الوقف، وعبر بمن الموضوعة للعاقل؛ لأن غيره تبع له، ولعل ذكر هذا الحديث للإشارة إلی أن القرآن يلحق باسم الله تعالی في النهي عن محوه بالبزاق، فيخص قوله ومحو بعض الكتابة إلخ بغير القرآن أيضا، فليتأمل ط. (حاشية ابن عابدين،۱/۱۷۸)
 

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4682 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


لرننگ پورٹل