لاگ ان / رجسٹر
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022

سوال:میں نے ڈرائیور کےساتھ مل کر گاڑی خریدی ہے،جس  میں ہم دونوں کی شراکت داری آدھی آدھی ہے۔میں نےیہ گاڑی ڈرائیور کوچلانےکےلیےاس طور پردی کہ  اس گاڑی سےملنےوالےنفع کو شراکت داری کی بنیاد پرآدھاآدھاتقسیم کیاجائےگا، یعنی ہرماہ وہ مجھےاس گاڑی سےہونےوالاآدھانفع دےگا۔نیزتین سال کی مدت پوری ہونےکےبعدوہ مجھےگاڑی میں میری لگائی ہوئی آدھی رقم  واپس کردےگا۔سوال یہ ہےکہ کیااس طرح کاکیاہومعاملہ مشارکت ہےیامضاربت؟یہ معاملہ کس بنیاد پرطےہواہے ؟ کیایہ معاملہ سودی تو نہیں ہے،اس طرح سےکاروبارکرناجائزہے؟اس   مسئلے میں ہماری رہنمائی فرمائیں؟

الجواب باسم ملهم الصواب

صورتِ مسئولہ میں تین سال کےبعد ایک شریک کی لگائی ہوئی آدھی رقم واپس ہوگی یہ شرط خلافِ شرع ہے۔لہذا اس شرط کے ساتھ یہ معاملہ جائز نہیں۔البتہ اگر معاملہ اس طرح طےکیاجائےکہ گاڑی خریدکرڈرائیور کو چلانےکےلیےدی جائے،جوبھی فائدہ ہوآدھا آپ کاآدھاڈرائیور کا،اس کےبعد جس دن معاملہ ختم کرناچاہیں،گاڑی فروخت کرکےرقم آدھی آدھی تقسیم کرلیں۔اگر دوسراشریک گاڑی رکھناچاہےتو آدھی قیمت آپ کوواپس کردے۔

(قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلی قول الكرخي لا بأس به(حاشية ابن عابدين،۵/۱۶۶)

وإن عمل أحدهما دون الآخر، بأن مرض أو سافر، أو بطل فالأجر بينهما علی ما شرطا؛ لأن الأجر في هذه الشركة إنما يستحق بضمان العمل لا بالعمل لأن العمل قد يكون منه، وقد يكون من غيره كالقصار والخياط إذا استعان برجل علی القصارة والخياطة، أنه يستحق الأجر وإن لم يعمل؛ لوجود ضمان العمل منه وههنا شرط العمل عليهما، فإذا عمل أحدهما يصير الشريك القابل عاملا لنفسه في النصف، ولشريكه في النصف الآخر(بدائع الصنائع ،۶/۷۶)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4848 :

لرننگ پورٹل