لاگ ان
جمعہ 15 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 09 دسمبر 2022
لاگ ان
جمعہ 15 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 09 دسمبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 15 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 09 دسمبر 2022
جمعہ 15 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 09 دسمبر 2022

نكاح میں اس قسم كی شرط لگانا كہ اگر طلاق دی تو پانچ لاكھ روپے دینے ہوں گے، یعنی كہ طلاق دینے پر كوئی مالیت یا كوئی ملكیت ٹرانسفركرنی ہوگی، اس طرح كی شرط لگانا كیسا ہے؟ جزاك اللہ خیرا۔

الجواب باسم ملهم الصواب

واضح رہے کہ جمہور فقہاء رحمہم اللہ كے نزدیك مالی جرمانہ لینا شرعاً جائز نہیں ہے، لہذا نکاح میں لڑکی کے خاندان کی طرف سے لڑکے (داماد) پر طلاق کی صورت میں پانچ لاکھ روپے یا كوئی ملكیت وغیرہ ٹرانسفركرنے كی شرط لگانا شرعاً جائز نہیں۔ اس   طریقے سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔ اگر کسی نے اس شرط کے ساتھ نکاح کرلیا تو نکاح منعقد ہوجائے گا اور طلاق کی صورت میں یہ مال لازم نہ ہوگا۔

أن رسول اللہ -صلی اللہ عليه وسلم- قال:« لا يحل مال امرئ مسلم إلا بطيب نفس منه ». (السنن الكبری للبيهقي،۶/۱۰۰)

(قوله لا بأخذ مال في المذهب) قال في الفتح: وعن أبي يوسف يجوز التعزير للسلطان بأخذ المال. وعندهما وباقي الأئمة لا يجوز. اهـ. ومثله في المعراج، وظاهره أن ذلك رواية ضعيفة عن أبي يوسف. قال في الشرنبلالية: ولا يفتی بهذا لما فيه من تسليط الظلمة علی أخذ مال الناس فيأكلونه اهـ ومثله في شرح الوهبانية عن ابن وهبان…والحاصل أن المذهب عدم التعزير بأخذ المال الخ (حاشية ابن عابدين،۴/۶۱)

واللہ أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4655 :

لرننگ پورٹل