لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022

ایك اسكیم جاری كی گئی ہے، جس میں كار، موٹرسائیكل، سائیكل، جوسر سیٹ، جنریٹر، فرج، اورمتعین رقم كی كچھ نقدی، اسی طرح ٹی وی، اےسی، فرنیچرسیٹ وغیرہ وغیرہ، یعنی چھوٹی بڑی ہرقسم كی اشیاء موجود ہیں۔ اور اس میں ہرممبر كو انعام لازمی دیا جائے گا، لیكن شرط یہ ہے كہ ہرماہ 500روپے جمع كروانا ہوں گے۔ نیزیہ اسكیم17ماہ تك چلتی رہے گی، جس میں ہرماہ قرعہ اندازی كے ذریعے نكلنے والے انعامات اسكیم میں شامل ممبروں  كودیے جائیں گے۔ جس ممبر كا ایك مرتبہ انعام نكل گیا، توآئندہ اس سےمزید رقم  نہیں لی جائے گی۔ جس كا جو نصیب ہوگا وہ اسے مل جائے گا۔ سوال یہ ہے كہ درج بالا اسکیم کی شرعاً کیاحیثیت ہے؟ آیا یہ لاٹری اور جوئے کی  صورت میں تو نہیں آتی؟ یا شرعاً اس میں کچھ جواز پایا جاتا ہے؟ جزاك اللہ خیرا۔

الجواب باسم ملهم الصواب

سوال میں جس قسم کی انعامی اسكیم  کا ذکرکیا گیا ہےاس میں شریک ہونا اور انعام حاصل کرنا جائز نہیں، کیونکہ جب رقم اس طرح داؤ پر لگائی جائے کہ یا تو یہ رقم اپنے ساتھ اضافی رقم كا انعام بھی کھینچ لائے گی، یااس رقم سے كم كاانعام ملنے كااحتمال ہوگا، تو شریعت کی اصطلاح میں اس کو قمار’’جوا‘‘ کہتے ہیں اور جوا کھیلنا اور انعام حاصل کرنا حرام اور ناجائز ہے۔ لہذامذكورہ بالا اسكیم چلانا یا اس کےذریعہ انعامات حاصل کرنا شرعاًجائز نہیں ہے، اس سے اجتناب لازم ہے۔

وصورة ذلك: أن يقول الرجل لغيره: تعال حتی نتسابق، فإن سبق فرسك، أو قال: إبلك أو قال: سهمك أعطيك كذا، وإن سبق فرسي، أو قال: إبلي، أو قال: سهمي أعطني كذا، وهذا هو القمار بعينه؛ وهذا لأن القمار مشتق من القمر الذي يزداد وينقص، سمي القمار قماراً؛ لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلی صاحبه، ويستفيد مال صاحبه، فيزداد مال كل واحد منهما مرة وينتقص أخری، فإذا كان المال مشروطاً من الجانبين كان قماراً، والقمار حرام، ولأن فيه تعليق تمليك المال بالخطر، وإنه لا يجوز(المحيط البرهاني،۵/۱۵۷)

مطلب كل قرض جرنفعاحرام(قوله كل قرض جرنفعاحرام)أي إذاكان مشروطاكماعلم ممانقله عن البحر،وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطافي القرض، فعلی قول الكرخي لا بأس به ويأتي تمامه. (حاشية ابن عابدين،۵/۱۶۶)

ذكر الناطفي أن القرعة ثلاث: الأولی لإثبات حق البعض وإبطال حق البعض وإنها باطلة كمن أعتق أحد عبديه بغير عينه ثم يقرع(الفتاوی الهندية،۵/۲۱۷)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4707 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

لرننگ پورٹل