لاگ ان
منگل 01 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 27 ستمبر 2022
لاگ ان
منگل 01 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 27 ستمبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
منگل 01 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 27 ستمبر 2022
منگل 01 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 27 ستمبر 2022

سوال: امت مسلمہ پر پانچ نمازیں فرض ہیں، ان کی فرضیت کب ہوئی اور ان کی فرضیت کے دلائل کیا ہیں؟ 

الجواب باسم ملهم الصواب

ہجرت مدینہ سے قبل رسول اللہ ﷺ جب معراج پر تشریف لے گئے تو پانچ نمازیں فرض ہوئیں۔ ان پانچ نمازوں کی فرضیت قرآن کریم سے بھی ثابت ہے اور احادیث متواترہ سے بھی ثابت ہے۔   چنانچہ قرآن کریم میں ارشاد باری تعالی ہے:  

{فَسُبْحَانَ اللَّهِ حِينَ تُمْسُونَ وَحِينَ تُصْبِحُونَ (17) وَلَهُ الْحَمْدُ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَعَشِيًّا وَحِينَ تُظْهِرُونَ (18)} [الروم: 17، 18]

ترجمہ: لہذا اللہ کی تسبیح کرو جب تمہارے پاس شام آتی ہے، اور اس وقت بھی جب تم پر صبح طلوع ہوتی ہے۔ اور اسی کی حمد ہوتی ہے آسمانوں میں بھی اور زمین میں بھی۔ اور سورج ڈھلنے کے وقت بھی (اس کی تسبیح کرو) اور اس وقت بھی جب تم پر ظہر کا وقت آتا ہے۔ 

اس آیت کی تفسیر میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: 

قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ فِي الْقُرْآنِ، قِيلَ لَهُ: أَيْنَ؟ فَقَالَ: قَالَ اللَّهُ تَعَالَی "فَسُبْحانَ اللَّهِ حِينَ تُمْسُونَ" صَلَاةُ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ "وَحِينَ تُصْبِحُونَ" صَلَاةُ الْفَجْرِ "وَعَشِيًّا" الْعَصْرُ "وَحِينَ تُظْهِرُونَ" الظُّهْرُ. (تفسير القرطبي، الروم: 17، 18)

ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: پانچوں نمازوں کا ذکر قرآن کریم میں ہے، پوچھا گیا: (قرآن میں پانچوں نمازوں کا ذکر) کہاں ہے؟ تو آپ نے فرمایا: ارشادِ خداوندی "فَسُبْحانَ اللَّهِ حِينَ تُمْسُونَ" سے مغرب اور عشاء کی نماز، اور "وَحِينَ تُصْبِحُونَ" سے فجر کی نماز، اور "وَعَشِيًّا" سے عصر کی نماز، "وَحِينَ تُظْهِرُونَ" سے ظہر کی نماز مراد ہے۔ 

وَأخرج ابْن أبي شيبَة وَابْن جرير وَابْن الْمُنْذر عَن ابْن عَبَّاس رَضِي الله عَنْهُمَا قَالَ: جمعت هَذِه الْآيَة مَوَاقِيت الصلوة {فسبحان الله حِين تمسون} قَالَ: الْمغرب وَالْعشَاء {وَحين تُصبحُونَ} الْفجْر {وعشيا} الْعَصْر {وَحين تظْهرُونَ} الظّهْر. (الدر المنثور، الروم: 17، 18)

فأوحی الله إلي ما أوحی، ففرض علي خمسين صلاة في كل يوم وليلة، فنزلت إلی موسی صلی الله عليه وسلم، فقال: ما فرض ربك علی أمتك؟ قلت: خمسين صلاة، قال: ارجع إلی ربك فاسأله التخفيف، فإن أمتك لا يطيقون ذلك، فإني قد بلوت بني إسرائيل وخبرتهم"، قال: "فرجعت إلی ربي، فقلت: يا رب، خفف علی أمتي، فحط عني خمسا، فرجعت إلی موسی، فقلت: حط عني خمسا، قال: إن أمتك لا يطيقون ذلك، فارجع إلی ربك فاسأله التخفيف"، قال: "فلم أزل أرجع بين ربي تبارك وتعالی، وبين موسی عليه السلام حتی قال: يا محمد، إنهن خمس صلوات كل يوم وليلة، لكل صلاة عشر، فذلك خمسون صلاة، ومن هم بحسنة فلم يعملها كتبت له حسنة، فإن عملها كتبت له عشرا، ومن هم بسيئة فلم يعملها لم تكتب شيئا، فإن عملها كتبت سيئة واحدة "، قال: "فنزلت حتی انتهيت إلی موسی صلی الله عليه وسلم، فأخبرته، فقال: ارجع إلی ربك فاسأله التخفيف"، فقال رسول الله صلی الله عليه وسلم: "فقلت: قد رجعت إلی ربي حتی استحييت منه". (صحيح مسلم، كتاب الايمان، باب الإسراء برسول الله صلی الله عليه وسلم إلی السماوات، وفرض الصلوات)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4857 :

لرننگ پورٹل