لاگ ان
جمعہ 11 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 07 اکتوبر 2022
لاگ ان
جمعہ 11 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 07 اکتوبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 11 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 07 اکتوبر 2022
جمعہ 11 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 07 اکتوبر 2022

سوال: اس بارے میں رہنمائی فرمائیے، کیا یہ واقعہ سچ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک صحابیہ نے آکر اپنے شوہر کے بارے میں شکایت کی کہ اس شخص کے ساتھ رہ کر میں کفر نہیں کر سکتی مجھے خلع چاہیے۔ اگر اس قسم کا واقعہ ہے تو اس کی کیا حقیقت ہے؟

الجواب باسم ملهم الصواب

اس قسم کا واقعہ کتب حدیث میں مذکور ہے، چنانچہ صحیح بخاری میں ہے:

 عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ امْرَأَةَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ أَتَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللهِ ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ مَا أَعْتُبُ عَلَيْهِ فِي خُلُقٍ ، وَلاَ دِينٍ وَلَكِنِّي أَكْرَهُ الْكُفْرَ فِي الإِسْلاَمِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم أَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم : اقْبَلِ الْحَدِيقَةَ وَطَلِّقْهَا تَطْلِيقَة. (صحيح البخاري، كتاب الطلاق، باب الخلع)

ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی بیوی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر کہنے لگی کہ مجھے ثابت بن قیس کے اخلاق اور ان کی دینداری پر کوئی اعتراض نہیں، لیکن میں اسلام میں رہتے ہوئے کفر کو نا پسند کرتی ہوں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تو اسے اس کا باغ (جو مہر میں آپ کو دیا تھا) واپس کرنا چاہتی ہے؟ اس نے کہا جی ہاں۔ اس پر آپ علیہ السلام نے (حضرت ثابت سے) فرمایا: اپنا باغ واپس لے لو اور اسے طلاق دے دو۔
حضرت ثابت رضی اللہ عنہ کی بیوی طبعی طور پر اپنے شوہر کو ناپسند کرنے کی وجہ سے خلع کا مطالبہ کر رہی تھیں، انہیں حضرت ثابت کی دینداری اور آپ کے اخلاق کے بارے میں کوئی شبہہ اور اعتراض نہیں تھا، اس کی وضاحت انہوں نے خود کردی اور پھر کہا کہ میں اگر ان کے ساتھ رہوں تو مجھے اسلام پر رہتے ہوئے اپنے بارے میں کفر کا اندیشہ ہے۔ یعنی کہیں ایسا نہ ہو کہ اسلام کے مقتضیٰ کے خلاف کوئی عمل کر بیٹھوں ،کہ اپنے شوہر کی ناشکری یا اس کی نافرمانی کر لوں۔ چونکہ کفر کا لفظ ناشکری اور نافرمانی کےلیے بھی استعمال ہوتا ہے اس لیے یہی معنی انہوں نے مرادلیے۔ اسلام کے خلاف جو کفر کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے وہ یہاں مراد نہیں۔

أَيْ: لَا أُرِيدُ مُفَارَقَتَهُ لِسُوءِ خُلُقِهِ وَإِسَاءَةِ مُعَاشَرَتِهِ وَلَا لِنُقْصَانٍ فِي دِيَانَتِهِ (وَلَكِنِّي أَكْرَهُ الْكُفْرَ فِي الْإِسْلَامِ) : عَرَّضَتْ عَمَّا فِي نَفْسِهَا مِنْ كَرَاهَةِ الصُّحْبَةِ وَطَلَبِ الْخَلَاصِ بِقَوْلِهَا وَلَكِنِّي أَكْرَهُ الْكُفْرَ أَيْ كُفْرَانَ النِّعْمَةِ أَوْ بِمَعْنَى الْعِصْيَانِ، تَعْنِي لَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ مَحَبَّةٌ وَأَكْرَهُهُ طَبْعًا، فَأَخَافُ عَلَى نَفْسِي فِي الْإِسْلَامِ مَا يُنَافِي حُكْمَهُ مِنْ بُغْضٍ وَنُشُوزٍ وَغَيْرِ ذَلِكَ مِمَّا يُتَوَقَّعُ مِنَ الشَّابَّةِ الْمُبْغِضَةِ لِزَوْجِهَا، فَسَمَّتْ مَا يُنَافِي مُقْتَضَى الْإِسْلَامِ بِاسْمِ مَا يُنَافِيهِ نَفْسَهُ (فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: أَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ؟) : أَيِ: الَّتِي أَعْطَاكِ بِالْمَهْرِ وَهِيَ أَرْضٌ ذَاتُ شَجَرٍ مُثْمِرٍ. (مرقاة المفاتيح، كتاب النكاح، باب الخلع والطلاق)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4730:

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔


لرننگ پورٹل