لاگ ان / رجسٹر
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022

ربیع الاول كا روزہ ركھنا یا كوئی نفلی عبادت احادیث میں منقول ہے یا نہیں، اور اس دن محافل سجانا، كھانا تقسیم كرنا كہ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم كو ثواب پہنچانے كی نیت ہوتو كیا یہ جائز ہے یا نہیں، اور اس دن محافل سجانا، یا گھروں میں روشنیاں وغیرہ كرنا كیسا ہے؟  

الجواب باسم ملهم الصواب

ربیع الاول  كےمہینے میں روزہ ركھنے یا كوئی خاص نفلی عبادت  كرنے كے بارے میں احادیث منقول نہیں، نیزاس مہینے میں ولادتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مناسبت سے گھروں کو سجانا، چراغاں کرنا، اور جشن كے طورپرکھانا پکانااوربانٹنا اسلامی تعلیمات کا حصہ نہیں ہے، بلکہ یہ سب کرنا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے، اگر کوئی اس كوشرعاً ضروری سمجھتاہے، یا یوں سمجھتا ہے کہ خاص اس مہینہ میں ایسا کرنے سے زیادہ ثواب ہوگا، باقی مہینوں میں نہ ہوگا، تو یہ بدعت ہے، اس سے بچنا لازم ہے۔ اوراگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ثواب پہنچانا مقصود ہو تو اس کے لیے کسی مہینے یا دن کا انتظار نہیں کرنا چاہیے، بلکہ کسی بھی دن جومیسر ہوصدقہ کرکے اس کا ثواب بخش دیاجائے، كیونكہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كو ایصال ثواب کرنا ایک باعثِ سعادت عمل ہے۔

تاہم حسبِ توفیق درود شریف پڑھنے كا اہتمام كرنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم كی تعلیمات كو عام كرنے كی كوشش كرنا اور تمام شعبہ ہائے زندگی میں كھانے، پینے، لباس پوشاك، چال چلن، آپس  كے لین، دین، شادی بیاہ اور دیگر تمام كاموں میں نبی كریم صلی اللہ علیہ وسلم كی اتباع كرنا، اور ہر قسم كی بدعات اور رسومات اور صغیرہ وكبیرہ گناہوں سے اجتناب كرنا ہی اصل محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔

مطلب في إهداء ثواب القراءة للنبي – صلی الله عليه وسلم -[تتمة]… ألا تری أن ابن عمر كان يعتمر عنه – صلی الله عليه وسلم – عمرا بعد موته من غير وصية. وحج ابن الموفق وهو في طبقة الجنيد عنه سبعين حجة، وختم ابن السراج عنه – صلی الله عليه وسلم – أكثر من عشرة آلاف ختمة؛ وضحی عنه مثل ذلك. اهـ…

قلت: وقول علمائنا له أن يجعل ثواب عمله لغيره يدخل فيه النبي – صلی الله عليه وسلم – فإنه أحق بذلك حيث أنقذنا من الضلالة، ففي ذلك نوع شكر وإسداء جميل له، والكامل قابل لزيادة الكمال… كصلاة التشهد وغيرها، وهذا تصريح من هذا الإمام المحقق بفضل طلب الزيادة له – صلی الله عليه وسلم – فكيف مع هذا يتوهم أن في ذلك محذورا، ووافقهم أيضا صاحبهم شيخ الإسلام زكريا اهـ ملخصا.( حاشية ابن عابدين،۲/ ۲۴۴)

ومنها : التزام الكيفيات والهيئات المعينة ، كالذكر بهيئة الاجتماع علی صوت واحد ، واتخاذ يوم ولادة النبي صلی الله عليه وسلم عيداً ، وما أشبه ذلك .ومنها : التزام العبادات المعينة في أوقات معينة لم يوجد لها ذلك التعيين في الشريعة، كالتزام صيام يوم النصف من شعبان وقيام ليلته. كتاب الاعتصام للشاطبي – (۱ /۲۲)

(قوله أي صاحب بدعة) أي محرمة، وإلا فقد تكون واجبة، كنصب الأدلة للرد علی أهل الفرق الضالة… (قوله وهي اعتقاد إلخ) عزاه هذا التعريف في هامش الخزائن إلی الحافظ ابن حجر في شرح النخبة، ولا يخفی أن الاعتقاد يشمل ما كان معه عمل أو لا، فإن من تدين بعمل لا بد أن يعتقده كمسح الشيعة علی الرجلين وإنكارهم المسح علی الخفين وذلك، وحينئذ فيساوي تعريف الشمني لها بأنها ما أحدث علی خلاف الحق المتلقی عن رسول الله – صلی الله عليه وسلم – من علم أو عمل أو حال بنوع شبهة واستحسان ، وجعل دينا قويما وصراطا مستقيما ا هـ فافهم… والحاصل أن المذهب عدم تكفير أحد من المخالفين فيما ليس من الأصول المعلومة من الدين ضرورة إلخ فافهم . الدر المختار وحاشية ابن عابدين ،۱/۵۶۰)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4593 :

لرننگ پورٹل