لاگ ان
ہفتہ 02 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 26 نومبر 2022
لاگ ان
ہفتہ 02 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 26 نومبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
ہفتہ 02 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 26 نومبر 2022
ہفتہ 02 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 26 نومبر 2022

آج کل کے کورونا کے حالات کے پیشِ نظر عمرہ پر جانے والی خاتون کی طرف سے درج ذیل سوالات موصول ہوئے ہیں، برائے مہربانی رہنمائی فرمائیے۔ 

۱۔ کیا حالت احرام میں فیس ماسک پہنا جا سکتا ہے؟ 

۲۔️ کیا فیس ماسک سلے ہوئے نقاب میں آتا ہے؟ 

۳۔️ کیا اگر عمرہ کے دوران فیس ماسک پہنا جائے تو دم دینا ہوگا؟ 

الجواب باسم ملهم الصواب

حالت احرام میں پورا چہرہ یا چہرے کا چوتھائی حصہ ماسک وغیرہ سے ڈھانکنا اصلا ممنوع ہے، اور اس کی خلاف ورزی کرنے پر جزا لازم ہوتی ہے، موجودہ وبائی بیماری (کورونا) کی وجہ سے اگر ڈاکٹر نے ہمہ وقت چہرے پر ماسک پہننے کو ضروری قرار دیا ہو اور حالت احرام میں بھی ماسک  پہننا ناگزیر ہو تو عذر کی وجہ سے ان شاء اللہ گناہ تو نہیں ہوگا لیکن اس کی جزا لازم ہوگی، ایک دن یا ایک رات یا اس کی مقدار پورا چہرہ یا چہرے کا چوتھائی حصہ ڈھانکنے کی صورت میں ایک دم (بکری) یا چھ مساکین کو پونے دو کلو گندم یا اس کی قیمت صدقہ کرنا  یا تین روزے رکھنا لازم ہے (یعنی ان تین کاموں میں سے کوئی ایک کام کرنا لازم ہے)۔ اور اگر ایک دن یارات کی مقدار سے کم مثلا چار یا پانچ گھنٹے چہرہ ڈھانکا یا ماسک پہنا تو اس صورت میں صدقہ(پونے دو کلو گندم یا اس کی قیمت ) لازم ہے البتہ احتیاط اس میں ہے کہ اس صورت میں بھی ایک دم  (بکری) دے دے یا  چھ مساکین کو پونے دو کلو گندم یا اس کی قیمت صدقہ کر دے یا تین روزے رکھ لے۔

و أما تعصيب الرأس و الوجه فمكروه مطلقاً، موجب للجزاء بعذر أو بغير عذر، للتغليظ إلا ان صاحب العذر غير آثم (غنية الناسك، باب الإحرام، فصل في مكروهات الإحرام، ص: ٩١، ط: إدارة القرآن)

و لو عصب رأسه أو وجهه يومًا أو ليلةً فعليه صدقة، إلا ان يأخذ قدر الربع فدم. (غنية الناسك، باب الجنايات، الفصل الثالث: في تغطية الرأس و الوجه، ص: ٢٥٤، ط: إدارة القرآن)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4689 :

لرننگ پورٹل