لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022

سوال:میراسوال یہ ہےكہ فاریكس كمپنی جوغیر ملكی مختلف كرنسیوں كی  خریدوفروخت كرتی ہے،جس میں  كسی بھی ملك كی كرنسی، یاسونا چاندی وغیرہ كی بھی خرید وفروخت كی جاسكتی ہے۔كیا اس میں تجارت كرنا جائزہے؟اس كمپنی میں میرااكاؤنٹ Hot forex broker میں ہے،جس میں وہ اسلامك اكاؤنٹ كےنام سےاكاؤنٹ كھولتے ہیں، یعنی اس میں سوداكرنےپرچارجز وغیرہ نہیں لیے جاتے،اورجب  تك چاہے اپنے پاس اكاؤنٹ میں كرنسی وغیرہ  ركھ سكتے ہیں۔سوال یہ ہےكہ كیا اس  میں كرنسی،سوناچاندی وغیرہ كی تجارت كرنا جائز ہے؟كیا اس سےنفع حاصل كرناحلال ہے؟ اس مسئلےمیں ہماری رہنمائی فرمائیں۔ جزاك اللہ خیراً۔

الجواب باسم ملهم الصواب

نیٹ وغیرہ کےذریعےبین الاقوامی مارکیٹ سے forexغیرملکی کرنسیوں کی خریدوفروخت کاجو طریقہ رائج ہےاس میں شركت كرنا اور اس سے نفع حاصل كرنا جائز نہیں،كیوں كہ اس میں قبضہ نہیں ہوتااور قبضےسےپہلے كسی چیز كو فروخت كرنااور اس سےنفع حاصل كرناجائزنہیں ہے۔لہذا فاریکس ٹریڈنگ میں سونے چاندی كی اوردیگر اشیاء كی تجارت كرنا  ناجائزہے۔كیوں كہ  ان اشیاء میں قبضہ نہیں پایاجاتا۔البتہ فاریکس ٹریڈنگ میں غیر ملکی کرنسیوں کی خریدوفروخت جو بینکوں کےتوسط سےہوتی ہے،وہ  دوشرائط كےساتھ جائز ہے۔

۱۔پہلی شرط یہ ہے کہ جو شخص كرنسی فروخت كرےاس كےاكاؤنٹ میں كرنسی موجودبھی ہو،جتنی كرنسی اكاؤنٹ میں موجود ہوگی اس حدتك كرنسی فروخت كرنا جائزہوگا۔

۲۔دوسری شرط یہ ہےکہ جب كرنسی دےكركرنسی خریدی جائےتو خریدنےوالےكےاكاؤنٹ میں كرنسی جمع ہوجائےاور یہ اس طرح جمع  ہوكہ جب چاہے اكاؤنٹ والااس میں سےر قم نكال كراستعمال كرسكے۔

اگریہ دونوں شرطیں موجودہوں گی،توكرنسیوں كی خریدوفروخت كرناجائزہوگااوراگریہ دونوں شرائط نہیں پائی جائیں گی،تو كرنسیوں كی یہ خریدوفروخت جائز نہیں ہوگی۔اگراکاؤنٹ میں ر قم موجود نہ ہو، اوردوافرادرقم(کرنسی)کی خر یدوفر وخت کاسودا کریں،اور دونوں فریق کی جانب سے ادائیگی نہ ہو،اورآخرمیں نفع ونقصان دیکھ کر حساب برابر کرلیاجائےتویہ صورت جائز نہیں ہے۔ (ماخوذ: تجارت کےمسائل کا انسائیکلوپیڈیا،۵/۷۸)

عن ابن عباس، أن رسول الله صلی الله عليه وسلم قال: «من ابتاع طعاما فلا يبعه حتی يستوفيه»، قال ابن عباس: وأحسب كل شيء مثله (صحيح مسلم،۳/۱۱۵۹)

(بيع الثمن بالثمن) أي ما خلق للثمنية ومنه المصوغ (جنسا بجنس أو بغير جنس) كذهب بفضة (ويشترط) عدم التأجيل والخيار و (التماثل) أي التساوي وزنا (والتقابض) بالبراجم لا بالتخلية (قبل الافتراق) وهو شرط بقائه صحيحا علی الصحيح (إن اتحد جنسا وإن) وصلية (اختلفا جودة وصياغة) لما مر في الربا (وإلا) بأن لم يتجانسا (شرط التقابض) لحرمة النساء. (الدر المختار،۵/۲۵۷)

وقيد بقوله وقبضه؛ لأن بيع المنقول قبل قبضه لا يجوز (حاشية ابن عابدين،۵/۷۳)

وشرعا (فضل) ولو حكما فدخل ربا النسيئة… (خال عن عوض)… (بمعيار شرعي) مشروط ذلك الفضل (لأحد المتعاقدين) أي بائع أو مشتر فلو شرط لغيرهما فليس بربا بل بيعا فاسدا (في المعاوضة) (الدر المختار،۵/۱۶۸)

(يدا بيد): ويستفاد منه الحلول والتقابض في المجلس وما من الشروط الثلاثة، إذ المراد بالأول المماثلة بالوزن والكيل، وبالثاني اتحاد مجلس تقابض العوضين بشرط عدم افتراق الأبدان، وبالثالث الحلول لا النسيئة (فإذا اختلفت هذه الأصناف)… والمعنی أنه إذا بيع شيء منها ليس من جنسه، لكن يشاركه في العلة كبيع الحنطة بالشعير، فيجوز التفاضل فيه، وهذا معنی قوله: (فبيعوا كيف شئتم): لكن بشرط وجود الشرطين الآخرين من الشروط المتقدمة لقوله: (إذا كان) ، أي: البيع (يدا بيد)، أي: حالا مقبوضا في المجلس قبل افتراق أحدهما عن الآخر(مرقاة المفاتيح، ۵/۱۹۱۷)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4867 :

لرننگ پورٹل